قومی زبان

کسی سے کیسے کہے کوئی تجربہ دل کا

کسی سے کیسے کہے کوئی تجربہ دل کا عجیب سانحہ ہوتا ہے سانحہ دل کا کہیں نہ پھونک دیں شعلہ بدن متاع سکوں چلا ہے شہر نگاراں کو قافلہ دل کا مہہ‌ و نجوم مری گرد راہ پا نہ سکے مہہ‌ و نجوم سے آگے تھا حوصلہ دل کا اسیر کاکل لالہ رخاں وہ کیا ہوتا صلیب و دار و رسن سے تھا رابطہ دل کا وہ میری ...

مزید پڑھیے

وفا شعاروں نے کی ہیں محبتیں کیا کیا

وفا شعاروں نے کی ہیں محبتیں کیا کیا ہیں ان کے نام سے یارو روایتیں کیا کیا ہم اہل درد جلاتے رہے سروں کے چراغ ہیں شہر شب میں ہماری حکایتیں کیا کیا یہ اضطراب یہ نالے یہ سوزش پیہم ہیں ان کی دیکھیے ہم پر عنایتیں کیا کیا سنو کہ آج بھی ہیں ذہن کے اجنتا میں مرے ندیمؔ منقش وہ صورتیں کیا ...

مزید پڑھیے

میں ہوں اپنے کمرے میں جیسے اجنبی تنہا

میں ہوں اپنے کمرے میں جیسے اجنبی تنہا آپ بھی چلے آتے اس طرف کبھی تنہا ہر طرف حوادث کی موجزن ہوائیں ہیں کس سے کس سے ٹکرائے ایک آدمی تنہا جا کے بس کوئی اتنا اہرمن سے کہہ دیتا وقت کا مداوا ہے آج روشنی تنہا دیکھنے میں دنیا ہے اک ہجوم دل داراں سوچئے تو ہوتی ہے ہر کی زندگی تنہا ہر ...

مزید پڑھیے

شب کی چادر سے لپٹ کر غم کا پیکر سو گیا

شب کی چادر سے لپٹ کر غم کا پیکر سو گیا جتنی یادیں تھیں وہ آنکھوں میں چھپا کر سو گیا کوئی میری بیکسی کا اس سے اندازہ کرے رکھ کے اپنے سر کے نیچے رات پتھر سو گیا شومیٔ تقدیر کہتے ہیں اسی کو غالباً میں اٹھا تو دیکھیے میرا مقدر سو گیا اللہ اللہ کوئی اس کی بے حسی کو کیا کہے سن کے طعنے ...

مزید پڑھیے

کڑی تھی دھوپ تو سایہ اڑا گیا وہ شخص

کڑی تھی دھوپ تو سایہ اڑا گیا وہ شخص سیہ تھی رات تو مشعل جلا گیا وہ شخص مسیحا بن کے جو مرہم بدست آیا تھا کچھ اور درد کو میرے بڑھا گیا وہ شخص گزر کے جاں سے محبت کے راستے میں آج الم کشوں کو رہ نو دکھا گیا وہ شخص سنا کے درد بھری داستاں مظالم کی سبھوں کو خون کے آنسو رلا گیا وہ شخص وہ ...

مزید پڑھیے

کس طرح یاد میں اس شوخ کی بیکل دریا

کس طرح یاد میں اس شوخ کی بیکل دریا کوہ میں دشت میں پھرتا رہا پاگل دریا چاندنی رات وہ کافر یہ فضائے مے گوں پاس انگڑائیاں لیتا ہوا چنچل دریا جب وہ آسیب زدہ دشت سے گزرا تو لگا جیسے نوخیز سی بیوہ کا ہے آنچل دریا اپنی خاموشی پہ کیا اور کہوں اس کے سوا جیسے طوفان سے پہلے کوئی بیکل ...

مزید پڑھیے

کالی دھوپ

سورج آج ہمارے آنگن میں کالی چادر اوڑھے اترا ہے کالی کرنیں اس کی رگ رگ سے پھوٹ رہی ہیں کس بیدردی سے اجیالے کو لوٹ رہی ہے کالی دھوپ کے زہر سے آنگن کے سارے پتے زرد ہوئے ہیں کومل کلیاں سوکھ گئی ہیں نیلے پیلے اودے پھول کجلائے بے رنگ ہوئے ہیں اس کی کالی چادر جب اک دن بوسیدہ ہو جائے ...

مزید پڑھیے

وفا کے بدلے تمہارا عتاب کیسا ہے

وفا کے بدلے تمہارا عتاب کیسا ہے محبتوں کا مری یہ جواب کیسا ہے تھا آج سنگ مقدر مرے لیے لیکن تمہارے ہاتھ میں تازہ گلاب کیسا ہے وہ قتل کرتے ہیں ہم آہ بھی نہیں کرتے ستم گروں کو ہمارا جواب کیسا ہے امیر شہر سے کہہ دو غریب شہر کوئی فصیل شہر تلے محو خواب کیسا ہے اگر حیات ہے نغمہ تو پھر ...

مزید پڑھیے

نمود شام جو تیرہ شبی بھی دیتی ہے

نمود شام جو تیرہ شبی بھی دیتی ہے باختتام سفر روشنی بھی دیتی ہے یہ بات اہل خرد کی سمجھ میں آ نہ سکی جنوں کی بے خبری آگہی بھی دیتی ہے بہت ہی خوب ہے یارو خلوص دل داراں عجیب عزم مگر بیکسی بھی دیتی ہے سکوت ساز میں آہنگ درد دل مضمر صدائے کرب کبھی خامشی بھی دیتی ہے نشان جادۂ منزل بہ ...

مزید پڑھیے

وہ ایک شخص جو محفل میں بولتا تھا بہت

وہ ایک شخص جو محفل میں بولتا تھا بہت سنا ہے اہل نظر سے وہ کھوکھلا تھا بہت ردائے شب سے لپٹ کے سواد شام کے بعد کسی کے بارے میں پہروں میں سوچتا تھا بہت ابھی جو پاس سے نظریں چرا کے گزرا ہے گئی رتوں میں وہی مجھ کو چاہتا تھا بہت اس اجنبی نے بالآخر پلٹ کے دیکھ لیا طلسمی شہر میں کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1981 سے 6203