اہل غم آؤ ذرا سیر گلستاں کر لیں
اہل غم آؤ ذرا سیر گلستاں کر لیں گر خزاں ہے تو چلو شغل بہاراں کر لیں پھر تو ہر سمت اندھیرا ہی اندھیرا ہوگا پو پھٹی ہے تو لٹی بزم چراغاں کر لیں دل کی ویرانیاں آنکھوں میں اڑاتی ہیں غبار مل کے رو لیں تو کچھ ان کو بھی فروزاں کر لیں قہقہوں سے تو گھٹن اور بھی بڑھ جائے گی آؤ چپ رہ کے ہی ...