قومی زبان

رسوا کیا شعور کو دانائی چھین لی

رسوا کیا شعور کو دانائی چھین لی جہل خرد نے آنکھوں سے بینائی چھین لی سانسوں میں گونجتی ہوئی شہنائی چھین لی شہروں نے مجھ سے گاؤں کی پروائی چھین لی اس طرح بھی بدلتے ہیں نظروں کے زاویے خود خواب ہی نے خواب کی رعنائی چھین لی روحوں کی مفلسی نے بہرحال ایک دن چہرہ آئنوں سے خوئے ...

مزید پڑھیے

جب تری یادوں کی پروائی غزل گاتی ہے

جب تری یادوں کی پروائی غزل گاتی ہے پھول کھل اٹھتے ہیں تنہائی غزل گاتی ہے رقص کرتی ہوئی آتی ہے ترے جسم کی یاد تیری ٹوٹی ہوئی انگڑائی غزل گاتی ہے گدگداتی ہے تصور کو ترے روپ کی دھوپ میرے جذبات کی شہنائی غزل گاتی ہے ایک مدت ہوئی اس راہ سے گزرا تھا کوئی آج تک دل کی یہ انگنائی غزل ...

مزید پڑھیے

منہ پھیر کر وہ سب سے گیا بھی تو کیا گیا

منہ پھیر کر وہ سب سے گیا بھی تو کیا گیا کم بخت سارے شہر کو پاگل بنا گیا پتھر کو بولنے کی ادائیں سکھا گیا وہ شخص کیسے کیسے تماشے دکھا گیا اس کو یہاں سے جانے کا بے حد ملال تھا مڑ مڑ کے اپنے گھر کی طرف دیکھتا گیا دنیائے خواب اور حقیقت کے درمیاں تھوڑا جو فاصلہ تھا اسے بھی مٹا گیا سب ...

مزید پڑھیے

وہ رخصت کی گھڑی وہ دیدۂ نم یاد آتے ہیں (ردیف .. ے)

وہ رخصت کی گھڑی وہ دیدۂ نم یاد آتے ہیں نہ جانے آج کیوں بھولے ہوئے غم یاد آتے ہیں یہ چشم دوست کی سازش نہیں تو اور پھر کیا ہے کہ میرے مندمل زخموں کے مرہم یاد آتے ہیں ہوا ہے جب سے دل صید ستم ہائے غم دوراں وہ یاد آتے تو ہیں لیکن بہت کم یاد آتے ہیں یہاں ہم غم غلط کرنے کو آئے تھے مگر ...

مزید پڑھیے

روشنی صبح کی یا شب کی سیاہی دیں گے

روشنی صبح کی یا شب کی سیاہی دیں گے جو بھی دینا ہے تمہیں ظل الٰہی دیں گے شیخ صاحب تو ازل سے ہیں دشمن میرے کھا کے قرآں کی قسم جھوٹی گواہی دیں گے ان سے رکھئے نہ کسی مہر و وفا کی امید یہ تو ایسے ہیں کہ سورج کو سیاہی دیں گے موسم لطف عطا ہے ابھی میخانے میں جام کیا چیز ہے یہ تم کو صراحی ...

مزید پڑھیے

آؤ ہم تم عشق کے اظہار کی باتیں کریں

آؤ ہم تم عشق کے اظہار کی باتیں کریں ڈال کر بانہوں میں باہیں پیار کی باتیں کریں پھول کی باتیں کریں گلزار کی باتیں کریں پیار کی باتیں کریں بس پیار کی باتیں کریں بات ہم دونوں کو یہ تو سوچنی ہی چاہئے پیار کے موسم میں کیوں تکرار کی باتیں کریں اس سے اچھی بات کوئی اور ہو سکتی نہیں یار ...

مزید پڑھیے

حیات رقص میں ہے کائنات رقص میں ہے

حیات رقص میں ہے کائنات رقص میں ہے چراغ بادہ جلاؤ کہ رات رقص میں ہے ستارے آئے ہیں ذروں کی بندگی کے لیے نوید صبح مبارک حیات رقص میں ہے کچھ اس ادا سے چلا قافلہ گناہوں کا نمود صبح سے اب تک نجات رقص میں ہے ہے ایک حشر سا برپا زمیں کے سینے میں کچھ اس طرح نفس حادثات رقص میں ہے یہ کون ...

مزید پڑھیے

الزام کچھ نہ کچھ تو مرے سر بھی آئے گا

الزام کچھ نہ کچھ تو مرے سر بھی آئے گا آنگن میں پیڑ ہوگا تو پتھر بھی آئے گا سورج کے غسل کرنے کا منظر بھی آئے گا ان جنگلوں کے بعد سمندر بھی آئے گا ساماں جراحتوں کے بھی ہم ساتھ لے چلیں اس راستے میں شہر ستم گر بھی آئے گا وہ سانپ جس کو دودھ پلاتی ہے دشمنی تھیلی سے ایک روز وہ باہر بھی ...

مزید پڑھیے

رہ حیات کو آساں بنا سکو تو چلو

رہ حیات کو آساں بنا سکو تو چلو ہمارا ساتھ اگر تم نبھا سکو تو چلو نگاہ ناز کا جادو جگا سکو تو چلو قدم قدم پہ نئے گل کھلا سکو تو چلو رہ وفا میں غموں کے بہت اندھیرے ہیں ہر ایک حال میں تم مسکرا سکو تو چلو مرے خیال کی دنیا ہے مجھ پہ چھائی ہوئی مرے خیال کی دنیا پہ چھا سکو تو چلو بڑے ...

مزید پڑھیے

خواب جو دیکھے ہیں میں نے انہیں پیکر دے گا

خواب جو دیکھے ہیں میں نے انہیں پیکر دے گا میرا صحرا مجھے اک روز سمندر دے گا ایک قطرہ جو لرزتا ہے مری پلکوں پر زرد موسم کو یہی قطرہ ہرا کر دے گا مجھ کو کچھ اور فضاؤں میں بکھر جانے دو میرا احساس خلاؤں میں مجھے گھر دے گا ہوں گنہ گار مگر اتنا گنہ گار نہیں مجھ کو دے گا بھی تو وہ پھول ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1906 سے 6203