کوچۂ یار میں میں نے جو جبیں سائی کی
کوچۂ یار میں میں نے جو جبیں سائی کی اس کے ابا نے مری خوب پذیرائی کی میں تو سمجھا تھا کہ وہ شخص مسیحا ہوگا اس نے پر صرف مری تارہ مسیحائی کی اس کے گھر پہ ہی رقیبوں سے ملاقات ہوئی کیا سناؤں میں کہانی تجھے پسپائی کی میرے تایا سے وہ ہیں عمر میں دس سال بڑی گھر کے ہر فرد پہ دہشت ہے مری ...