آشنا ہو کر بھی اس نے مجھ کو پہچانا نہ تھا
آشنا ہو کر بھی اس نے مجھ کو پہچانا نہ تھا اس کے اس برتاؤ کا کچھ مجھ کو اندازہ نہ تھا ایسے اک تپتے سفر کی داستاں تھی زندگی دھوپ تھی سائے میں لیکن دھوپ میں سایہ نہ تھا کیا کہوں تجھ سے بچھڑ کر زندگی کیسے کٹی حرکتیں کرتی تھی سانسیں اور میں زندہ نہ تھا گر گیا کیوں یک بہ یک تارا زمیں ...