قومی زبان

مرے درد کی تجھے کیا خبر ہے جسے خبر کوئی اور ہے

مرے درد کی تجھے کیا خبر ہے جسے خبر کوئی اور ہے تو علاج رہنے دے چارہ گر مرا چارہ گر کوئی اور ہے وہ جو آئنے کے ہے روبرو وہی آئنے میں ہے ہو بہ ہو یہ نہ سوچ یہ نہ خیال کر کہ ادھر ادھر کوئی اور ہے ہیں جہاں میں ایک سے اک حسیں کمی حسن والوں کی تو نہیں جسے چاہتا ہوں میں ہم نشیں وہ حسیں مگر ...

مزید پڑھیے

آرزو حسرت تمنا مدعا کوئی نہیں

آرزو حسرت تمنا مدعا کوئی نہیں جب سے تم ہو میرے دل میں دوسرا کوئی نہیں ہے وفائی کا مجھے تجھ سے گلہ کوئی نہیں پیار تو میں نے کیا تیری خطا کوئی نہیں چاہنے والا ہوں تیرا جب کبھی میں نے کہا کہہ دیا اس بے وفا نے تو مرا کوئی نہیں میں نے جب سے دل لگایا وہ نہ میرا ہو سکا اس سے بڑھ کر دل ...

مزید پڑھیے

بھر دو جھولی مری یا محمد لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی

بھر دو جھولی مری یا محمد لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی کچھ نواسوں کا صدقہ عطا ہو در پہ آیا ہوں بن کر سوالی حق سے پائی وہ شان کریمی مرحبا دونوں عالم کے والی اس کی قسمت کا چمکا ستارہ جس پہ نظر کرم تم نے ڈالی زندگی بخش دی بندگی کو آبرو دین حق کی بچا لی وہ محمد کا پیارا نواسا جس نے سجدے ...

مزید پڑھیے

دوستوں کے ستم کی بات کرو

دوستوں کے ستم کی بات کرو بات غم کی ہے غم کی بات کرو سچی باتوں کے ہو اگر قائل اپنی جھوٹی قسم کی بات کرو اپنا کعبہ ہے کوچۂ جاناں ہم سے کوئے صنم کی بات کرو چاہتے ہو جو تم دلوں کا ملاپ چھوڑ کے میں کو ہم کی بات کرو جن کے نقش قدم ہیں راہنما ان کے نقش قدم کی بات کرو درد جس نے دیا ہے بہر ...

مزید پڑھیے

ایسا طوفاں ہے کہ ساحل کا نظارہ بھی نہیں

ایسا طوفاں ہے کہ ساحل کا نظارہ بھی نہیں ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا بھی نہیں کی دعا دشمن نے آخر میں نہ کہتا تھا تمہیں دوست جو میرا نہیں ہے وہ تمہارا بھی نہیں ڈوبتے دیکھا جو طوفاں میں نگاہیں پھیر لیں دوستوں نے مجھ کو ساحل سے پکارا بھی نہیں اے نگاہ شوق نظارہ یہ نظارہ ہے ...

مزید پڑھیے

بے وفا سے بھی پیار ہوتا ہے

بے وفا سے بھی پیار ہوتا ہے یار کچھ بھی ہو یار ہوتا ہے ساتھ اس کے جو ہے رقیب تو کیا پھول کے ساتھ خار ہوتا ہے جب وہ ہوتے ہیں صحن گلشن میں موسم نو بہار ہوتا ہے کاش ہوتے ہم اس کے پھولوں میں اس گلے کا جو ہار ہوتا ہے دوست سے کیوں بھلا نہ کھاتے فریب دوست پہ اعتبار ہوتا ہے جب وہ آتے ...

مزید پڑھیے

وہ آنکھ میرے لیے نم ہے کیا کیا جائے

وہ آنکھ میرے لیے نم ہے کیا کیا جائے اسے بھی آج مرا غم ہے کیا کیا جائے ترے بغیر کہیں میرا جی نہیں لگتا ترے بغیر یہ عالم ہے کیا کیا جائے سحر قریب ہے اب کیا وہ آئیں گے ملنے امید وصل بہت کم ہے کیا کیا جائے خطا معاف خطائیں تو ہم سے ہوں گی ضرور کہ یہ تو فطرت آدم ہے کیا کیا جائے الٰہی ...

مزید پڑھیے

یہ کہہ کے آگ وہ دل میں لگائے جاتے ہیں

یہ کہہ کے آگ وہ دل میں لگائے جاتے ہیں چراغ خود نہیں جلتے جلائے جاتے ہیں اب اس سے بڑھ کے ستم دوستوں پہ کیا ہوگا وہ دشمنوں کو گلے سے لگائے جاتے ہیں غریبی جرم ہے ایسا کہ دیکھ کر مجھ کو نگاہیں پھیر کے اپنے پرائے جاتے ہیں کشش چراغ کی یہ بات کر گئی روشن پتنگے خود نہیں آتے بلائے جاتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1956 سے 6203