قومی زبان

حسن کی چارہ گری نے ایک کرشمہ کر دیا

حسن کی چارہ گری نے ایک کرشمہ کر دیا ہاتھ سے چھو کر فقط بیمار اچھا کر دیا دال روٹی کھا کے مفلس کاٹ لیتے تھے مگر اب سیاست نے اسے بھی خواب جیسا کر دیا ایک مصرعے پر رکا تھا سلسلہ جو دیر سے اس نے دیکھا مسکرا کر شعر پورا کر دیا شہر میں چہرے تھے یوں کہنے کو تو سب مختلف عشق نے ہر ایک چہرہ ...

مزید پڑھیے

لبوں سے آنکھ سے رخسار سے کیا کیا نہیں کرتا

لبوں سے آنکھ سے رخسار سے کیا کیا نہیں کرتا وہ جادو کون سا ہے جو کہ وہ چہرہ نہیں کرتا میں سارے کاغذوں پہ ایک مصرعہ لکھ کے رکھوں گا وہ جب تک آ کے میرے شعر کو پورا نہیں کرتا فسادوں میں جو شامل ہیں وہ مہرے ہیں سیاست کے خود اپنے آپ کوئی بھی یہاں دنگا نہیں کرتا ہواؤں میں نگر کی اس قدر ...

مزید پڑھیے

آزمانے زیست کی جب تلخیاں آ جائیں گی

آزمانے زیست کی جب تلخیاں آ جائیں گی رو بہ رو ساری ہماری خامیاں آ جائیں گی شرط یے ہے آپ کے ہاتھوں سجائیں گلدان میں پھول کاغذ کے بھی ہوں تو تتلیاں آ جائیں گی بے زباں رہنے کا سارا لطف ہی کھو جائے گا زد میں آوازوں کے جب خاموشیاں آ جائیں گی سوکھ جائیں گے سمندر جب بھی باہر کے کبھی گھر ...

مزید پڑھیے

افق پہ دودھیا سایہ جو پاؤں دھرنے لگا

افق پہ دودھیا سایہ جو پاؤں دھرنے لگا مہیب رات کا شیرازہ ہی بکھرنے لگا تمام عمر جو لڑتا رہا مرے اندر مرا ضمیر ہی مجھ سے فرار کرنے لگا سفر میں جب کبھی لا سمتیوں کا ذکر ہوا ہمارا قافلہ طول سفر سے ڈرنے لگا سلگ رہا ہے کہیں دور درد کا جنگل جو آسمان پہ کڑوا دھواں بکھرنے لگا چڑھی ندی ...

مزید پڑھیے

ہم دشت بے کراں کی اذاں ہو گئے تو کیا

ہم دشت بے کراں کی اذاں ہو گئے تو کیا وحشت میں اب کی بار زیاں ہو گئے تو کیا باسی گھٹن سے گھر کے اندھیرے نہ کم ہوئے ہم رات جگنوؤں کی دکاں ہو گئے تو کیا الجھن بڑھی تو چند خرابے خرید لائے سودے میں اب کی بار زیاں ہو گئے تو کیا گھر میں ہمارے قید رہا زندگی کا شور ہم بے زبان نذر فغاں ہو ...

مزید پڑھیے

ممتا بھری نگاہ نے روکا تو ڈر لگا

ممتا بھری نگاہ نے روکا تو ڈر لگا جب بھی شکار زین سے باندھا تو ڈر لگا تنہا فصیل شہر پہ بیٹھی ہوئی تھی شام جب دھندلکوں نے شور مچایا تو ڈر لگا اپنے سروں پہ پگڑیاں باندھے ہوئے تھے لفظ مضمون جب نیا کوئی باندھا تو ڈر لگا بجھتے ہوئے الاؤ میں آتش فشاں بھی تھے کہرام رتجگوں نے مچایا تو ...

مزید پڑھیے

احساس بے طلب کا ہی الزام دو ہمیں

احساس بے طلب کا ہی الزام دو ہمیں رسوائیوں کی بھیڑ میں انعام دو ہمیں خودداریوں کی دھوپ میں آرام دو ہمیں سوغات میں ہی گردش ایام دو ہمیں احساس لمس جسم کی اس بھیڑ میں کہاں کالی رتیں گناہ کا پیغام دو ہمیں گم صم حصار ربط میں ہے لمحۂ عذاب خواہش کا کرب فطرت بد نام دو ہمیں بے زاریوں کو ...

مزید پڑھیے

روشنی بھر خلا پہ بار تھے ہم

روشنی بھر خلا پہ بار تھے ہم دھند منظر پس غبار تھے ہم دھوپ میں آئے تو سکون ملا چھاؤں میں تھے تو داغ دار تھے ہم کوئی دستک نہ کوئی آہٹ تھی مدتوں وہم کے شکار تھے ہم بت گری میں ہنر بھی شامل تھا سنگ سازی سے ہوشیار تھے ہم قرض کوئی بھی جسم و جاں پہ نہ تھا زندگی پر مگر ادھار تھے ...

مزید پڑھیے

ہجر موسم تھا ستاتی رہی تنہائی ہمیں

ہجر موسم تھا ستاتی رہی تنہائی ہمیں چھت پہ تارا بھی جو ٹوٹا تو صدا آئی ہمیں قہقہہ زار فضاؤں میں عجب بھیڑ سی تھی گھر کا ماحول جو دیکھا تو ہنسی آئی ہمیں ہم سرابوں کے مسافر تھے مگر جانتے تھے کس کے دم پر نہ ڈراتی رہی پروائی ہمیں چھاؤں نے آبلہ پائی کے سوا کچھ نہ دیا دھوپ دیتی رہی ...

مزید پڑھیے

سازشوں کی بھیڑ میں تاریکیاں سر پر اٹھائے

سازشوں کی بھیڑ میں تاریکیاں سر پر اٹھائے بڑھ رہے ہیں شام کے سائے دھواں سر پر اٹھائے ریگ زاروں میں بھٹکتی سوچ کے کچھ خشک لمحے تلخئ حالات کی ہیں داستاں سر پر اٹھائے خواہشوں کی آنچ میں تپتے بدن کی لذتیں ہیں اور وحشی رات ہے گمراہیاں سر پر اٹھائے چند گونگی دستکیں ہیں گھر کے دروازے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2032 سے 6203