ہمارے درمیاں عہد شب مہتاب زندہ ہے
ہمارے درمیاں عہد شب مہتاب زندہ ہے ہوا چپکے سے کہتی ہے ابھی اک خواب زندہ ہے یہ کس کی نرم خوشبو ہے مری شب کی حویلی میں یہ کیسا رقص مستی اے دل بے تاب زندہ ہے کہاں وہ سانولی شامیں کہاں وہ ریشمی باتیں مگر اک لمس حیراں کا ابھی زرناب زندہ ہے ابھی تک پانیوں میں سرمئی سائے اترتے ...