قومی زبان

جب نہ جیتے جی مرے کام آئے گی

جب نہ جیتے جی مرے کام آئے گی کیا یہ دنیا عاقبت بخشائے گی جب ملے دو دل مخل پھر کون ہے بیٹھ جاؤ خود حیا اٹھ جائے گی گر یہی ہے اس گلستاں کی ہوا شاخ گل اک روز جھونکا کھائے گی داغ سودا ایک دن دے گا بہار فصل اس گل کی شگوفہ لائے گی کچھ تو ہوگا ہجر میں انجام کار بے قراری کچھ نہ کچھ ...

مزید پڑھیے

ذلت ہے جو پھیلائے بشر پیش دگر ہاتھ

ذلت ہے جو پھیلائے بشر پیش دگر ہاتھ یا رب نہ کبھی ہاتھ کا ہو دست نگر ہاتھ پنجہ کریں خورشید سے بیداروں کی پلکیں فرقت کی شب آ جائے جو دامان سحر ہاتھ ہیں صاحب سر پنجہ رئیسوں کو نچاتے سر پر جو پڑے چوٹ تو ہوتا ہے سپر ہاتھ جی میں ہے کہوں ان سے کہ ہوں دست گرفتہ وہ سن کے خجل ہوں جو کہیں ...

مزید پڑھیے

جب ہو چکی شراب تو میں مست مر گیا

جب ہو چکی شراب تو میں مست مر گیا شیشے کے خالی ہوتے ہی پیمانہ بھر گیا نے قاصد خیال نہ پیک نظر گیا ان تک میں اپنی آپ ہی لے کر خبر گیا روح روان و جسم کی صورت میں کیا کہوں جھونکا ہوا کا تھا ادھر آیا ادھر گیا طوفان نوح اس میں ہو یا شور حشر ہو ہوتا جو کچھ ہے ہوگا جو گزرا گزر گیا سمجھا ...

مزید پڑھیے

قرص خور کو دیکھ کر تسکیں رکھ اے مہمان صبح

قرص خور کو دیکھ کر تسکیں رکھ اے مہمان صبح تا دہان شام پہنچاتا ہے رازق نان صبح معنیٔ روشن جو ہوں تو سو سے بہتر ایک شعر مطلع خورشید کافی ہے پئے دیوان صبح سیر چشمی دید کے بھوکوں کی دیکھو کہتی ہے مہ پنیر شام ہے خورشید تاباں نان صبح صدقے اس پروردگار پاک کے جس نے کیا بہر طفل غنچہ ...

مزید پڑھیے

ٹکڑے جگر کے آنکھ سے بارے نکل گئے

ٹکڑے جگر کے آنکھ سے بارے نکل گئے ارمان آج دل کے ہمارے نکل گئے واحسرتا کہ لخت جگر تھے جو طفل اشک آنکھوں کے سامنے سے ہمارے نکل گئے شعلے ہمارے آہوں کے ایسے ہوئے بلند ابروں سے آسماں کے ستارے نکل گئے مانند دشت خرقہ ہوا کہنہ اے نسیمؔ دامن کے ہر طرف سے کنارے نکل گئے

مزید پڑھیے

بڑی جانی ہوئی آواز میں کس نے بلایا ہے

بڑی جانی ہوئی آواز میں کس نے بلایا ہے کوئی گزرے ہوئے وقتوں سے شاید لوٹ آیا ہے چلو اب سوچ کر یہ ہی شرافت سے بچھڑ جائیں یہ دل ول تو جوانی میں سبھی نے ہی لگایا ہے ہمیں تو لگ رہا تھا یہ کہ ہم گمنام ہیں لیکن کسی نے آج پھر دروازہ دل کا کھٹکھٹایا ہے ہمارا نام ہی آیا نہیں پورے فسانے ...

مزید پڑھیے

چاند کی اپنی کہانی رات کا قصہ الگ

چاند کی اپنی کہانی رات کا قصہ الگ داستان عشق میں ہے تجربہ سب کا الگ اجنبی ہم آج سے ہیں پر سفر تو ہے وہی صرف کہہ دینے سے ہوتا ہے کہیں رستہ الگ ایک لمحہ بس وہی ہے اور باقی کچھ نہیں زندگی ساری الگ اور وصل کا لمحہ الگ روشنی دیپک کی سورج چاند کی اپنی جگہ نور سے روشن ترے ماتھے کا یہ ...

مزید پڑھیے

چاند میں ہے کوئی پری شاید

چاند میں ہے کوئی پری شاید اس لیے ہے یہ چاندنی شاید لوگ اس کو مسیحا کہتے تھے ویسے وہ بھی تھا آدمی شاید دل کا دروازہ کھول رکھا ہے یوں ہی آ جائے گا کوئی شاید سانس آتی ہے سانس جاتی ہے اس کو کہتے ہیں زندگی شاید آپ کا ذکر ہو مسلسل ہو بس یہی تو ہے شاعری شاید میرے آنسو تمہاری آنکھوں ...

مزید پڑھیے

کہاں سے آ گیا کہاں یہ شام بھی کہاں ہوئی

کہاں سے آ گیا کہاں یہ شام بھی کہاں ہوئی نہ ہم نفس نہ ہم زباں یہ شام بھی کہاں ہوئی بجھی نظر بجھے قدم نہ راہبر نہ ہم سفر نہ رہ گزر نہ کارواں یہ شام بھی کہاں ہوئی نہ شمع دل نہ شمع رخ نجوم شب نہ ماہ شب نگاہ و دل دھواں دھواں یہ شام بھی کہاں ہوئی نہ گیسوؤں کی چھاؤں ہے نہ عارضوں کی ...

مزید پڑھیے

کبھی نغمۂ غم آرزو کبھی زندگی کی پکار ہم

کبھی نغمۂ غم آرزو کبھی زندگی کی پکار ہم کبھی خاک کوچۂ یار ہم کبھی شہریار بہار ہم کبھی چل پڑے تری راہ میں تو حد جنوں سے گزر گئے ترے انتظار میں ہو گئے کبھی نقش راہگزار ہم ہمیں کشتگان حیات سے ہیں جنون عشق کی عظمتیں کبھی ہنس پڑے تہ تیغ ہم کبھی جھوم اٹھے سر دار ہم رہے مضطرب کبھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2008 سے 6203