قومی زبان

اب یہ بات مانی ہے

اب یہ بات مانی ہے وصل رائیگانی ہے اس کی درد آنکھوں میں ہجر کی کہانی ہے جیت جس کسی کی ہو ہم نے ہار مانی ہے چوڑیاں بکھرنے کی رسم یہ پرانی ہے عمر کے جزیرے پر غم کی حکمرانی ہے مل گیا تو وحشت کی داستاں سنانی ہے ہجرتوں کے صحرا کی دل نے خاک چھانی ہے

مزید پڑھیے

کسی حرف میں کسی باب میں نہیں آئے گا

کسی حرف میں کسی باب میں نہیں آئے گا ترا ذکر میری کتاب میں نہیں آئے گا نہیں جائے گی کسی آنکھ سے کہیں روشنی کوئی خواب اس کے عذاب میں نہیں آئے گا کوئی خود کو صحرا نہیں کرے گا مری طرح کوئی خواہشوں کے سراب میں نہیں آئے گا دل بد گماں ترے موسموں کو نوید ہو کوئی خار دست گلاب میں نہیں ...

مزید پڑھیے

وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے

وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے کہ جس طرح کوئی لہجہ بدلتا جاتا ہے یہ آرزو تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ چلیں مگر وہ شخص تو رستہ بدلتا جاتا ہے رتیں وصال کی اب خواب ہونے والی ہیں کہ اس کی بات کا لہجہ بدلتا جاتا ہے رہا جو دھوپ میں سر پر مرے وہی آنچل ہوا چلی ہے تو کتنا بدلتا جاتا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے

ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے تنہائی کے صحرا میں اگر تو نکل آئے کیسا لگے اس پار اگر موسم گل میں تتلی کا بدن اوڑھ کے جگنو نکل آئے پھر دن تری یادوں کی منڈیروں پہ گزارا پھر شام ہوئی آنکھ میں آنسو نکل آئے بے چین کیے رہتا ہے دھڑکا یہی جی کو تجھ میں نہ زمانے کی کوئی خو نکل آئے پھر دل ...

مزید پڑھیے

دل تھا کہ خوش خیال تجھے دیکھ کر ہوا

دل تھا کہ خوش خیال تجھے دیکھ کر ہوا یہ شہر بے مثال تجھے دیکھ کر ہوا اپنے خلاف شہر کے اندھے ہجوم میں دل کو بہت ملال تجھے دیکھ کر ہوا طول شب فراق تری خیر ہو کہ دل آمادۂ وصال تجھے دیکھ کر ہوا یہ ہم ہی جانتے ہیں جدائی کے موڑ پر اس دل کا جو بھی حال تجھے دیکھ کر ہوا آئی نہ تھی کبھی مرے ...

مزید پڑھیے

عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے

عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے ہجر کی پوری رات آتی ہے صبح وصال سے پہلے دل کا کیا ہے دل نے کتنے منظر دیکھے لیکن آنکھیں پاگل ہو جاتی ہیں ایک خیال سے پہلے کس نے ریت اڑائی شب میں آنکھیں کھول کے رکھیں کوئی مثال تو ہونا اس کی مثال سے پہلے کار محبت ایک سفر ہے اس میں آ جاتا ...

مزید پڑھیے

ہر جانب ویرانی بھی ہو سکتی ہے

ہر جانب ویرانی بھی ہو سکتی ہے صبح کی رنگت دھانی بھی ہو سکتی ہے جب کشتی ڈالی تھی کس نے سوچا تھا دریا میں طغیانی بھی ہو سکتی ہے نئے سفر کے نئے عذاب اور نئے گلاب صورت حال پرانی بھی ہو سکتی ہے ہر پل جو دل کو دہلائے رکھتی ہے کچھ بھی نہیں حیرانی بھی ہو سکتی ہے سفر ارادہ کر تو لیا پر ...

مزید پڑھیے

یہی نہیں کوئی طوفاں مری تلاش میں ہے

یہی نہیں کوئی طوفاں مری تلاش میں ہے کہ موسم غم جاناں مری تلاش میں ہے وصال رت ہے مگر دل کو ایسا لگتا ہے ستارۂ شب ہجراں مری تلاش میں ہے میں فیصلے کی گھڑی سے گزر چکی ہوں مگر کسی کا دیدۂ حیراں مری تلاش میں ہے یہ بے یقین سی آسودگی بتاتی ہے کہ ایک قریۂ ویراں مری تلاش میں ہے میں تیرگی ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی کر گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

کچھ بھی کر گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے برف کے پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے اس نے ہنس کے دیکھا تو مسکرا دیے ہم بھی ذات سے نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے ہجر کی تمازت سے وصل کے الاؤ تک لڑکیوں کے جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے بات جیسی بے معنی بات اور کیا ہوگی بات کے مکرنے میں دیر کتنی لگتی ...

مزید پڑھیے

تتلیاں جگنو سبھی ہوں گے مگر دیکھے گا کون

تتلیاں جگنو سبھی ہوں گے مگر دیکھے گا کون ہم سجا بھی لیں اگر دیوار و در دیکھے گا کون اب تو ہم ہیں جاگنے والے تری خاطر یہاں ہم نہ ہوں گے تو ترے شام و سحر دیکھے گا کون جس کی خاطر ہم سخن سچائی کے رستے چلے جب وہی اس کو نہ دیکھے تو ہنر دیکھے گا کون سب نے اپنی اپنی آنکھوں پر نقابیں ڈال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2118 سے 6203