قومی زبان

میں نظر سے ایک انداز نظر ہوتا ہوا

میں نظر سے ایک انداز نظر ہوتا ہوا کون ہے دن رات مجھ میں بے خبر ہوتا ہوا کھلتا جاتا ہے سمندر بادباں در بادباں میں سفر کرتا ہوا مجھ سے سفر ہوتا ہوا ایک وسعت آسماں در آسماں بڑھتی ہوئی اک پرندہ بال و پر میں تر بتر ہوتا ہوا ایک پہنائی مکاں سے لا مکاں ہوتی ہوئی ایک لمحہ مختصر سے ...

مزید پڑھیے

قدم قدم پر کی رسوائی پھسلا ہر اک زینے پر

قدم قدم پر کی رسوائی پھسلا ہر اک زینے پر پریم کمار نظرؔ جی بھیجو لعنت بدن کمینے پر اپنی بھی مشکل حل کر لو اس کا بھی کلیان کرو اس کا راز اسی کو سونپو بوجھ نہ رکھو سینے پر نیلے گرم سمندر سے تو ڈر کر کوسوں بھاگو ہو! ریت میں چپو مار کے خوش ہو حیف تمہارے جینے پر اپنے اندر باہر ''جم جم ...

مزید پڑھیے

بیتے برس کی یاد کا پیکر اتار دے

بیتے برس کی یاد کا پیکر اتار دے دیوار سے پرانا کلنڈر اتار دے رکھ دی ہے اس نے کھول کے خود جسم کی کتاب سادہ ورق پہ لے کوئی منظر اتار دے بھیگا ہوا لباس بدن بھی جلائے گا اس سے کہو کہ سر سے وہ گاگر اتار دے دونوں میں ایک کو تو ملیں سکھ کی ساعتیں لا اپنا بوجھ بھی مرے سر پر اتار دے پھر ...

مزید پڑھیے

ہر چند کہ تھا ہجر میں اندیشۂ جاں بھی

ہر چند کہ تھا ہجر میں اندیشۂ جاں بھی آخر کو تو ہم سے ہی اٹھا بار گراں بھی اک گوشۂ در رکھا ہے محفوظ ہمارا اس وسعت کونین میں ہم جائیں جہاں بھی معدوم بھی ہوں اہل تماشا کی نظر میں بکھرا ہے ہر اک سمت مگر میرا نشاں بھی کچھ کم نہ ہوا رزق خدا تیرے گدا پر ہر چند کہ گلیوں میں اٹھا شور سگاں ...

مزید پڑھیے

ہے اختیار میں تیرے نہ میرے بس میں ہے

ہے اختیار میں تیرے نہ میرے بس میں ہے وہ ایک لمحہ جو اوروں کی دسترس میں ہے وہ منہ سے کچھ نہیں کہتا کہ پیش و پس میں ہے بدن کا کرب تو ظاہر نفس نفس میں ہے اگرچہ شور بہت کوچۂ ہوس میں ہے وہ کیا کرے کہ جو چالیسویں برس میں ہے کرے گا کون اسے سازش بدن میں شریک جو شخص قید ابھی روح کے قفس میں ...

مزید پڑھیے

عمر بھر شوق کا دفتر لکھا

عمر بھر شوق کا دفتر لکھا لفظ اک بھی نہ مؤثر لکھا ہم نے اشرف کو بھی احقر لکھا آدمی تھا جسے بندر لکھا عمر ویسے تو سفر میں گزری لکھنے بیٹھے تو اسے گھر لکھا موسم گل کی بشارت معلوم پڑھ لیا ماتھے پہ پتھر لکھا خاک سے خاک ہوئی ہے پیدا لاکھ صحرا کو سمندر لکھا ہم وہ بیمار ہیں اچھے نہ ...

مزید پڑھیے

دہن کو زخم زباں کو لہو لہو کرنا

دہن کو زخم زباں کو لہو لہو کرنا عزیزو سہل نہیں اس کی گفتگو کرنا کھلے دریچو کو تکنا تو ہاؤ ہو کرنا یہی تماشہ سر شام کو بہ کو کرنا جو کام مجھ سے نہیں ہو سکا وہ تو کرنا جہاں میں اپنا سفر مثل رنگ و بو کرنا جہاں میں عام ہیں نکتہ شناسیاں اس کی تم ایک لفظ میں تشریح آرزو کرنا دل تباہ کی ...

مزید پڑھیے

کچھ نہ کچھ عہد محبت کا نشاں رہ جائے

کچھ نہ کچھ عہد محبت کا نشاں رہ جائے آگ بجھتی ہے تو بجھ جائے دھواں رہ جائے دشت در دشت اڑے میرا غبار ہستی آب بر آب مرا نام و نشاں رہ جائے منتظر کون ہے کس کا یہ اسے کیا معلوم اس کی منزل ہے وہی جو بھی جہاں رہ جائے یوں تو کہنے کو بہت کچھ تھا غزل میں لیکن لطف کی بات وہی ہے جو نہاں رہ ...

مزید پڑھیے

گھڑی گھڑی نہ مجھے پوچھ ایک تازہ سوال

گھڑی گھڑی نہ مجھے پوچھ ایک تازہ سوال اداس رات کے سینے پہ اور بوجھ نہ ڈال کھلے ہیں پھول سخن کے جلی ہے شمع خیال قفس میں جھانک کے دیکھو قفس زدوں کا کمال اسی کے ذکر سے ہم شہر میں ہوئے بد نام وہ ایک شخص کہ جس سے ہماری بول نہ چال ترے وجود پہ چھا کر تری نظر سے گرے ہمیں نے راج کیا تھا ...

مزید پڑھیے

طبیبو چارہ گرو تم سے جو ہوا سو ہوا

طبیبو چارہ گرو تم سے جو ہوا سو ہوا ہمارے دم پہ بھروسا رکھو ہوا سو ہوا وہ اپنے حال میں خوش ہے ہم اپنے حال پہ خوش اب اس کا ذکر نہ یارو کرو ہوا سو ہوا بہت ہوا تو وہی ہوگا جس کا ڈر ہے ہمیں جو ہو رہا ہے وہ ہونے دو جو ہوا سو ہوا عبث ہے کثرت کار جنوں بھی ایسے میں عزیزو چاک گریباں سیو ہوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1934 سے 6203