قومی زبان

رکھتے ہیں دشمنی بھی جتاتے ہیں پیار بھی

رکھتے ہیں دشمنی بھی جتاتے ہیں پیار بھی ہیں کیسے غم گسار مرے غم گسار بھی افسردگی بھی رخ پہ ہے ان کے نکھار بھی ہے آج گلستاں میں خزاں بھی بہار بھی پیتا ہوں میں شراب محبت تو کیا ہوا پیتا ہے یہ شراب تو پروردگار بھی ملنے کی ہے خوشی تو بچھڑنے کا ہے ملال دل مطمئن بھی آپ سے ہے بے قرار ...

مزید پڑھیے

تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی محبت کی راہوں میں آ کر تو دیکھو

تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی محبت کی راہوں میں آ کر تو دیکھو تڑپنے پہ میرے نہ پھر تم ہنسو گے کبھی دل کسی سے لگا کر تو دیکھو وفاؤں کی ہم سے توقع نہیں ہے مگر ایک بار آزما کر تو دیکھو زمانے کو اپنا بنا کر تو دیکھا ہمیں بھی تم اپنا بنا کر تو دیکھو خدا کے لیے چھوڑ دو اب یہ پردہ کہ ہیں ...

مزید پڑھیے

دستور محبت کا سکھایا نہیں جاتا

دستور محبت کا سکھایا نہیں جاتا یہ ایسا سبق ہے جو پڑھایا نہیں جاتا کمسن ہیں وہ ایسے انہیں ظالم کہوں کیسے معصوم پہ الزام لگایا نہیں جاتا آئینہ دکھایا تو کہا آئینہ رخ نے آئینے کو آئینہ دکھایا نہیں جاتا کیا چھیڑ ہے آنچل سے گلستاں میں صبا کی ان سے رخ روشن کو چھپایا نہیں جاتا حیرت ...

مزید پڑھیے

گیسو رخ روشن سے وہ ٹلنے نہیں دیتے

گیسو رخ روشن سے وہ ٹلنے نہیں دیتے دن ہوتے ہوئے دھوپ نکلنے نہیں دیتے آنچل میں چھپا لیتے ہیں شمع رخ روشن پروانے تو جل جائیں وہ جلنے نہیں دیتے بکھرا دی وہیں زلف ذرا رخ سے جو سرکی کیا رات ڈھلے رات وہ ڈھلنے نہیں دیتے کس درجہ ہیں بے درد ترے ہجر کے صدمے دل کو تری یادوں سے بہلنے نہیں ...

مزید پڑھیے

بے سوز نہاں محو فغاں ہو نہیں سکتا

بے سوز نہاں محو فغاں ہو نہیں سکتا جب تک نہ لگے آگ دھواں ہو نہیں سکتا وعدے کو نبھائیں گے یہ وعدہ ہے ہمارا قول اپنا کبھی تیری زباں ہو نہیں سکتا ہیں سینکڑوں دل تاج محل آج بھی لیکن نظارہ تجھے شاہ جہاں ہو نہیں سکتا آنکھیں ہی نہیں قابل دیدار وگرنہ اس یار کا دیدار کہاں ہو نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1957 سے 6203