کل لگ رہا تھا مجھ کو کہ بے دست و پا ہوں میں
کل لگ رہا تھا مجھ کو کہ بے دست و پا ہوں میں
اور آج پھر سے پیروں پہ اپنے کھڑا ہوں میں
کچھ گام مصلحت کی بھی رہ پر چلا ہوں میں
کہنے کو راہگیر رہ شوق کا ہوں میں
عہدہ کو میں کسی کے کبھی پوجتا نہیں
کردار ہی کے آگے ہمیشہ جھکا ہوں میں
اشعار میرے کیا ہیں فقط کچھ تاثرات
دنیا اگر کتاب ہے تو حاشیہ ہوں میں
بیزار ہو سکیں گے نہ اک دوسرے سے ہم
تو میرا آئنہ ہے ترا آئنہ ہوں میں