قومی زبان

گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح

گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح دل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح ساعت دید کہ عارض ہیں گلابی اب تک اولیں لمحوں کے گلنار حجابوں کی طرح وہ سمندر ہے تو پھر روح کو شاداب کرے تشنگی کیوں مجھے دیتا ہے ...

مزید پڑھیے

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے ...

مزید پڑھیے

پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون

پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون دست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون میرا سر حاضر ہے لیکن میرا منصف دیکھ لے کر رہا ہے میری فرد جرم کو تحریر کون آج دروازوں پہ دستک جانی پہچانی سی ہے آج میرے نام لاتا ہے مری تعزیر کون کوئی مقتل کو گیا تھا مدتوں پہلے مگر ہے در خیمہ پہ اب تک ...

مزید پڑھیے

حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے

حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے باب اک اور محبت کا کھلا چاہتا ہے ایک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اس کی اور یہ دل کہ اسے حد سے سوا چاہتا ہے اک حجاب تہہ اقرار ہے مانع ورنہ گل کو معلوم ہے کیا دست صبا چاہتا ہے ریت ہی ریت ہے اس دل میں مسافر میرے اور یہ صحرا ترا نقش کف پا چاہتا ہے یہی ...

مزید پڑھیے

گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا

گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا مرا اور اس کا رابطہ تو ہاتھ اور دعا کا تھا گلاب قیمت شگفت شام تک چکا سکے ادا وہ دھوپ کو ہوا جو قرض بھی صبا کا تھا بکھر گیا ہے پھول تو ہمیں سے پوچھ گچھ ہوئی حساب باغباں سے ہے کیا دھرا ہوا کا تھا لہو چشیدہ ہاتھ اس نے چوم کر دکھا دیا جزا وہاں ملی ...

مزید پڑھیے

مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے

مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے دستار پہ بات آ گئی ہوتی ہوئی سر سے برسا بھی تو کس دشت کے بے فیض بدن پر اک عمر مرے کھیت تھے جس ابر کو ترسے کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے چڑیوں کو بڑا پیار تھا اس بوڑھے شجر سے محنت مری آندھی سے تو منسوب نہیں تھی رہنا تھا کوئی ربط شجر کا ...

مزید پڑھیے

اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں

اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں شام بھی ہو گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری بھولنے والے میں کب تک ترا رستا دیکھوں ایک اک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں آج میں ...

مزید پڑھیے

عمر بھر جستجو رہے گی کیا

عمر بھر جستجو رہے گی کیا آرزو آرزو رہے گی کیا نہیں ہونا مکالمہ تجھ سے خود سے ہی گفتگو رہے گی کیا رات اے رات صرف رات کی رات میرے پہلو میں تو رہے گی کیا شور خاموشی کم نہیں ہونا رات بھر ہاؤ ہو رہے گی کیا تو جو میرے گلے بھی لگ جائے روح سے روح چھو رہے گی کیا خود کو کمرے سے گر نکال ...

مزید پڑھیے

نیرنگیٔ خیال پہ حیرت نہیں ہوئی

نیرنگیٔ خیال پہ حیرت نہیں ہوئی مجھ کو کسی کمال پہ حیرت نہیں ہوئی میری تباہ حالی کو بھی دیکھ کر اسے حیرت ہے میرے حال پہ حیرت نہیں ہوئی پوچھا تھا میں نے جب اسے کیا مجھ سے عشق ہے؟ اس کو مرے سوال پہ حیرت نہیں ہوئی دیکھا جو ایک عمر کے بعد اس نے آئنا خود اپنے خد و خال پہ حیرت نہیں ...

مزید پڑھیے

اتنا بے آسرا نہیں ہوں میں

اتنا بے آسرا نہیں ہوں میں آدمی ہوں خدا نہیں ہوں میں ہے ابھی میری جستجو جاری یعنی خود کو ملا نہیں ہوں میں میں نے دعویٰ کیا نہ ہونے کا مجھ کو معلوم تھا نہیں ہوں میں نکل آیا میں ذات سے باہر اپنے اندر رہا نہیں ہوں میں میں جو ہوں میں بھی اصل میں تم ہوں میری جاں دوسرا نہیں ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2044 سے 6203