قومی زبان

ایسے لمحات بھی گزرتے ہیں

ایسے لمحات بھی گزرتے ہیں جب نہ جیتے ہیں ہم نہ مرتے ہیں ہم کہ شاعر ہیں دل کو خوں کر کے اپنے گیتوں میں رنگ بھرتے ہیں زندگی کی حقیقتوں کے گہر بحر اندیشہ سے ابھرتے ہیں کس قدر ہوشیار ہیں ہم بھی اپنی دیوانگی سے ڈرتے ہیں اک ذرا سی خوشی کی چاہت میں ہم غموں سے نباہ کرتے ہیں

مزید پڑھیے

جدھر نظریں اٹھائیں تیرگی ہے

جدھر نظریں اٹھائیں تیرگی ہے ہماری زندگی کیا زندگی ہے یہ منزل ہے تو اے اصحاب منزل یہ میری روح میں کیا تشنگی ہے یہ غم کی انتہا ہے یا وفا کی نظر میں پیاس ہونٹوں پر ہنسی ہے یہ دل میں درد چمکا یا کوئی یاد یہ کیسی آگ کی سی روشنی ہے خرد کی انتہا مجھ سے نہ پوچھو جب اس کی ابتدا دیوانگی ...

مزید پڑھیے

درد کی رات نے یہ رنگ بھی دکھلائے ہیں

درد کی رات نے یہ رنگ بھی دکھلائے ہیں میری پلکوں پہ ستارے سے اتر آئے ہیں دل کے ویرانے میں کس یاد کا جھونکا گزرا کس نے اس ریت میں یہ پھول سے مہکائے ہیں ہم نے سوچا تری آنکھیں تو اٹھیں لب تو ہلیں اس لیے ہم تری محفل سے چلے آئے ہیں جن سے انسان کے زخموں کا مداوا نہ ہوا آج وہ چاند ستاروں ...

مزید پڑھیے

خود کو جب تیرے مقابل پایا

خود کو جب تیرے مقابل پایا اپنی پہچان کا لمحہ آیا عکس در عکس تھے رنگوں کے چراغ میں نے مٹی کا دیا اپنایا ایک پل ایک صدی پر بھاری سوچ پر ایسا بھی لمحہ آیا پاؤں چھلنی تو وفا گھائل تھی جانے اس موڑ پہ کیا یاد آیا ایک لمحے کے تبسم کا فسوں جاں سے گزرے تو سمجھ میں آیا

مزید پڑھیے

دم بخود گلشنوں کی رعنائی

دم بخود گلشنوں کی رعنائی کیسی کھوئی ہوئی بہار آئی تم کو سودائے محفل آرائی اور ہمیں جستجوئے تنہائی راحتیں تم کو رنج ہم کو عزیز اپنی اپنی نظر کی گہرائی کتنی بے گانگی سے دیکھتے ہو جب غم زندگی کی بات آئی زخم در زخم ہے حیات فناؔ کیسے کر پاؤ گے مسیحائی

مزید پڑھیے

تمہارا ذوق ہی کامل نہیں ہے

تمہارا ذوق ہی کامل نہیں ہے وگرنہ کوئی شے مشکل نہیں ہے شرار غم کا جو حامل نہیں ہے وہ دل سب کچھ تو ہے پر دل نہیں ہے جہان رنگ و بو پر مٹنے والو یہ دنیا موج ہے ساحل نہیں ہے بڑھے جن کے قدم راہ جنوں میں پھر ان کی کوئی بھی منزل نہیں ہے نشاط انگیز نغمے کیا سنائیں طبیعت اس طرف مائل نہیں ...

مزید پڑھیے

سنوارے آخرت یا زندگی کو

سنوارے آخرت یا زندگی کو کہاں اتنی بھی مہلت آدمی کو بجھائی آنسوؤں نے آتش غم مگر بھڑکا دیا ہے بیکلی کو بھرم کھل جائے گا دانائیوں کا پکارو تو ذرا دیوانگی کو جو سر جھکتا نہیں ہے دل تو جھک جائے فقط اتنی طلب ہے بندگی کو جو دل سے پھوٹ کر آنکھوں میں چمکے ترستے رہ گئے ہم اس ہنسی کو

مزید پڑھیے

سوچتے ہیں تو کر گزرتے ہیں

سوچتے ہیں تو کر گزرتے ہیں ہم تو منجدھار میں اترتے ہیں موت سے کھیلتے ہیں ہم لیکن غیر کی بندگی سے ڈرتے ہیں جان اپنی تو ہے ہمیں بھی عزیز پھر بھی شعلوں پہ رقص کرتے ہیں دل فگاروں سے پوچھ کر دیکھو کتنی صدیوں میں گھاؤ بھرتے ہیں جن کو ہے اندمال زخم عزیز آمد فصل گل سے ڈرتے ہیں چھپ کے ...

مزید پڑھیے

اک اک کو عتاب بانٹتے ہو

اک اک کو عتاب بانٹتے ہو کس طرح کے خواب بانٹتے ہو ہر چہرے پہ جھریاں لکھی ہیں تم کیسا شباب بانٹتے ہو فردوس تمہارے ہاتھ میں ہے بندوں کو عذاب بانٹتے ہو اک ایک کلی کا رنگ فق ہے یہ کیسے گلاب بانٹتے ہو آنکھوں میں تو رت جگے لکھے ہیں تم سمجھے کہ خواب بانٹتے ہو

مزید پڑھیے

اٹھی تھیں آندھیاں جن کو بجھانے

اٹھی تھیں آندھیاں جن کو بجھانے وہ شمعیں اور بھڑکیں اس بہانے نقابیں بجلیوں کی رخ پہ ڈالے چمن والوں نے لوٹے آشیانے یہ کیوں وحشت سے لپکا دست گلچیں کلی شاید لگی تھی کچھ بتانے ابھی موہوم ہے سجدے کا مفہوم جھکا پھر کس لیے سر کون جانے شعور زندگی کی ڈھال لے کر چلے ہم موت سے آنکھیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2021 سے 6203