قومی زبان

ذات میں کرب ہو اور کرب کا اظہار نہ ہو

ذات میں کرب ہو اور کرب کا اظہار نہ ہو سوچتا ہوں کہیں میرا یہی کردار نہ ہو میرے آنگن میں کھلی دھوپ کا اسرار ہے کیا اٹھ کے دیکھوں تو سہی وہ پس دیوار نہ ہو جی میں آتی ہے کہ اب ایسے سفر پر نکلیں اونٹ ہمراہ نہ ہو جیب میں دینار نہ ہو کشتیاں کس لئے ساحل سے بندھی رہتی ہیں ہو نہ ہو نیلے ...

مزید پڑھیے

اس طرف کیا ہے یہ کچھ کھلتا نہیں

اس طرف کیا ہے یہ کچھ کھلتا نہیں میرا قد دیوار سے اونچا نہیں دیکھ آئے اس کو اور دیکھا نہیں میری آنکھیں اب مرا حصہ نہیں سونے کو آئی سمندر پر ہوا اور میرا بادباں کھلتا نہیں گم ہیں سب اپنی صدا کے شور میں میں جو کہتا ہوں کوئی سنتا نہیں ہم بھی اس کو بھول ہی جائیں نظرؔ وہ بھی ہم کو ...

مزید پڑھیے

سورج چڑھا تو دل کو عجب وہم سا ہوا

سورج چڑھا تو دل کو عجب وہم سا ہوا دشمن جو شب کو مارا تھا وہ اٹھ کھڑا ہوا بکھری ہوئی ہے ریت ندامت کی ذہن میں اترا ہے جب سے جسم کا دریا چڑھا ہوا زلفوں کی آبشار سرہانے پہ گر پڑی کھولا جو اس نے رات کو جوڑا بندھا ہوا نکلا کرو پہن کے نہ یوں مختصر لباس پڑھ لے گا کوئی لوح بدن پر لکھا ...

مزید پڑھیے

عجب دشت ہوس کا سلسلہ ہے

عجب دشت ہوس کا سلسلہ ہے بدن آواز بن کر گونجتا ہے کہ وہ دیوار اونچی ہو گئی ہے کہ میرا قد ہی چھوٹا ہو گیا ہے گلے تک بھر گیا اندھا کنواں بھی مری آواز پر کم بولتا ہے میں اپنی جامہ پوشی پر پشیماں وہ اپنی بے لباسی پر فدا ہے بدن پر چیونٹیاں سی رینگتی ہیں یہ کیسا کھردرا بستر بچھا ...

مزید پڑھیے

ہم خود بھی اپنے ساتھ نہیں

اک کبھی نہ بیتنے والی شب اک ہاتھ نہ آنے والا دن اس شب سے جان چھڑانے میں اس دن کو ڈھونڈ کے لانے میں ہم ریزہ ریزہ ہو کے رہے جو پایا تھا وہ کھو کے رہے اس پانے میں اس کھونے میں ہونے میں اور نہ ہونے میں کچھ سود و زیاں کا ہاتھ ہے کیا یا اور ہی کوئی بات ہے کیا اس ساری اضافی باتوں میں بس ایک ...

مزید پڑھیے

انتظار

مری بے خواب آنکھوں میں مری ویران آنکھوں میں نہیں ہے دل کشی کوئی نہیں ہے دلبری کوئی مگر کچھ ہے جسے ہر صبح سورج کی کرن آ کر سلام شوق کہتی ہے ادب سے چوم لیتی ہے

مزید پڑھیے

ملاقات

بعد ایک مدت کے اجنبی سے چہروں میں خواب خواب آنکھوں میں درد کی سماعت میں بے دلی کی ساعت میں ایک اجنبی صورت آشنا نظر آئی خواب خواب آنکھوں میں روشنی سی لہرائی درد کی سماعت نے دل کی کچھ خبر پائی اس نے گرم جوشی سے ہاتھ بھی ملایا تھا بعد ایک مدت کے میں بھی مسکرایا تھا اس نے میرے شانے کو ...

مزید پڑھیے

اک پل کی دوڑ دھوپ میں ایسا تھکا بدن

اک پل کی دوڑ دھوپ میں ایسا تھکا بدن میں خود تو جاگتا ہوں مگر سو گیا بدن بچہ بھی دیکھ لے تو ہمک کر لپک پڑے ایسی ہی ایک چیز ہے وہ دودھیا بدن جی چاہتا ہے ہاتھ لگا کر بھی دیکھ لیں اس کا بدن قبا ہے کہ اس کی قبا بدن جب سے چلا ہے تنگ قمیصوں کا یہ رواج نا آشنا بدن بھی لگے آشنا بدن گنگا کے ...

مزید پڑھیے

گھر سے گھر تک کا راستہ نہ ملا

گھر سے گھر تک کا راستہ نہ ملا کوئی بھی خود میں جھانکتا نہ ملا سب کے ہم راہ سب کے سائے تھے شہر میں کوئی دیوتا نہ ملا کتنے ہونٹوں کا لمس یاد رہے ایک بھی نقش دیر پا نہ ملا روشنی کے سفیر لوٹ گئے شہر در شہر رت جگا نہ ملا تنگ تھا ذات کا حصار بہت کوئی رستہ فرار کا نہ ملا کتنے آنسو نچوڑ ...

مزید پڑھیے

یہ کیا گلی ہے جہاں ڈرتے ڈرتے جاتے ہیں

یہ کیا گلی ہے جہاں ڈرتے ڈرتے جاتے ہیں گزرتے بھی نہیں لیکن گزرتے جاتے ہیں بس اب تو اگلا سفر خشکیوں کا آتا ہے ہماری رات کے دریا اترتے جاتے ہیں جہاں میں کچھ نہیں ہوتا کسی کے کرنے سے یہ لوگ پھر بھی کوئی کام کرتے جاتے ہیں یہ کیسا ہم کو اشارہ ہے پار اترنے کا وہ دیکھو لہروں میں کچھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1935 سے 6203