مری آنکھوں سے ہجرت کا وہ منظر کیوں نہیں جاتا
مری آنکھوں سے ہجرت کا وہ منظر کیوں نہیں جاتا بچھڑ کر بھی بچھڑ جانے کا یہ ڈر کیوں نہیں جاتا اگر یہ زخم بھرنا ہے تو پھر بھر کیوں نہیں جاتا اگر یہ جان لیوا ہے تو میں مر کیوں نہیں جاتا اگر تو دوست ہے تو پھر یہ خنجر کیوں ہے ہاتھوں میں اگر دشمن ہے تو آخر مرا سر کیوں نہیں جاتا بتاؤں کس ...