قومی زبان

بھینی بھینی درد کی خوشبو لٹانے کے لیے

بھینی بھینی درد کی خوشبو لٹانے کے لیے پھول کھلتے ہیں چمن میں مسکرانے کے لیے ہر گل تہذیب کو حق ہے کہ وہ کھلتا رہے اس ریاض دہر میں خوشبو لٹانے کے لیے یوں سمٹنا بھی ہے کوئی زندگی اے دوستو زندگی ہے وسعت عالم پہ چھانے کے لیے کچھ فریب رنگ و بو میں آ ہی جاتا ہے بشر ورنہ یہ دنیا نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

ادھر مے کدہ ہے ادھر بت کدہ ہے

ادھر مے کدہ ہے ادھر بت کدہ ہے ادھر میرا ساقی ادھر دل ربا ہے ادھر ہے مری تشنگی کا مداوا ادھر میرے درد جگر کی دوا ہے ادھر جوش صہبا ادھر جوش الفت ادھر ابتدا ہے ادھر انتہا ہے ادھر دختر رز کی ہے کافر جوانی ادھر حسن محبوب صدق و صفا ہے ادھر مے پلا کر گرانے کا شیوہ ادھر تھام لینے کو ...

مزید پڑھیے

فضا میں کرب کا احساس گھولتی ہوئی رات

فضا میں کرب کا احساس گھولتی ہوئی رات ہوس کی کھڑکیاں دروازے کھولتی ہوئی رات عجیب رشتے بناتی ہے توڑ دیتی ہے نئی رتوں کے سفیروں سے بولتی ہوئی رات یہ دھڑکنوں کے اندھیرے یہ زخم زخم چراغ کواڑ خالی مکانوں کے کھولتی ہوئی رات اتھاہ گہرا اندھیرا غضب کا سناٹا فضا میں درد کا تیزاب ...

مزید پڑھیے

بے تعلق روح کا جب جسم سے رشتہ ہوا

بے تعلق روح کا جب جسم سے رشتہ ہوا گھر میں لا وارث پس منظر کا سناٹا ہوا دھوپ لہجے میں نوکیلاپن کہاں سے لائے گی ہم نے دیکھا ہے شفق سورج ابھی بجھتا ہوا چاہتا ہے دل کسی سے راز کی باتیں کرے پھول آدھی رات کا آنگن میں ہے مہکا ہوا سرخ موسم کی کہانی تو پرانی ہو گئی کھل گیا موسم تو سارے ...

مزید پڑھیے

فضائیں خشک تھیں گھر کی تو باہر کیوں نہیں دیکھا

فضائیں خشک تھیں گھر کی تو باہر کیوں نہیں دیکھا دریچوں سے وہ ہنگاموں کا منظر کیوں نہیں دیکھا زمیں کے خشک لب یہ موسموں کا زہر پیتے ہیں تو تم نے آسمانوں کا سمندر کیوں نہیں دیکھا فضاؤں کی کسک سے کچھ تقاضے بھی بدلتے ہیں ہوس لمحات کو تم نے کچل کر کیوں نہیں دیکھا سنا یہ ہے سمندر میں ...

مزید پڑھیے

فکر کم بیان کم

فکر کم بیان کم رہ گئی زبان کم دھوپ میں ڈھلان کم روشنی میں جان کم بارشوں کی انتہا چھت پہ آسمان کم زلزلوں نے کر دیئے شہر کے مکان کم خامشی ہی خامشی مرغ کی اذان کم دھوپ شعلہ بار ہے چھاؤں کا گمان کم جسم میں تناؤ ہے ہڈیوں میں جان کم رندؔ اب سکوں کہاں ہے عذاب جان کم

مزید پڑھیے

اندھیرے ڈھونڈنے نکلے کھنڈر کیوں

اندھیرے ڈھونڈنے نکلے کھنڈر کیوں خدا جانے ہوئے یہ در بدر کیوں یہ بو اجڑے ہوئے بازار کی ہے مری بستی ہوئی نا معتبر کیوں سماعت منجمد سی ہو رہی ہے مگر شعلہ بیانی پر اثر کیوں اگر احساس ہی حیرت زدہ ہے تو کاندھے پر لیے پھرتے ہو سر کیوں یہ بوجھل شام کا دھندلا تصور مرے احساس پر چھایا ...

مزید پڑھیے

ایسے بھی کچھ لمحے یارو آئیں گے

ایسے بھی کچھ لمحے یارو آئیں گے ہم مشکوک نظر سے دیکھے جائیں گے نیند بھری آنکھیں بھی دھوکہ دیتی ہیں جاگو گے تو خواب کہاں سے آئیں گے ان سے پردہ داری گھر میں مشکل ہے فرصت کے لمحے ہیں آئیں جائیں گے دھول ہوا جاتا ہے منظر راتوں کا خوابوں کا معیار کہاں سے لائیں گے سناٹا آوارہ پھرتا ...

مزید پڑھیے

رات کے گنبد میں یادوں کا بسیرا ہو گیا ہے

رات کے گنبد میں یادوں کا بسیرا ہو گیا ہے چاند کی قندیل جلتے ہی اجالا ہو گیا ہے خامشی کی آندھیاں باغی نظر آتی ہیں مجھ کو رات کالی ہے تو سناٹا بھی کالا ہو گیا ہے اب محبت ہے مروت ہے نہ اب انکساری آج کے اس دور میں ہر شخص ننگا ہو گیا ہے قصۂ ریگ رواں جب آندھیوں کی زد پہ آیا دھند کا ...

مزید پڑھیے

اندھیرے بند کمروں میں پڑے تھے

اندھیرے بند کمروں میں پڑے تھے اجالے سیر پر نکلے ہوئے تھے گھروں میں کھانستی تنہائیاں تھیں یہ سناٹے پرانی نسل کے تھے ہوس کی بستیاں آتش زدہ تھیں بڑے کڑوے کسیلے واقعے تھے صدائیں جھینگروں کی بڑھ رہی تھیں اندھیرے سیڑھیاں چڑھنے لگے تھے سہاگن تھے مری بستی کے موسم کھنکتی چوڑیاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2033 سے 6203