مرے درد کی تجھے کیا خبر ہے جسے خبر کوئی اور ہے
مرے درد کی تجھے کیا خبر ہے جسے خبر کوئی اور ہے تو علاج رہنے دے چارہ گر مرا چارہ گر کوئی اور ہے وہ جو آئنے کے ہے روبرو وہی آئنے میں ہے ہو بہ ہو یہ نہ سوچ یہ نہ خیال کر کہ ادھر ادھر کوئی اور ہے ہیں جہاں میں ایک سے اک حسیں کمی حسن والوں کی تو نہیں جسے چاہتا ہوں میں ہم نشیں وہ حسیں مگر ...