قومی زبان

آشنا ہو کر بھی اس نے مجھ کو پہچانا نہ تھا

آشنا ہو کر بھی اس نے مجھ کو پہچانا نہ تھا اس کے اس برتاؤ کا کچھ مجھ کو اندازہ نہ تھا ایسے اک تپتے سفر کی داستاں تھی زندگی دھوپ تھی سائے میں لیکن دھوپ میں سایہ نہ تھا کیا کہوں تجھ سے بچھڑ کر زندگی کیسے کٹی حرکتیں کرتی تھی سانسیں اور میں زندہ نہ تھا گر گیا کیوں یک بہ یک تارا زمیں ...

مزید پڑھیے

دھوپ میں نہائے تھے روشنی کے پہرے تھے

دھوپ میں نہائے تھے روشنی کے پہرے تھے پھر بھی ان درختوں کے سائے کتنے گہرے تھے دیکھتا رہا مجھ کو آئنہ بھی حیرت سے آج میرے چہرے میں جذب کتنے چہرے تھے ان دنوں تو خوشیوں کے رنگ بھی ہیں افسردہ ان دنوں اداسی کے رنگ بھی سنہرے تھے وقت قتل چیخا میں کوئی کچھ نہیں بولا لوگ میری بستی کے ...

مزید پڑھیے

جاتا رہا قلب سے ساری خدائی کا عشق

جاتا رہا قلب سے ساری خدائی کا عشق قابل تعریف ہے تیرے فدائی کا عشق کیسی مصیبت ہے یہ گل کو خموشی کا شوق بلبل بیتاب کو ہرزہ سرائی کا عشق پڑ گئی بکنے کی لت ورنہ یہاں تک نہ تھا واعظ نافہم کو ہرزہ سرائی کا عشق کرتا ہوں جو بار بار بوسۂ رخ کا سوال حسن کے صدقے سے ہے مجھ کو گدائی کا ...

مزید پڑھیے

زباں ہے بے خبر اور بے زباں دل

زباں ہے بے خبر اور بے زباں دل کہے کس طرح سے راز نہاں دل نہیں دنیا کو دل داری کی عادت سنائے کس کو اپنی داستاں دل نہ پوچھو بے ٹھکانوں کا ٹھکانا وہیں ہم بھی تھے سرگرداں جہاں دل کٹی ہے زندگی سب رنج کھاتے کہے کیا عمر بھر کی داستاں دل ہمیں بھی تھی کبھی ملنے کی لذت ہمارا بھی کبھی تھا ...

مزید پڑھیے

بہت سے زمیں میں دبائے گئے ہیں

بہت سے زمیں میں دبائے گئے ہیں بہت ان کے عاشق جلائے گئے ہیں ہمیشہ سے عاشق ستائے گئے ہیں ہمیں کیا نئے یاں جلائے گئے ہیں اندھیرا نہ ہونے دیا وصل کی شب وہ شمعوں پہ شمعیں جلائے گئے ہیں نہیں بے سبب ان کو مجھ سے رکاوٹ بہت ہی سکھائے پڑھائے گئے ہیں نہیں وصل کی ان سے فرمائش آساں بہت منہ ...

مزید پڑھیے

کلیجہ رہ گیا اس وقت پھٹ کر

کلیجہ رہ گیا اس وقت پھٹ کر کہا جب الوداع اس نے پلٹ کر تسلی کس طرح دیتا اسے میں میں خود ہی رو پڑا اس سے لپٹ کر اکیلا رہ گیا ہوں کارواں میں کہاں تک آ گئی تعداد گھٹ کر نہ کوئی عکس باقی تھا نہ صورت رکھا جو آئنہ میں نے الٹ کر پرندہ اور اڑنا چاہتا تھا افق ہی رہ گیا خود میں سمٹ کر نہ بچ ...

مزید پڑھیے

سنی ہر بات اپنے رہنما کی

سنی ہر بات اپنے رہنما کی یہی اک بھول ہم نے بارہا کی ہوئی جو زندگی سے اتفاقاً وہی بھول اس نے پھر اک مرتبہ کی مجھی میں گونجتی ہیں سب صدائیں مگر پھر بھی ہے خاموشی بلا کی ہر اک کردار میں ڈھلنے کی چاہت متانت دیکھیے بہروپیا کی ازل کے پیشتر بھی کچھ تو ہوگا کہاں پھر حد ملے گی ابتدا ...

مزید پڑھیے

وہ لمحہ جس سے رنج زندگی نکھرا ہوا سا

وہ لمحہ جس سے رنج زندگی نکھرا ہوا سا کبھی ٹھہرا ہوا ہے تو کبھی گزرا ہوا سا بہا کر لے گیا سیلاب میں جو رات کیا کیا وہ دریا لگ رہا ہے دن میں کچھ اترا ہوا سا مری پہچان وہ پوچھے تو کیسے میں بتاؤں میں اپنے آپ میں سمٹا ہوں پر بکھرا ہوا سا کہیں بے رنگ سی تصویر ہے کیوں اے مصور کہیں تصویر ...

مزید پڑھیے

کسی کے ہجر میں قربان رات کرتے ہوئے

کسی کے ہجر میں قربان رات کرتے ہوئے کٹا ہے وقت ستاروں سے بات کرتے ہوئے وہ کیا ڈرے گا نئی واردات کرتے ہوئے ہمیں گزرنا ہے خود احتیاط کرتے ہوئے کسی کے خواب اٹھائے کسی کی آنکھوں نے کسی کو دیکھا ہے پلکوں کو ہاتھ کرتے ہوئے یہ راہ عشق ہے اس میں بلا کی پھسلن ہے سنبھل سنبھل کے چلو احتیاط ...

مزید پڑھیے

جسارت کے رہتے بھی خاموش ہونا

جسارت کے رہتے بھی خاموش ہونا ہے اس کے سوا کیا ستم پوش ہونا پریشاں نہیں تہمتوں سے میں لیکن گراں ہے تمہارا یہ خاموش ہونا محبت میں الزام لگنے دو یارو وفا میں ہے جائز خطا پوش ہونا وہی اک قد آور جو تشہیر میں تھا پراسرار ہے اس کا روپوش ہونا مری چاہتوں کو ہوا دے گیا ہے ان آنکھوں کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1987 سے 6203