قومی زبان

جاوداں ہے خاموشی بے کراں ہے خاموشی

جاوداں ہے خاموشی بے کراں ہے خاموشی لفظ گر ستارے ہیں آسماں ہے خاموشی جس میں لوگ روتے ہیں جس میں لوگ ہنستے ہیں جس کو سب سمجھتے ہیں وہ زباں ہے خاموشی دو نگاہیں کہتی ہیں دو نگاہیں سنتی ہیں کس قدر محبت پر مہرباں ہے خاموشی

مزید پڑھیے

کل لگ رہا تھا مجھ کو کہ بے دست و پا ہوں میں

کل لگ رہا تھا مجھ کو کہ بے دست و پا ہوں میں اور آج پھر سے پیروں پہ اپنے کھڑا ہوں میں کچھ گام مصلحت کی بھی رہ پر چلا ہوں میں کہنے کو راہگیر رہ شوق کا ہوں میں عہدہ کو میں کسی کے کبھی پوجتا نہیں کردار ہی کے آگے ہمیشہ جھکا ہوں میں اشعار میرے کیا ہیں فقط کچھ تاثرات دنیا اگر کتاب ہے تو ...

مزید پڑھیے

افق کو تکتی ہیں مدت سے بے شمار آنکھیں

افق کو تکتی ہیں مدت سے بے شمار آنکھیں سحر کا خواب لیے سب امیدوار آنکھیں میں جانتا ہوں کہ ہرگز نہ آئے گا اب وہ نبھائے جاتی ہیں پر فرض انتظار آنکھیں وہ دیکھ پائے زمانہ کو میری نظروں سے اسے اے کاش مری دے سکوں ادھار آنکھیں مجھے دلاتی ہیں جنگل میں ہونے کا احساس یہ شہر والوں کی عیار ...

مزید پڑھیے

میرے بچہ فٹ پاتھوں سے ادلا بدلی کر آئے ہیں

میرے بچہ فٹ پاتھوں سے ادلا بدلی کر آئے ہیں چند کھلونے دے آئے ہیں ڈھیروں خوشیاں گھر لائے ہیں سوکھا، بارش کے ماروں کا دکھ کب جا کر ختم ہوا سورج دیکھ کے ڈر جائے ہیں بادل دیکھ کے گھبرائے ہیں میرے جیسے مانگ سکیں کچھ کتنا مشکل ہوتا ہے سکوچائے ہیں شرمائے ہیں گھبرائے ہیں ہکلائے ...

مزید پڑھیے

جھوٹ کہوں تو دل تیار نہیں ہوتا

جھوٹ کہوں تو دل تیار نہیں ہوتا سچ سے لیکن بیڑا پار نہیں ہوتا آپ نفع میں خوش ہیں ہم گھاٹے میں خوش رشتوں کا ہم سے بیوپار نہیں ہوتا رام کی شبری جنگل میں تو رہتی ہے بیروں پر اس کا ادھیکار نہیں ہوتا سب کیول اپنی کمزوری جیتے ہیں رشتہ تو کوئی بیمار نہیں ہوتا سننا سہنا چپ رہنا پھر ...

مزید پڑھیے

سمے کی دھوپ میں کیسا بھی غصہ سوکھ جاتا ہے

سمے کی دھوپ میں کیسا بھی غصہ سوکھ جاتا ہے مگر میں کیا کروں لہجہ بھی میرا سوکھ جاتا ہے اسے تالاب جھرنے جھیل سے جھڑنا ضروری ہے سفر میں تنہا چلنے والا دریا سوکھ جاتا ہے بھروسہ ایک مرہم کی طرح موجود رہتا ہے اگر یہ پاس ہو تو زخم سارا سوکھ جاتا ہے اصولوں کی چمک جاتے ہی چہرا بجھ گیا ...

مزید پڑھیے

صبح سے رات تک گھر میں بٹی ہے

صبح سے رات تک گھر میں بٹی ہے ذرا سا چھیڑ دو تو ہنس پڑی ہے کوئی احساس جب کاندھا چھوئے تو خوشی سے اگلے ہی پل رو پڑی ہے کوئی مشکل میں ہو آگے دکھی ہے کہ اس کے ہاتھ میں جادو چھڑی ہے بہت روتی ہے پر تنہائی میں سبھی رشتوں کی وہ طاقت بنی ہے میں اس کی تلملاہٹ دیکھتا ہوں کسی نے بات جب جھوٹی ...

مزید پڑھیے

لائق کچھ نا لائق بچے ہوتے ہیں

لائق کچھ نا لائق بچے ہوتے ہیں شعر کہاں سارے ہی اچھے ہوتے ہیں اوروں کے دکھ میں آنکھیں بھر آتی ہیں ایسے آنسو خالص سچے ہوتے ہیں بچوں کی خوشیاں ڈھیروں سکھ دیتی ہیں ہاتھ میں امیدوں کے لچھے ہوتے ہیں ہم ہی الٹا سیدھا سوچا کرتے ہیں رشتے تھوڑے پکے کچے ہوتے ہیں جب آنکھوں کا ایک بھروسہ ...

مزید پڑھیے

وہ پاگل سب کے آگے رو چکا ہے

وہ پاگل سب کے آگے رو چکا ہے کسی کا دکھ کوئی کب بانٹتا ہے ہزاروں بار مجھ سے مل چکا ہے ضرورت ہو تبھی پہچانتا ہے کبھی تو ملک کا مالک کہیں گے کبھی اک اردلی بھی ڈانٹتا ہے یہ گھر ہے اپنی مرضی جی رہا ہے پتا ہے رات ساری جاگتا ہے وہ پیارے دل میں آ کر بس گئے ہے جو ان کو بھا گیا وہ دیوتا ...

مزید پڑھیے

تماشے چٹکلے تالی میں مت رکھ

تماشے چٹکلے تالی میں مت رکھ ادب کو ایسی بد حالی میں مت رکھ کہ زہر ہو جائیں گے پکوان سارے انہیں احساس کی تھالی میں مت رکھ خیالوں کا پرندہ کہہ رہا ہے مجھے آکاش دے جالی میں مت رکھ اداسی خون میں گھل جائے گی پھر اسے تو چائے کی پیالی میں مت رکھ بڑکپن پیڑ سکھلاتے ہیں ہم کو پکے پھل کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1970 سے 6203