قومی زبان

میں سچ کو چھپانے کا ہنر سیکھ رہا ہوں

میں سچ کو چھپانے کا ہنر سیکھ رہا ہوں کرتب ذرا مشکل ہے مگر سیکھ رہا ہوں رفتار روانی میں کبھی پاؤں نہ روکے اب کیسے نبھانی ہے ٹھہر سیکھ رہا ہوں رشتہ سمٹ رہے ہیں بدن پھیل رہا ہے دیہات سے دلی کا سفر سیکھ رہا ہوں میں آستیں سے ان کو تو بے گھر نہ کر سکا کیسے اتارنا ہے زہر سیکھ رہا ...

مزید پڑھیے

محض دل لگی کے وہ انداز نکلے

محض دل لگی کے وہ انداز نکلے تیرے سب اشارے دغاباز نکلے بدل دینے کا وقت بھرتے تھے جو دم وہ سب انقلابی گھڑی ساز نکلے وہ لکھتی ہے قصہ اڑن طشتری کے کسی طرح تو شوق پرواز نکلے سمجھ کر ادا ہم غزل کہہ رہے تھے وہ باقاعدہ ہم سے ناراض نکلے محبت کی بوٹی یوں اٹکی گلے میں رہا جائے چپ ہی نہ ...

مزید پڑھیے

جب مشکل حالات لگے

جب مشکل حالات لگے رشتے چکنے پات لگے سچ کہنا بھر کام مرا لگتی ہو گر بات لگے میرا دل تعریف تری؟ یہ تو بھیتر گھات لگے دل کی بازی یار عجب جیتیں بھی تو مات لگے باتوں بھر گرمی تھی بہت ٹھنڈے پر جذبات لگے دل تھوڑی ہے، چاند ہے وہ لوٹ آئے گا رات لگے میرا حافظ آپ خدا پھر کس کی اوقات ...

مزید پڑھیے

جاتا ہے کون آپ سے جلاد کی طرف

جاتا ہے کون آپ سے جلاد کی طرف کھینچا اس آب و دانہ نے صیاد کی طرف ناخوش ہے عاشقوں سے بہت آج کل وہ شوخ بدلے کرم کے طبع ہے بیداد کی طرف مشاطہ جذب دل سا کوئی دوسرا نہیں شیریں کو کھینچ لے گیا فرہاد کی طرف عشق بتاں ہے خواب فراموش اے خدا آیا ہے پھر خیال تری یاد کی طرف دیتی نہیں نزاکت ...

مزید پڑھیے

ترے ابرو پہ بل آیا تو ہوتا

ترے ابرو پہ بل آیا تو ہوتا ذرا غیروں کو دھمکایا تو ہوتا بجائے فرش میں آنکھیں بچھاتا تو اپنے وعدے پر آیا تو ہوتا سمجھتے فرش پر ہم چادر گل ترا اے رشک گل سایا تو ہوتا شکایت آئے گی اے جذب الفت جنازے پر اسے لایا تو ہوتا کیا تھا گر فلک تو نے سیہ بخت تو میں اس ماہ کا سایا تو ہوتا نہ ...

مزید پڑھیے

ہے خاک بسر صبا مرے بعد

ہے خاک بسر صبا مرے بعد گلشن کی پھر ہوا مرے بعد تھی جائے وصال منزل گور حاصل ہوا مدعا مرے بعد اے تپ نہ جلانا استخواں کو مایوس نہ ہو ہما مرے بعد قاتل نے بہائے لاش پر اشک تھا بس یہی خوں بہا مرے بعد یوں خاک میں میں ملا کہ اس نے پایا نہ مرا پتا مرے بعد کی داغ نے خاک سے تراوش گل قبر سے ...

مزید پڑھیے

آئے ہیں بادہ نوش بڑی آن بان پر

آئے ہیں بادہ نوش بڑی آن بان پر میلہ لگا ہے پیر مغاں کی دکان پر ساقی عطا ہو اب مجھے ساغر شراب کا چھائی ہوئی ہے کیسی گھٹا آسمان پر روتے ہیں تیرے عشق میں اے رشک ماہ جب کرتے ہیں لوگ خندہ ہماری فغان پر پیدا ہوا اثر نہ کبھی میری آہ میں کھایا نہ اس نے رحم کبھی بے زبان پر اے کاش یہ نصیب ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے تم ادا نہ کرو

کون کہتا ہے تم ادا نہ کرو پر وفا کی جگہ جفا نہ کرو سرو کٹ جائیں گے پسے گی حنا اس طرح باغ میں پھرا نہ کرو ہنس رہے ہیں ابھی خوشی میں وہ میرے رونے کا تذکرہ نہ کرو زخم دل پر نہ ہو نمک پاشی اس مزے سے تو آشنا نہ کرو ہے قیامت تمہاری اٹکھیلی حشر اے جان من بپا نہ کرو خرمن دل پہ برق گرتی ...

مزید پڑھیے

بہار آئی کر اے باغباں گلاب قلم

بہار آئی کر اے باغباں گلاب قلم کہ لکھے وصف رخ یار کی کتاب قلم نہ کھینچے چہرۂ پر نور پر نقاب قلم کرے نہ کاغذ تصویر کو خراب قلم جو قصد ہو رخ روشن کے وصف لکھنے کا فلک سے لے ورق ماہ و آفتاب قلم حکایت دل بیتاب طول رکھتی ہے نہ کر تو لکھنے میں اتنا بھی اضطراب قلم بیان‌ زلف چلیپا میں ...

مزید پڑھیے

غنچے کو ہے ترے دہن کی حرص

غنچے کو ہے ترے دہن کی حرص سیب کو ہے ترے ذقن کی حرص یہ نزاکت کہاں یہ لطف کہاں ہے سمن کو جو اس بدن کی حرص تیری رفتار وہ کہاں پائے دیکھی بس آہوۓ ختن کی حرص گل سے اے عندلیب کہہ دینا نہ کرے میرے گلبدن کی حرص ہے قفس میں بھی چین بلبل کو ہے طبیعی مگر چمن کی حرص عاجزؔ ایسی ملی ہے خوش ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1954 سے 6203