لاٹری
ہم کو امریکہ تو بالکل راس آیا ہی نہیں اپنی ناکامی پہ آؤ مل کے سب تھو تھو کریں مال و دولت اب بھی مل سکتے ہیں ہم سب کو مگر لاٹری نکلے ہماری یا کسی پر سو کریں
ہم کو امریکہ تو بالکل راس آیا ہی نہیں اپنی ناکامی پہ آؤ مل کے سب تھو تھو کریں مال و دولت اب بھی مل سکتے ہیں ہم سب کو مگر لاٹری نکلے ہماری یا کسی پر سو کریں
جب بھی تجھے دیکھا کسی بحران میں دیکھا نسیان میں دیکھا کبھی ہذیان میں دیکھا گوبھی بھی ہے گر پھول تو بس اتنا بتا دے کالر میں کبھی یا کبھی گلدان میں دیکھا ایسا نہ ہو ببن کو کوئی چیل اچک لے ننگا اسے دیکھا کبھی بنیان میں دیکھا بیوی نے دبا رکھا ہے اب ٹیٹوا شاید میں نے جو اسے حال ...
کس طرح اس سے جان چھڑاؤں میں کیا کروں مجھ کو ہے یہ خیال ہراساں کیے ہوئے جانے کا نام ہی نہیں لیتا وہ نیک بخت ''مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے''
میں تنہا ہوں مجھے ایسے ملازم کی ضرورت ہے کہ جو تنخواہ لے مجھ سے فقط دو وقت کا کھانا وہ صبح و شام دے گا حاضری دربار داتا پر وہاں سے لائے گا کھانا اپن دونوں کا روزانہ
سفر ہو ریل گاڑی کا تو چھکے چھوٹ جاتے ہیں پسینے کے گھڑے گویا سروں پر پھوٹ جاتے ہیں ٹکٹ لینا جو پہلا کام ہے اور سخت مشکل ہے سمجھ لیجے کہ یہ اپنے سفر کی پہلی منزل ہے ریزرویشن کرانا ہے تو پہلے اک قلی پکڑیں خوشامد سے منا لیجے قلی صاحب اگر اکڑیں بکنگ آفس کا بابو آپ کی آسان کر دے گا وہ ...
موچ آئی پیر میں کچھ دن کریں آرام وہ آج کے اخبار میں اعلان جاری ہو گیا اک بڑے اخبار نے چھاپی خبر یہ اس طرح ایک قومی رہنما کا پیر بھاری ہو گیا
معشوق جو ٹھگنا ہے تو عاشق بھی ہے ناٹا اس کا کوئی نقصان نہ اس کو کوئی گھاٹا تیری تو نوازش ہے کہ تو آ گیا لیکن اے دوست مرے گھر میں نہ چاول ہے نہ آٹا لڈن تو ہنی مون منانے گئے لندن چل ہم بھی کلفٹن پہ کریں سیر سپاٹا تم نے تو کہا تھا کہ چلو ڈوب مریں ہم اب ساحل دریا پہ کھڑے کرتے ہو ٹا ...
صدر صاحب چار ماہ دو روز کی رخصت میں ہیں اور بظاہر وہ پشاور میں ابھی فرصت میں ہیں ان کو لیلیٰ کی صدارت کی جدائی کا ہے غم گھر سے باہر کیسے نکلیں وہ ابھی عدت میں ہیں
گھر کی رکھوالی کی ہم میں استطاعت ہی نہیں ہم نے اخراجات گرچہ کر لیے ہیں کم سے کم اپنے ہم سایوں کے کتے بھونکتے ہیں رات میں اپنے گھر میں بھونک لیتے ہیں سبھی مل جل کے ہم
ڈاکٹر سے میں علاج دل کرانے جب گیا مشورہ اس نے دیا تو شعر کہنا چھوڑ دے اور بلڈ پریشر کے بارے میں جو پوچھا تو کہا اے مریض جاں بلب اخبار پڑھنا چھوڑ دے