قومی زبان

دیکھ محرومی کی برکت زندہ ہوں

دیکھ محرومی کی برکت زندہ ہوں میں ترے غم کی بدولت زندہ ہوں جنتیں ہیں مردہ جسموں کے لئے یہ سزا ہے یا عنایت زندہ ہوں اس خزاں میں کانٹے تک بھی مر چکے پھر بھی کہتی ہے وہ نکہت زندہ ہوں سچ ہے دنیا نفرتوں کی ہے مگر میں یہاں بھی با محبت زندہ ہوں لکھ رکھے ہیں میں نے بھی فضل عذاب مالک روز ...

مزید پڑھیے

خواب چاہے خواب ہی ہو دل لگانے دے مجھے

خواب چاہے خواب ہی ہو دل لگانے دے مجھے اس حقیقت سے کبھی تو جاں چھڑانے دے مجھے انقلاب آ کے رہے گا حق کی ہوگی جیت ہی بیٹھ میرے پاس خود کو ورغلانے دے مجھے بے طرح تنہا ہیں وہ جو عشق کے قائل نہیں ان کو سینے سے لگا کچھ پل سلانے دے مجھے آج کل تو خواب بھی آنے لگے ہیں عام سے آ بچھڑ جا خواب ...

مزید پڑھیے

دل ہی دل میں آرزو جس کی کیا کرتے تھے ہم

دل ہی دل میں آرزو جس کی کیا کرتے تھے ہم مشورے بھی عشق کے اس کو دیا کرتے تھے ہم جانے کتنے سال گزرے جانے کتنے دن گئے ایک ایسا دور بھی تھا جب جیا کرتے تھے ہم اب چھپائے پھر رہے ہیں ہم جو اپنے زخم دل ان پیالوں سے کبھی کھل کر پیا کرتے تھے ہم ہم کو ہر مخلص دوا بھی لگتی ہے خنجر سی اب ایک ...

مزید پڑھیے

پکارا جب کسی نے یاد آئی

پکارا جب کسی نے یاد آئی دھڑک تجھ میں دل برباد آئی بہت پہلے کھنڈر ہو بھی چکی تھی وہ دنیا جو نظر آباد آئی جہاں آواز اٹھانا بھی تھا ممنوع مری دھڑکن ہی بن کر ناد آئی کوئی شکوہ لبوں سے ہو نہ پایا سبھی ظلموں پہ میری داد آئی ہمیں معلوم ہیں اس کے ٹھکانے ہوا میں گھل کے جو فریاد ...

مزید پڑھیے

عشق میں سنتے تو تھے لطف جوانی اور ہے

عشق میں سنتے تو تھے لطف جوانی اور ہے جو مگر گزری ہے ہم پر وہ کہانی اور ہے اس نے ماتھے پر رکھے لب اور ہوئے روشن نصیب سب متاع دہر میں اس کی نشانی اور ہے لفظ کن سے ایک دنیا خلق کرنا تھا کمال کن کے آگے جو ہوا اس کی کہانی اور ہے ایک زخم دل سے پھوٹے مختلف رنگوں کے دکھ ہے الگ خون جگر ...

مزید پڑھیے

پاس میں رہ کے نگاہوں سے بچائے رکھنا

پاس میں رہ کے نگاہوں سے بچائے رکھنا اپنے دکھ درد کو اپنوں سے چھپائے رکھنا ہم گڑا بھاگ گھٹا جوڑ نہیں کر پاتے اپنی عادت میں ہے رشتوں کو نبھائے رکھنا خود کو خود سے ہی چھپانے کا طریقہ ہے یہ اپنی باتوں میں سدا خود کو لگائے رکھنا پیاس جب ہاتھ اٹھائے تو نہ خالی جائے بادلو اتنی تو ...

مزید پڑھیے

چاندی کا بدن سونے کا من ڈھونڈ رہا ہے

چاندی کا بدن سونے کا من ڈھونڈ رہا ہے اوروں میں ہی اچھائی کا دھن ڈھونڈھ رہا ہے کچھ پیڑ ہیں نفرت کی ہوا جن سے بڑھی ہے یہ باغ مگر اب بھی امن ڈھونڈ رہا ہے سنگم کے علاقے سے ہے پہچان ہماری یہ دل تو وہی گنگ و جمن ڈھونڈ رہا ہے انجان سے اک خوف کو ڈھوتا ہوا انسان اپنے کو بچانے کا جتن ڈھونڈ ...

مزید پڑھیے

کیسے کہہ دیتا کوئی کردار چھوٹا پڑ گیا

کیسے کہہ دیتا کوئی کردار چھوٹا پڑ گیا جب کہانی میں لکھا اخبار چھوٹا پڑ گیا سادگی کا نور چہرے سے ٹپکتا ہے حضور میں نے دیکھا جوہری بازار چھوٹا پڑ گیا مسکراہٹ لے کے آیا تھا وہ سب کے واسطے اتنی خوشیاں آ گئیں گھر بار چھوٹا پڑ گیا درجنوں قصے کہانی خود ہی چل کر آ گئے اس سے جب بھی میں ...

مزید پڑھیے

اک یہی وصف ہے اس میں جو امر لگتا ہے

اک یہی وصف ہے اس میں جو امر لگتا ہے وہ کڑی دھوپ میں برگد کا شجر لگتا ہے یوں تو چاہت میں نہاں جون کی حدت ہے مگر سرد لہجے میں دسمبر کا اثر لگتا ہے جب سے جانا کہ وہ ہم شہر ہے میرا تب سے شہر لاہور بھی جادو کا نگر لگتا ہے جانے کب گردش ایام بدل ڈالے تجھے جیت کر تجھ کو مجھے ہار سے ڈر لگتا ...

مزید پڑھیے

وہ ہنستی آنکھیں حسیں تبسم دمکتا چہرہ کتاب جیسا

وہ ہنستی آنکھیں حسیں تبسم دمکتا چہرہ کتاب جیسا دراز قامت ہے سرو آسا ہے رنگ کھلتے گلاب جیسا وہ دھیمے لہجے کے زیر و بم میں پھوار جیسی حسین رم جھم ہے گفتگو میں بہم تسلسل رواں رواں سا چناب جیسا کچھ اس کے عارض کی دل فریبی کچھ اس کے ہونٹوں کا رنگ دل کش وہ سر سے پا ہے غزل کا لہجہ نیا نیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1969 سے 6203