قومی زبان

کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا

کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا مرا ذوق ان کی چاہت مرا شوق ان پہ مرنا وہ کسی کی جھیل آنکھیں وہ مری جنوں مزاجی کبھی ڈوبنا ابھر کر کبھی ڈوب کر ابھرنا ترے منچلوں کا جگ میں یہ عجب چلن رہا ہے نہ کسی کی بات سننا، نہ کسی سے بات کرنا شب غم نہ پوچھ کیسے ترے مبتلا پہ گزری کبھی آہ ...

مزید پڑھیے

بساط بزم الٹ کر کہاں گیا ساقی (ردیف .. ے)

بساط بزم الٹ کر کہاں گیا ساقی فضا خموش، سبو چپ، اداس پیمانے نہ اب وہ جلوۂ یوسف نہ مصر کا بازار نہ اب وہ حسن کے تیور، نہ اب وہ دیوانے نہ حرف حق، نہ وہ منصور کی زباں، نہ وہ دار نہ کربلا، نہ وہ کٹتے سروں کے نذرانے نہ بایزید، نہ شبلی، نہ اب جنید کوئی نہ اب و سوز، نہ آہیں، نہ ہاؤ ہو ...

مزید پڑھیے

تیرگی سے روشنی کا ہو گیا

تیرگی سے روشنی کا ہو گیا میں مکمل شاعری کا ہو گیا دیر تک بھٹکا میں اس کے شہر میں اور پھر اس کی گلی کا ہو گیا سو گیا آنکھوں تلے رکھ کے انہیں اور خط کا رنگ پھیکا ہو گیا ایک بوسہ ہی دیا تھا رات نے چاند تو تو رات ہی کا ہو گیا رات بھر لڑتا رہا لہروں کے ساتھ صبح تک کانہاؔ ندی کا ہو ...

مزید پڑھیے

فاصلہ دیر و حرم کے درمیاں رہ جائے گا

فاصلہ دیر و حرم کے درمیاں رہ جائے گا چاک سل جائیں گے یہ زخم نہاں رہ جائے گا ہاتھ سے اپنے تو دھو لے گا لہو کے داغ تو دیوتا کا پاک دامن خوں فشاں رہ جائے گا چاند تھوڑی دیر میں چل دے گا اپنے راستے پھر ستاروں کے سہارے آسماں رہ جائے گا جانے والے کو میسر ہو گئی غم سے نجات غم تو اس کے ہو ...

مزید پڑھیے

نہ کھیل اب کھیل تو میرے یقیں سے

نہ کھیل اب کھیل تو میرے یقیں سے خدا کے واسطے آ جا کہیں سے یہ اچھی آگ اشکوں نے بجھائی دھواں اٹھنے لگا اب ہر کہیں سے انہیں کو آسماں نے بھی ڈرایا ڈرے سے تھے جو پہلے ہی زمیں سے سزائیں جو مسلسل مل رہی ہیں خطا کچھ ہو گئی ہوگی ہمیں سے خیالؔ اب سوچ مت اتنا زیادہ یہ کہہ دے ہاں محبت ہے ...

مزید پڑھیے

بارے غم کچھ ہلکا ہوتا

بارے غم کچھ ہلکا ہوتا رو لیتے تو اچھا ہوتا چاند ستارے مانگے ہم نے کچھ تو آخر سوچا ہوتا پاؤں تمازت مانگ رہے ہیں سر کی خواہش سایا ہوتا کچھ رکھا ہے ان باتوں میں ایسا ہوتا ویسا ہوتا میں جو پا جاتا تو تجھ کو اب تک بھول بھی بیٹھا ہوتا لطف جوانی لوٹا ہم نے دور ضعیفی کس کا ہوتا کاش ...

مزید پڑھیے

اب گھٹائیں سیاہ ہلکی ہیں

اب گھٹائیں سیاہ ہلکی ہیں رات شاید یہ کھل کے برسی ہیں آپ سادہ لباس میں بھی مجھے حد سے زیادہ حسین لگتی ہیں دل مرا خانقاہ ہو گویا دھڑکنیں تیرا نام جپتی ہیں ایک مدت ہوئی نہیں رویا میری پلکیں ہنوز بھیگی ہیں بے وفائی کی یہ ادائیں سبھی آپ ہی سے تو ہم نے سیکھی ہیں اب یہ چھٹتے نظر ...

مزید پڑھیے

ابھی تک اس کو مرا انتظار ہے شاید

ابھی تک اس کو مرا انتظار ہے شاید مری نظر پہ بہت اعتبار ہے شاید لباس ایسا میں پہلے کبھی نہیں دیکھا کسی کے سوگ میں اب کے بہار ہے شاید وہ دیکھ کر مجھے مثل گلاب کھلتا ہے کہ دل ہی دل میں اسے مجھ سے پیار ہے شاید کئی دلوں کا مقدر عذاب ہوتا ہے ہمارا دل بھی انہیں میں شمار ہے شاید نگاہ ...

مزید پڑھیے

رات دن صبح و شام لکھتا ہوں

رات دن صبح و شام لکھتا ہوں اور بس تیرا نام لکھتا ہوں میرے ماضی کے گم شدہ ساتھی روز تجھ کو سلام لکھتا ہوں یہ عبارت سنبھال کر رکھنا زندگی تیرے نام لکھتا ہوں تیری خاطر ہے خاص کر یہ غزل یوں تو اشعار عام لکھتا ہوں وقت کی ریت پر نہ جانے کیوں میں خیالؔ اپنا نام لکھتا ہوں

مزید پڑھیے

مرا اندازہ غلط ہو تو بتا دے مجھ کو

مرا اندازہ غلط ہو تو بتا دے مجھ کو تجھ پہ الزام سوا ہو تو سزا دے مجھ کو اس نے آنکھوں میں جگہ دی بھی تو آنسو کی طرح شاید اک ہلکی سی جنبش بھی گرا دے مجھ کو تیری نظروں میں محبت بھی ہے اک کھیل تو آ میں کروں تجھ پہ بھروسہ تو دغا دے مجھ کو میں اجالا ہوں تو تنویر مجھے اپنی بنا اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1950 سے 6203