قومی زبان

پسینہ ماتھے سے بہہ رہا ہے نہ کوئی سلوٹ لباس پر ہے

پسینہ ماتھے سے بہہ رہا ہے نہ کوئی سلوٹ لباس پر ہے عجب تھکن ہے جو کام کرنے سے قبل طاری حواس پر ہے سفید رت میں گلاب ہاتھوں سے سات رنگوں کے خواب چنتی کپاس چننے کو آئی لڑکی کا دھیان تھوڑی کپاس پر ہے سمندروں کے مسافرو کچھ اضافی پانی بھی ساتھ رکھنا کہ اک جزیرہ بڑی ہی مدت سے چند قطروں ...

مزید پڑھیے

لباس زیست کبھی یوں بھی تیرا درشن ہو

لباس زیست کبھی یوں بھی تیرا درشن ہو سجی سجائی ہوئی جیسے کوئی دلہن ہو یہ قحط شعر پڑا ہو نہ قحط غم کے سبب چراغ اتنا ہی جلتا ہے جتنا ایندھن ہو یہ میں ہی ہوں جو اداسی نکالتا ہوں تری ہر اک فصیل میں لازم نہیں کہ روزن ہو تو اپنے خواب مری آنکھ سے نہ دیکھا کر برتنے کے لیے بہتر ہے اپنا ...

مزید پڑھیے

اتنی سی آنکھ نے غم کتنا اٹھا لیا ہے

اتنی سی آنکھ نے غم کتنا اٹھا لیا ہے کشتی نے اپنے اندر دریا اٹھا لیا ہے اس نیم وصل سے یہ ترک تعلق اچھا چاندی کو رکھ کے میں نے سونا اٹھا لیا ہے اک تو پگار جیسے بچوں کی جیب خرچی اوپر سے دوستوں کا خرچہ اٹھا لیا ہے خوشبو کے عاشقوں کو تزئین باغ سے کیا جو پھول بھی ذرا سا مہکا اٹھا لیا ...

مزید پڑھیے

نشاط درد کے موسم میں گر نمی کم ہے

نشاط درد کے موسم میں گر نمی کم ہے فضا کے برگ شفق پر بھی تازگی کم ہے سراب بن کے خلاؤں میں گم نظارۂ سمت مجھے لگا کہ خلاؤں میں روشنی کم ہے عجیب لوگ ہیں کانٹوں پہ پھول رکھتے ہیں یہ جانتے ہوئے ان میں مقدری کم ہے نہ کوئی خواب نہ یادوں کا بیکراں سا ہجوم اداس رات کے خیمے میں دل کشی کم ...

مزید پڑھیے

مانا کہ زلزلہ تھا یہاں کم بہت ہی کم

مانا کہ زلزلہ تھا یہاں کم بہت ہی کم بستی میں بچ گئے تھے مکاں کم بہت ہی کم میرے لہو کا ذائقہ چکھتا رہا تھا درد تنہائیاں تھیں رات جہاں کم بہت ہی کم کانٹوں کو سینچتی رہی پرچھائیوں کی فصل جب دھوپ کا تھا نام و نشاں کم بہت ہی کم آنگن میں دھوپ دھوپ کو اوڑھے اداسیاں گھر میں تھے زندگی کے ...

مزید پڑھیے

نیم کے پتوں کا زخموں کو دھواں دے دیجئے

نیم کے پتوں کا زخموں کو دھواں دے دیجئے پھر مری آنکھوں کو پہرے داریاں دے دیجئے ہو سکے تو یہ نوازش ہم فقیروں پر کریں بجھتے رنگوں کا ہمیں یہ آسماں دے دیجئے شب پرستوں کو بھی تسکین انا مل جائے گی ان کا حق ہے ان کو شب بیداریاں دے دیجئے شاخ پر کانٹوں کو پیراہن بدلنے کے لیے موسموں کو ...

مزید پڑھیے

پیش منظر جو تماشے تھے پس منظر بھی تھے

پیش منظر جو تماشے تھے پس منظر بھی تھے ہم ہی تھے مال غنیمت ہم ہی غارت گر بھی تھے آستینوں میں چھپا کر سانپ بھی لائے تھے لوگ شہر کی اس بھیڑ میں کچھ لوگ بازی گر بھی تھے برف منظر دھول کے بادل ہوا کے قہقہے جو کبھی دہلیز کے باہر تھے وہ اندر بھی تھے آخر شب درد کی ٹوٹی ہوئی بیساکھیاں آڑے ...

مزید پڑھیے

سبز رتوں میں رنگ خزانی پڑھتے ہیں

سبز رتوں میں رنگ خزانی پڑھتے ہیں ہر چہرے پر ایک کہانی پڑھتے ہیں نام نہیں ہے کوئی بھی دروازے پر تختی پر بس ایک نشانی پڑھتے ہیں تشنہ لب لہروں نے کیا کیا لکھ ڈالا خشک ریت پر پانی پانی پڑھتے ہیں نیا سبق تو یاد نہیں ہوتا ہم کو جب پڑھتے ہیں بات پرانی پڑھتے ہیں جب کوئی مانوس سی خوشبو ...

مزید پڑھیے

جیسا سنا تھا ویسا ہے

جیسا سنا تھا ویسا ہے وہ مجھ سے بھی اچھا ہے پیار کی باتیں کرتا ہے شاید کوئی پگلا ہے اس کی بات نہ رد ہوگی اس کے پاس تو پیسہ ہے میرے دشمن کا لہجہ آم کے جیسا میٹھا ہے اپنی منزل دور نہیں میل کا پتھر کہتا ہے غیروں جیسی بات نہ کر تو تو میرا اپنا ہے آگ اور پانی کا رشتہ کیا پیکرؔ ہو ...

مزید پڑھیے

صورت کے تو اچھے لوگ

صورت کے تو اچھے لوگ لیکن دل کے کالے لوگ ان سے اپنا رشتہ کیا وہ ٹھہرے ہیں اونچے لوگ دیکھے ہیں سجدہ کرتے اپنی انا کو ہم نے لوگ آج مسیحا بن بیٹھے گونگے بہرے اندھے لوگ ہر گھر کی مجبوری ہیں کچھ پونے کچھ آدھے لوگ تیری بات کو مانیں گے پیکرؔ دھیرے دھیرے لوگ

مزید پڑھیے
صفحہ 2034 سے 6203