بھینی بھینی درد کی خوشبو لٹانے کے لیے
بھینی بھینی درد کی خوشبو لٹانے کے لیے پھول کھلتے ہیں چمن میں مسکرانے کے لیے ہر گل تہذیب کو حق ہے کہ وہ کھلتا رہے اس ریاض دہر میں خوشبو لٹانے کے لیے یوں سمٹنا بھی ہے کوئی زندگی اے دوستو زندگی ہے وسعت عالم پہ چھانے کے لیے کچھ فریب رنگ و بو میں آ ہی جاتا ہے بشر ورنہ یہ دنیا نہیں ہے ...