ہمارے ذہن میں محشر بپا ہے کیا کیا جائے
ہمارے ذہن میں محشر بپا ہے کیا کیا جائے یہ دل آمادۂ ترک وفا ہے کیا کیا جائے مسلسل بارش سنگ صدا ہے کیا کیا جائے یہی میری وفاؤں کا صلہ ہے کیا کیا جائے لبوں تک آ کے سب حرف شکایت ٹوٹ جاتے ہیں عجب انداز سے وہ دیکھتا ہے کیا کیا جائے بچھڑ کر آپ سے جینے کی خواہش کفر ہے لیکن ہماری زندگی ...