قومی زبان

ہمارے درمیاں عہد شب مہتاب زندہ ہے

ہمارے درمیاں عہد شب مہتاب زندہ ہے ہوا چپکے سے کہتی ہے ابھی اک خواب زندہ ہے یہ کس کی نرم خوشبو ہے مری شب کی حویلی میں یہ کیسا رقص مستی اے دل بے تاب زندہ ہے کہاں وہ سانولی شامیں کہاں وہ ریشمی باتیں مگر اک لمس حیراں کا ابھی زرناب زندہ ہے ابھی تک پانیوں میں سرمئی سائے اترتے ...

مزید پڑھیے

محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا

محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا جو میرے حصے میں آئی ہیں وہ اذیتیں بھی شمار کرنا جلائے رکھوں گی صبح تک میں تمہارے رستوں میں اپنی آنکھیں مگر کہیں ضبط ٹوٹ جائے تو بارشیں بھی شمار کرنا جو حرف لوح وفا پہ لکھے ہوئے ہیں ان کو بھی دیکھ لینا جو رائیگاں ہو گئیں وہ ساری ...

مزید پڑھیے

چمکنے لگا ہے ترا غم بہت

چمکنے لگا ہے ترا غم بہت دیے ہو چلے اب تو مدھم بہت گھٹاؤں میں طوفاں کے آثار ہیں تری زلف ہے آج برہم بہت یہاں لہلہائے ہیں اشکوں میں باغ نہ اترائے پھولوں پہ شبنم بہت یہ وہ دور ہے جس کا درماں نہیں یہ وہ راز ہے جس کے محرم بہت یہ دامان وحشت کی کچھ دھجیاں بنائیں گے لوگ ان سے پرچم ...

مزید پڑھیے

تیری یادوں میں کھوئے رہیں میری جاں

تیری یادوں میں کھوئے رہیں میری جاں اتنی مہلت کسے اتنی فرصت کہاں جس جگہ ٹپ سے آنسو کا قطرہ گرا ایک شعلہ سا بھڑکا وہیں ناگہاں ہم سے کیا پوچھتے ہو ہمیں کیا خبر آگ کیوں لگ گئی آشیاں آشیاں ہم بھٹکتے رہے دشت ظلمات میں پھول ہنستے رہے گلستاں گلستاں ہائے وہ اجنبی لوگ اک شہر کے آشنا ...

مزید پڑھیے

دل کے داغوں میں ستاروں کی چمک باقی ہے

دل کے داغوں میں ستاروں کی چمک باقی ہے شب فرقت ابھی دو چار پلک باقی ہے سرخ ہونٹوں کے دیے ذہن میں روشن ہیں ابھی ابھی افکار میں زلفوں کی مہک باقی ہے بازوؤں میں ترے پیکر کی لطافت رقصاں انگلیوں میں تری باہوں کی لچک باقی ہے قصر پرویز میں گم ہو گئی شیریں کی صدا دامن کوہ میں تیشے کی ...

مزید پڑھیے

آس کے رنگیں پتھر کب تک غاروں میں لڑھکاؤ گے

آس کے رنگیں پتھر کب تک غاروں میں لڑھکاؤ گے شام ڈھلے ان کہساروں میں اپنا کھوج نہ پاؤ گے جانے پہچانے سے چہرے اپنی سمت بلائیں گے قدم قدم پر لیکن اپنے سائے سے ٹکراؤگے ہر ٹیلے کی اوٹ سے لاکھوں وحشی آنکھیں چمکیں گی ماضی کی ہر پگڈنڈی پر نیزوں میں گھر جاؤ گے پھنکاروں کا زہر تمہارے ...

مزید پڑھیے

دل کے صحرا میں کوئی آس کا جگنو بھی نہیں

دل کے صحرا میں کوئی آس کا جگنو بھی نہیں اتنا رویا ہوں کہ اب آنکھ میں آنسو بھی نہیں اتنی بے رحم نہ تھی زیست کی دوپہر کبھی ان خرابوں میں کہیں سایۂ گیسو بھی نہیں کاسۂ درد لیے پھرتی ہے گلشن کی ہوا میرے دامن میں ترے پیار کی خوشبو بھی نہیں چھن گیا میری نگاہوں سے بھی احساس جمال تیری ...

مزید پڑھیے

جگا رہا ہے ترا غم نئے نئے جادو

جگا رہا ہے ترا غم نئے نئے جادو امنڈ رہی ہے غزل سے بہار کی خوشبو چہک رہے ہیں تصور کے باغ میں پنچھی بھٹک رہے ہیں خیالوں کے دشت میں آہو لچک رہا ہے فضاؤں میں خواب کا ریشم بکھر گئے ہیں افق تا افق ترے گیسو نہ جانے کون سی منزل پہ آ گیا ہوں میں نہ جانے کون سی بستی میں رہ گئی ہے تو مرے ...

مزید پڑھیے

لالہ و گل میں بکھر جائیں گے ہم

لالہ و گل میں بکھر جائیں گے ہم کون کہتا ہے کہ مر جائیں گے ہم دن اسی فکر میں کاٹا ہم نے رات آئی تو کدھر جائیں گے ہم اور ہو جائے اندھیرا گہرا زندگی اور نکھر جائیں گے ہم اور برہم ہو نظام ہستی دل یہ کہتا ہے سنور جائیں گے ہم منتظر ہے کوئی کانٹوں سے پرے پاؤں کٹ جائیں مگر جائیں گے ...

مزید پڑھیے

میری دنیا سنگ و آہن ان کی دنیا چاند ستارے

میری دنیا سنگ و آہن ان کی دنیا چاند ستارے عقل کہاں تک دامن کھینچے عشق کہاں تک ہاتھ پسارے اپنی اپنی دھن میں مگن ہیں شاموں صبحوں کے متوالے صبح کے آنسو کون سکھائے رات کے گیسو کون سنوارے آبلہ پا رہ گیروں کو جھرنوں سے دل بہلانے بھی دے عزم جواں کو اور جواں کر اپنی منزل دور ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2120 سے 6203