قومی زبان

اہل غم آؤ ذرا سیر گلستاں کر لیں

اہل غم آؤ ذرا سیر گلستاں کر لیں گر خزاں ہے تو چلو شغل بہاراں کر لیں پھر تو ہر سمت اندھیرا ہی اندھیرا ہوگا پو پھٹی ہے تو لٹی بزم چراغاں کر لیں دل کی ویرانیاں آنکھوں میں اڑاتی ہیں غبار مل کے رو لیں تو کچھ ان کو بھی فروزاں کر لیں قہقہوں سے تو گھٹن اور بھی بڑھ جائے گی آؤ چپ رہ کے ہی ...

مزید پڑھیے

بھول کر تجھ کو بھرا شہر بھی تنہا دیکھوں

بھول کر تجھ کو بھرا شہر بھی تنہا دیکھوں یاد آ جائے تو خود اپنا تماشا دیکھوں مسکراتی ہوئی ان آنکھوں کی شادابی میں میں تری روح کا تپتا ہوا صحرا دیکھوں اتنی یادیں ہیں کہ جمنے نہیں پاتی ہے نظر بند آنکھوں کے دریچوں سے میں کیا کیا دیکھوں وقت کی دھول سے اٹھنے لگے قدموں کے نقوش تو ...

مزید پڑھیے

تمہارا ذوق پرستش مجھے عزیز مگر (ردیف .. و)

تمہارا ذوق پرستش مجھے عزیز مگر میں اس زمین کی مٹی مجھے خدا نہ کہو تمہارے ساتھ اگر دو قدم بھی چل نہ سکوں تو خستہ پا ہوں مجھے مجرم وفا نہ کہو یہ ایک پل کی دھڑکتی حیات بھی ہے بہت تمام عمر کے اس روگ کو برا نہ کہو اس ایک خوف سے لب سی لیے تمہارے حضور کہ حرف شوق کو اظہار مدعا نہ کہو یہ ...

مزید پڑھیے

دشت میری ہی دہائی دے گا

دشت میری ہی دہائی دے گا پھر مجھے آبلہ پائی دے گا روشنی روح تلک آ پہنچی اب اندھیرے میں دکھائی دے گا زرد پتوں کا دھڑکتا ہوا دل خامشی میں بھی سنائی دے گا توڑ کر دیکھ تو آئینۂ دل شہر کا شہر دکھائی دے گا کشف و آگاہی کے آئینے میں اپنا بہروپ دکھائی دے گا

مزید پڑھیے

کہاں جا رہی ہو؟

ہوا کس قدر تیز ہے اجنبی شام سنولا گئی وقت دونوں گلے مل چکے سر پہ رکھو ردا سن رہی ہو مساجد سے اٹھتی ہوئی روح پرور صدا اٹھ کے دیکھو تو آنگن کا در بند ہے یا کھلا لیکن اس وقت تنہا کھلے سر کہاں جا رہی ہو

مزید پڑھیے

کہاں ہے شوریدہ سر مسافر

وہ جس کی آنکھوں میں رت جگوں کی بصیرتیں ہیں وہ مشعل جاں سے دشت کی ظلمتوں میں رستے بنا رہا ہے وہ جس کے تن میں ہزاروں میخیں گڑی ہوئی ہیں کہاں ہے شوریدہ سر مسافر کہ آج خلق اس کو ڈھونڈتی ہے

مزید پڑھیے

پل صراط

تمہارا دل تجلیوں کے طور کی ضیا سے آگہی تلک ریاضتوں کے نور میں گندھا ہوا امانتوں کے بار سے دبا ہوا تمہاری روح کے لطیف آئینے میں اپنا عکس ڈھونڈنے عقیدتوں کی گرد سے اٹی ہوئی انا کے پل صراط سے گزر کے آ رہی ہوں میں

مزید پڑھیے

وقت

اندھے وقت کے گہرے کنویں میں ماضی کی ہر یاد چھپی ہے کچھ لمحوں کی کرنیں زرد سنہری آنچل میں لپٹی ہیں کچھ پل ایسے بھی ہیں جن کے آئینے میں دکھ کے انمٹ عکس ابھر کر آنکھوں کے گرداب میں رقصاں لوح دل پر نقش ہوئے ہیں دھوپ اور چھاؤں کے اس کھیل کو حال کا ہر پل دیکھ رہا ہے دکھ کے بھاری بوجھل ...

مزید پڑھیے

دل جلایا تری خوشی کے لیے

دل جلایا تری خوشی کے لیے یا خود اپنی ہی آگہی کے لیے ہاتھ پر رکھ کے اپنی روح تپاں ہم چلے اپنی رہبری کے لیے نور کی محفلوں میں رہتے ہیں جو ترستے ہیں روشنی کے لیے کتنے آلام سہہ گئے ہم لوگ ایک بے نام سی ہنسی کے لیے آب حیواں بھی گر ملے تو نہ لیں اپنے معیار تشنگی کے لیے پھر کوئی قہر ...

مزید پڑھیے

ہر سمت سکوت بولتا ہے

ہر سمت سکوت بولتا ہے یہ کون سے جرم کی سزا ہے ہیں پاؤں لہولہان لیکن منزل کا پتہ تو مل گیا ہے اب لائے ہو مژدۂ بہاراں جب پھول کا رنگ اڑ چکا ہے زخموں کے دیے کی لو میں رقصاں ارباب جنوں کا رت جگا ہے اب تیرے سوا کسے پکاروں تو میرے وجود کی صدا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 2020 سے 6203