قومی زبان

کبھی جو رہتے تھے اس شہر میں خدا کی طرح

کبھی جو رہتے تھے اس شہر میں خدا کی طرح وہ مٹ گئے ہیں مرے نقش ہائے پا کی طرح کہاں تھا ہوش کہ میں عرض مدعا کرتا گزر گئے وہ مرے پاس سے ہوا کی طرح دھیان تک نہ دیا میرے ہم نشینوں نے میں گونجتا رہا صحرا میں اک صدا کی طرح وہ جن کی یاد کی خوشبو مجھے ستاتی ہے بسے ہوئے ہیں مرے ذہن میں صبا کی ...

مزید پڑھیے

ان کے گھر میں چاند اور تارے اپنے گھر میں آگ

ان کے گھر میں چاند اور تارے اپنے گھر میں آگ اپنی اپنی قسمت پیارے اپنا اپنا بھاگ شاید آج وہ میرے گھر میں رات گئے تک آئیں بھور سمے سے بول رہا ہے اپنی چھت پر کاگ بوڑھی دھرتی ایسی ناری جس کے سو سو روپ اس کے کیس میں پھنس جاتے ہیں کیسے کیسے گھاگ یہ کل جگ ہے پیارے اس جگ میں آنند ...

مزید پڑھیے

کیا کوئی مرے غم میں رات بھر تڑپتا ہے

کیا کوئی مرے غم میں رات بھر تڑپتا ہے کیوں مرا دل محزوں شام سے دھڑکتا ہے عاشقی کی بستی میں شاعری کی دنیا میں درد جتنا بڑھتا ہے آدمی نکھرتا ہے چاند سو گیا شاید رات ڈھلنے والی ہے کس امید میں اے دل پھر بھی تو مچلتا ہے کج کلاہ مہ پارو میری بھی ذرا سن لو آفتاب کو دیکھو ایک وقت ڈھلتا ...

مزید پڑھیے

صبح دم کیسے ملے محفل میں پروانے کی خاک

صبح دم کیسے ملے محفل میں پروانے کی خاک سرمۂ چشم وفا کیشاں ہے دیوانے کی خاک جوشش آوارگی شوق مجنوں منفعل شاہد صحرا نوردی میری ویرانے کی خاک چپکے چپکے شمع سوزاں رات بھر روتی رہی رکھ کے اپنے سامنے محفل میں پروانے کی خاک کیا کوئی پھر قیس آشفتہ چلا ہے سوئے دشت کس کو اٹھ کر دیکھتی ...

مزید پڑھیے

درد و غم آج بھی ہے آہ و فغاں آج بھی ہے

درد و غم آج بھی ہے آہ و فغاں آج بھی ہے تیرگی کا وہی سیلاب رواں آج بھی ہے اے مسیحا نفسو تم کو خبر ہے کہ نہیں دل کی بستی سے مرے اٹھتا دھواں آج بھی ہے ہے غلط دعویٔ مشاطگیٔ کاکل دہر گیسوئے زیست پریشان یہاں آج بھی ہے کیوں سر شام مژہ سے مری تارے ٹوٹے چاندنی کا وہی پر کیف سماں آج بھی ...

مزید پڑھیے

ایک نادان نظم

حبیب جاں تم اگر وبا کے دنوں میں آئے تو بصد عقیدت و محبت تمہارے ہاتھ چوموں گی کیونکہ یہ میرے مسیحا کے ہاتھ ہیں تمہاری چادر کو اپنے ہاتھوں سے تہہ کر کے اپنے سرہانے رکھوں گی کہ اس بکل کی حرارت مجھ پر کشف کے در کھولتی ہے تمہارے جوتوں کو قرینے سے جوڑ کر پلنگ کے پاس رکھوں گی تمہارے ساتھ ...

مزید پڑھیے

ہم تری تکذیب کر سکتے نہیں

اے زمانے ہم تری تکذیب کر سکتے نہیں تو نے ہٹائے پردہ ہائے خوش نما وہ جن کے پیچھے چھپ کے بیٹھی زندگی پہچان بھی پاتے تو کیسے اے زمانے ہم تری تکذیب کر سکتے نہیں کانٹوں پہ تو نے جب گھسیٹا تو سبک پھولوں میں تلنے کی کتابی خواہشوں سے جان چھوٹی اے زمانے تو نے ہم کو تجربہ گاہ نفی میں لا کے ...

مزید پڑھیے

آواز سے باہر

کئی صدیوں سے آوازوں نے روحوں کو بھنبھوڑا ہے سجل احساس کی رگ سے لہو کا آخری قطرہ قرینے سے نچوڑا ہے مرے اگلوں کو مجھ کو گم شدہ خوابوں کی منزل پر بنا آواز جانا ہے صدا کے معبدوں کی تیرگی کو چھوڑ کر پیچھے خلاؤں میں نیا رستہ بنانا ہے

مزید پڑھیے

سفر ندیا کے پانی کو ودیعت ہے

سمندر سر جھکائے با نہیں پھیلائے ہوئے چپ چاپ بیٹھا ہے ابھی کچھ دیر ہی پہلے تلاطم خیز موجیں تھیں زمانہ اس کی ٹھوکر پر سمندر سر جھکائے با نہیں پھیلائے ہوئے چپ چاپ بیٹھا ہے تھکا ماندا کسی ہارے کھلاڑی کی طرح لیکن اچانک ہی کسی مانوس خوشبو نے اسے چونکا دیا ہے سامنے معصوم ندیا سانس ...

مزید پڑھیے

کہ میں اندھے خلاؤں سے بنی پاتال کا مقسوم ٹھہری

مگر اے روشنی اے کائناتی روشنی ان سورجوں تاروں زمینوں کہکشاؤں کے لیے دل میں ترا نور محبت ایک جیسا ہے مجھے پاتال سے کھینچا مرا میلا بدن دھویا الوہی گھیر میں لے کر مری ان خشک جھیلوں کو مقدس آنسوؤں سے پھر شناسا کر دیا اے روشنی ان خشک جھیلوں کے کناروں پر تری ہلکی سی شبنم سے ترے شیتل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1982 سے 6203