رات بوجھل بھی ہے بھیانک بھی
رات بوجھل بھی ہے بھیانک بھی دل کے مدھم دیے میں تیل نہیں جان دینا بہت کٹھن ہی سہی زندہ رہنا بھی کوئی کھیل نہیں
رات بوجھل بھی ہے بھیانک بھی دل کے مدھم دیے میں تیل نہیں جان دینا بہت کٹھن ہی سہی زندہ رہنا بھی کوئی کھیل نہیں
رکھتے ہیں دشمنی بھی جتاتے ہیں پیار بھی ہیں کیسے غم گسار مرے غم گسار بھی افسردگی بھی رخ پہ ہے ان کے نکھار بھی ہے آج گلستاں میں خزاں بھی بہار بھی پیتا ہوں میں شراب محبت تو کیا ہوا پیتا ہے یہ شراب تو پروردگار بھی ملنے کی ہے خوشی تو بچھڑنے کا ہے ملال دل مطمئن بھی آپ سے ہے بے قرار ...
تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی محبت کی راہوں میں آ کر تو دیکھو تڑپنے پہ میرے نہ پھر تم ہنسو گے کبھی دل کسی سے لگا کر تو دیکھو وفاؤں کی ہم سے توقع نہیں ہے مگر ایک بار آزما کر تو دیکھو زمانے کو اپنا بنا کر تو دیکھا ہمیں بھی تم اپنا بنا کر تو دیکھو خدا کے لیے چھوڑ دو اب یہ پردہ کہ ہیں ...
دستور محبت کا سکھایا نہیں جاتا یہ ایسا سبق ہے جو پڑھایا نہیں جاتا کمسن ہیں وہ ایسے انہیں ظالم کہوں کیسے معصوم پہ الزام لگایا نہیں جاتا آئینہ دکھایا تو کہا آئینہ رخ نے آئینے کو آئینہ دکھایا نہیں جاتا کیا چھیڑ ہے آنچل سے گلستاں میں صبا کی ان سے رخ روشن کو چھپایا نہیں جاتا حیرت ...
گیسو رخ روشن سے وہ ٹلنے نہیں دیتے دن ہوتے ہوئے دھوپ نکلنے نہیں دیتے آنچل میں چھپا لیتے ہیں شمع رخ روشن پروانے تو جل جائیں وہ جلنے نہیں دیتے بکھرا دی وہیں زلف ذرا رخ سے جو سرکی کیا رات ڈھلے رات وہ ڈھلنے نہیں دیتے کس درجہ ہیں بے درد ترے ہجر کے صدمے دل کو تری یادوں سے بہلنے نہیں ...
بے سوز نہاں محو فغاں ہو نہیں سکتا جب تک نہ لگے آگ دھواں ہو نہیں سکتا وعدے کو نبھائیں گے یہ وعدہ ہے ہمارا قول اپنا کبھی تیری زباں ہو نہیں سکتا ہیں سینکڑوں دل تاج محل آج بھی لیکن نظارہ تجھے شاہ جہاں ہو نہیں سکتا آنکھیں ہی نہیں قابل دیدار وگرنہ اس یار کا دیدار کہاں ہو نہیں ...
سنسناتی ہوئی ہوا کی طرح یوں تری یاد ذہن میں آئی دن ڈھلے دور جنگلوں میں کہیں جیسے روتی ہو شام تنہائی
بہت مختصر سا تعارف ہے میرا نہ جوش جنوں ہوں نہ راز نہاں ہوں کتابوں میں مجھ کو کہاں ڈھونڈتے ہو میں چہرے پر لکھی ہوئی داستاں ہوں
دور پیپل کی بوڑھی شاخوں میں اک پرندہ سا پھڑپھڑایا ہے دل بے تاب دیکھنا تو ذرا کیا کسی نے مجھے بلایا ہے
آج ہے اہل محبت کا مقدس تیوہار رنگ کیوں لائے نہ معصوم دعاؤں کا اثر عید کا دن ہے چلو آج گلے مل جائیں تم ہو مسجد کی اذاں، میں ہوں شوالے کا گجر