قومی زبان

پرانے پر نیا چہرہ ضروری ہے

پرانے پر نیا چہرہ ضروری ہے مکھوٹا کیوں نہیں بدلا ضروری ہے سہی کو بس سہی کہنا نہیں کافی غلط کو بھی غلط کہنا ضروری ہے مجھے اس سے اسے مجھ سے نہیں کچھ بھی یہاں پر کچھ نہ کچھ ہونا ضروری ہے ارے مانا تیرے ابا کو بھایا ہے مگر لڑکا سہی ہو کیا ضروری ہے میرے ہاتھوں لکھا یہ خط اسے دینا اسے ...

مزید پڑھیے

تو کہاں ہوگا بھلا میرے جہاں سے

تو کہاں ہوگا بھلا میرے جہاں سے تو تو اترا ہے زمیں پر آسماں سے تم تو مہماں ہو ہمارے حکم دو کچھ کچھ بتاؤ چاہئے کیا میزباں سے پوچھتا ہیں جب کوئی تیرا پتہ تو دیکھتا ہوں دھوپ آتی ہے کہاں سے تو بہاریں ساتھ لے کر چل رہا ہے احتیاطاً ڈر رہا ہوں میں خزاں سے اس جہاں کو ہے مرمت کی ضرورت چل ...

مزید پڑھیے

چپ ہوئے تو گھر سے نکلے جا کے دفتر رو پڑے

چپ ہوئے تو گھر سے نکلے جا کے دفتر رو پڑے عشق ایسی جنگ ہے جس میں سکندر رو پڑے دوستی کی کچھ مثالیں اس طرح بھی دی گئیں جب سداما کو لگی تو ساتھ گردھر رو پڑے فائلوں میں دفن کرکے خواب جب میں رو پڑا دیکھ کر وہ حال میرا پین پیپر رو پڑے بس دلوں پر کب کسی کا چل سکا ہے عشق میں پھر سے ڈائل کر ...

مزید پڑھیے

دو آنکھوں کو چار کیا جا سکتا ہے

دو آنکھوں کو چار کیا جا سکتا ہے سپنوں کو ساکار کیا جا سکتا ہے دنیا کا دیدار کیا جا سکتا ہے آنکھوں کو سنسار کیا جا سکتا حبس انا میں ان کو ضائع مت کر جاں ان لمحوں میں پیار کیا جا سکتا ہے تجھ سے جتنا عشق کیا ہے اتنے میں دنیا کا اددھار کیا جا سکتا ہے ہم مرضی سے ڈوبے ہیں ورنہ تجھ ...

مزید پڑھیے

یہی ہوتا ہے اکثر زندگی میں

یہی ہوتا ہے اکثر زندگی میں کہ تھوڑا غم بھی شامل ہو خوشی میں اداس آنکھوں میں پلکوں کی نمی میں جھلکتی تھی وفا بھی بے رخی میں وہاں دشوار تھا خود سے بھی ملنا تلاش یار کیا ہو بے خودی میں گلے شکوے تو ہوتے ہی رہیں گے چلو کچھ دیر بیٹھیں چاندنی میں اندھیروں سے شکایت ہو تو کیا ہو دکھائی ...

مزید پڑھیے

کسی کے ساتھ گیا مدتیں گزار آیا

کسی کے ساتھ گیا مدتیں گزار آیا بڑے دنوں میں کہیں جا کے پھر قرار آیا نہیں ہے خواب یہ سچ ہے نہ اعتبار آیا یہ کیا ہوا کہ انہیں اور مجھ پہ پیار آیا گیا تھا آنکھوں میں امید کی کرن لے کر میں اس کے شہر سے لوٹا تو اشک بار آیا وہ تھا جہاز کا پنچھی نہ میں جہاز کوئی نہ کام صبر ہی آیا نہ ...

مزید پڑھیے

بسلری

آدھا ہندو ہوں شراب پیتا ہوں آدھا مسلمان کہ سور نہیں کھاتا میاں غالب فرماتے تھے خیالؔ صاحب آپ بھی ہوتے ہوتے ہو گئے شاید آدھے فرنگی ہریدوار کی چوک پر ہری حلوائی کی دوکان میں دیسی گھی کی پوری سبزی کھاتے تھے مگر پینے کے لیے بسلری ہی منگواتے تھے

مزید پڑھیے

آنسو

آنسو کی کوئی قیمت نہیں ہوتی بیش قیمت تو ہوتا ہے موتی لیکن سنو ان سب سے بڑھ کر ہے وقت کی الٹ پھیر ہے وقت کی الٹ پھیر آنسو کو موتی موتی کو آنسو ہوتے نہیں لگتی دیر میری رائے مانو دونوں کی قدر جانو

مزید پڑھیے

اندھیرا

ابھی روشن ہے یہ چراغ تو یہ نہ سمجھو کی اب اندھیرے کا کوئی وجود ہی نہ رہا کی وہ روشنی کی تلوار سے کاٹ کر میرا جا چکا ہے اس دھوکے میں نہ رہنا کی وہ ہمیشہ کی لیے خریدہ جا چکا ہے اس نے تو بس اک چالاک اور شاطر سپاہ سالار کی طرح اپنی پہلی ہار کو پہلی بازی جیتنے والے دشمن کی جگمگاہٹی وردی ...

مزید پڑھیے

مری زیست پر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

مری زیست پر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی کوئی بہتری کی صورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی مجھے حسن نے ستایا، مجھے عشق نے مٹایا کسی اور کی یہ حالت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی وہ جو بے رخی کبھی تھی وہی بے رخی ہے اب تک مرے حال پر عنایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی وہ جو حکم دیں بجا ہے، مرا ہر سخن خطا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1949 سے 6203