قومی زبان

اک عشق نگر سے یہاں اک شہر حسیں کا

اک عشق نگر سے یہاں اک شہر حسیں کا اک آسماں سے اور ہوا ایک زمیں کا کافر ہوں زیاں کا جو میں سوچا بھی کبھی ہو اک داغ ہی کافی ہے مجھے میری جبیں کا اک بار خرد لے گئی تھی اس کی گلی میں پھر ہوش گیا میرا رہا ہو کے وہیں کا حاکم کو فقط حکم لگانے سے غرض ہے سوچا ہی کہاں اس نے مری ہاں یا نہیں ...

مزید پڑھیے

بجا رہا تھا دل‌ جلا رباب تیز دھوپ میں

بجا رہا تھا دل‌ جلا رباب تیز دھوپ میں سلگ رہا تھا شاخ پر گلاب تیز دھوپ میں کبھی تو رات کاٹ لی کسی مقام سرد پر کبھی سہا ہے دشت کا عذاب تیز دھوپ میں کبھی کے راکھ ہو گئے کبھی کے جل مرے سبھی بنے گئے سڑک پہ چند خواب تیز دھوپ میں مجھے ہنسا رلا گئی مجھے بہت سکھا گئی پڑھائی جو حیات نے ...

مزید پڑھیے

ہوش اپنا ہے نہ اس کی کچھ خبر مشکل میں ہوں

ہوش اپنا ہے نہ اس کی کچھ خبر مشکل میں ہوں کیا کہوں اے نامہ بر میں کس قدر مشکل میں ہوں گھر سے باہر بھی تعاقب میں عجب اک خوف ہے دوڑتے ہیں کاٹنے کو بام و در مشکل میں ہوں یہ اکیلا پن جو میرا ہمدم و دم ساز تھا وہ بھی ساتھ اپنے اٹھا لایا ہے ڈر مشکل میں ہوں ہو گئے بازار ویراں باغ خالی ہو ...

مزید پڑھیے

دل کی لگی میں اب جو سرہانے لگا ہوں میں

دل کی لگی میں اب جو سرہانے لگا ہوں میں مدت کے بعد اپنے ٹھکانے لگا ہوں میں دیوانگی کو دیکھ تو کس انتہا کی ہے تجھ سے نکل کے خود میں سمانے لگا ہوں میں پتھر کا بت بنا رہا اک عمر جانے کیوں تجھ سے ملا تو اشک بہانے لگا ہوں میں مخلوق کا ہے کام ہی جلتی پہ تیل کا اپنی لگی کو آپ بجھانے لگا ...

مزید پڑھیے

سڑک کے دونوں طرف خیرت ہے

آسمان کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک اڑ رہی ہے رنگ برنگی موت پتنگوں کی طرح بل کھاتی ہوئی جس کی ڈور گلی کے منچلے لڑکوں کے ہاتھوں میں ہے بکھرتے چاند کی ادھ جلی پرچھائیں سے بنے رتھ پر سوار جھومتے ہوئے آتے ہیں آوارہ کتے جو بھونکتے ہیں کبھی دھیمی اور کبھی تیز آواز میں سمجھ دار ...

مزید پڑھیے

کتھارسس

ہم انہیں پالتے ہیں اپنے بچوں کی طرح اپنا خون پلا کر اپنے حصے کا رزق کھلا کر انہیں سیر کراتے ہیں میلے ٹھیلے اور بازاروں کی اپنی انگلی تھما کر کبھی انہیں رزق برق لباس پہنا کر چھوڑ دیتے ہیں گھنے جنگل میں بے تحاشہ رقص کرنے کے لیے کبھی کہتے ہیں ندی کے کنارے پھسلن بھری ڈھلان پر دوڑ کر ...

مزید پڑھیے

بھیک

کسی مندر کی گھنٹی سے ڈرا سہما ہوا بھگوان اک ٹوٹے ہوئے ویران گھر میں جا چھپے گا اور پجاری خون میں ڈوبے ہوئے ترشول لے کر دیویوں اور دیوتاؤں کو پکاریں گے صلیبیں بھی سبھی خالی ملیں گی ہر طرف گرجا گھروں میں کیوں کہ سب معصوم طینت لوگ گلی کے موڑ پر سولی سے لٹکے دعائے مغفرت میں ہر گھڑی ...

مزید پڑھیے

اپنی مرضی کے خلاف

وہ جو مستقبل کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ماضی کا قہوہ پی رہے ہیں حال بہت بڑی بساط ہے شطرنج کی ان کے لیے اور عام آدمی وہ مہرہ جو پٹ رہا ہے شاہ کو بچانے کے لیے اپنی مرضی کے خلاف

مزید پڑھیے

عام معافی کے لیے

بین کرتی عورتوں سے ہم پوچھ رہے ہیں میرؔ کے شعر کا مطلب بے گھر بھونروں سے کہہ رہے ہیں شکنتلا کو رجھانے کے لیے لو بھری دوپہر میں کوکنے کا تقاضہ کر رہے ہیں کوئل سے اس مشکل وقت میں کچھ لوگ کہہ رہے ہیں ہم سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے ایک ٹوٹے ہوئے برتن کو چاک سے وفاداری ثابت کرنے کے ...

مزید پڑھیے

مجھے کچھ یاد آتا ہے

تمہارے شہر کو چھوڑے ہوئے اکیس دن اکیس راتیں اور کچھ پرکار لمحے ہو چکے ہیں مرے اعمال نامے پر کسی بے جان جذبے کا اور ادھورا جسم جلتا ہے وہاں جب دن نکلتا ہے وہاں جب شام ہوتی ہے کسی کے وائلن جیسے بدن پر نرم دھوپوں کے نکھرتے سائے اپنی سرمئی آنکھوں سے دکھ کے راگ گاتے ہیں وہاں جب رات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2096 سے 6203