قومی زبان

ہمارے ذہن میں محشر بپا ہے کیا کیا جائے

ہمارے ذہن میں محشر بپا ہے کیا کیا جائے یہ دل آمادۂ ترک وفا ہے کیا کیا جائے مسلسل بارش سنگ صدا ہے کیا کیا جائے یہی میری وفاؤں کا صلہ ہے کیا کیا جائے لبوں تک آ کے سب حرف شکایت ٹوٹ جاتے ہیں عجب انداز سے وہ دیکھتا ہے کیا کیا جائے بچھڑ کر آپ سے جینے کی خواہش کفر ہے لیکن ہماری زندگی ...

مزید پڑھیے

جب بھی مجھ کو اپنا بچپن یاد آتا ہے

جب بھی مجھ کو اپنا بچپن یاد آتا ہے بچپن کے اک پیار کا بچپن یاد آتا ہے دیکھ کے اس منہ زور جوانی کی منہ زوری مجھ کو اس کا توتلا بچپن یاد آتا ہے عورت ماں تھی بہن تھی دادی تھی نانی تھی کورے کاغذ جیسا بچپن یاد آتا ہے طوفانی بارش گھر میں سیلاب کا عالم ٹھنڈا چولہا بھوکا بچپن یاد آتا ...

مزید پڑھیے

یہ کیسے جانتا گر شہر میں آیا نہیں ہوتا

یہ کیسے جانتا گر شہر میں آیا نہیں ہوتا یہاں دیوار ہوتی ہے مگر سایہ نہیں ہوتا رسالت کی بنا گر جھوٹ پر رکھی گئی ہوتی رسولوں کو بھی تو دنیا نے جھٹلایا نہیں ہوتا یہ خواب صبح کیا کرتے تمنا کی حنا بندی اگر تاریخ نے اپنے کو دہرایا نہیں ہوتا جو امرت چھوڑ کر ہم لوگ بھی وش پان کر لیتے تو ...

مزید پڑھیے

میرے بعد اور کوئی مجھ سا نہ آیا ہوگا

میرے بعد اور کوئی مجھ سا نہ آیا ہوگا اس کے دروازے پہ اب تک مرا سایہ ہوگا جب بھی آئینہ نے منہ اس کو چڑھایا ہوگا کیسے خوابوں کی حقیقت کو چھپایا ہوگا اس نے بھرپور نظر جس پہ بھی ڈالی ہوگی چاند نے اس کو کلیجے سے لگایا ہوگا کس طرح قتل کیا ہوگا مری یادوں کو کتنی مشکل سے مجھے اس نے ...

مزید پڑھیے

من بھی شاعر کی طرح تن بھی غزل جیسا ہے

من بھی شاعر کی طرح تن بھی غزل جیسا ہے یہ ترے روپ کا درپن بھی غزل جیسا ہے ریشمی چوڑیاں ایسی کہ غزل کے مصرعے یہ کھنکتا ہوا کنگن بھی غزل جیسا ہے ان لچکتی ہوئی زلفوں میں ہے گوکل کا سماں یہ مہکتا ہوا ساون بھی غزل جیسا ہے لوگ گیتوں کی طرح تو بھی رسیلی ہے مگر میری سجنی ترا ساجن بھی غزل ...

مزید پڑھیے

یوں دل دیوانہ کو اکثر سزا دیتا ہوں میں

یوں دل دیوانہ کو اکثر سزا دیتا ہوں میں اپنی بربادی پہ خود ہی مسکرا دیتا ہوں میں اپنے دل کے خون سے وہ گل کھلا دیتا ہوں میں ریگزاروں کو گلستاں کی ادا دیتا ہوں میں ایسی منزل پر مجھے پہنچا دیا ہے عشق نے میرا جو قاتل ہے اس کو بھی دعا دیتا ہوں میں کیوں کسی کا نام لے کر عشق کو رسوا ...

مزید پڑھیے

کیا چیز ہے عذر لب اظہار کا سایہ

کیا چیز ہے عذر لب اظہار کا سایہ اقرار کا سایہ کبھی انکار کا سایہ تقدیر گلستاں کی بدل دیتا ہے وہ پھول پڑ جاتا ہے جس پھول پہ تلوار کا سایہ دیوار سے دیوار کی دوری ارے توبہ پڑتا نہیں دیوار پہ دیوار کا سایہ احساس کی انگلی سے ٹپکتے ہیں ستارے چبھتا ہے مرے ذہن میں جب خار کا سایہ قیصرؔ ...

مزید پڑھیے

آرزو ناکام ہو کر رہ گئی ہے

آرزو ناکام ہو کر رہ گئی ہے زندگی الزام ہو کر رہ گئی ہے خواب تعبیروں کے معنی پوچھتے ہیں نیند بے انجام ہو کر رہ گئی ہے یاد بھی قاتل کی ہے شمشیر قاتل رات خوں آشام ہو کر گئی ہے وقت نے دستار کی صورت بدل دی اب تو یہ احرام ہو کر رہ گئی ہے زہر میں ڈوبی ہوئی اک مسکراہٹ موت کا پیغام ہو کر ...

مزید پڑھیے

ہم اپنی فکر کا چہرہ بدل کے دیکھتے ہیں

ہم اپنی فکر کا چہرہ بدل کے دیکھتے ہیں طلسم خواب سے باہر نکل کے دیکھتے ہیں سنا یہ ہے کہ بہت تیز گام ہو تم لوگ تمہارے ساتھ ذرا ہم بھی چل کے دیکھتے ہیں اٹھا کے چاند ستاروں کو سر پہ دیکھ چکے ہم اپنے ماتھے پہ اب خاک مل کے دیکھتے ہیں ذرا پتہ تو چلے حسن عہد نو کیا ہے نئی نگاہ کے سانچے ...

مزید پڑھیے

کیوں نہ افسانۂ غم کیف کا عنواں ٹھہرے

کیوں نہ افسانۂ غم کیف کا عنواں ٹھہرے شدت درد ہی جب درد کا درماں ٹھہرے جس جگہ ہم سا کوئی چاک گریباں ٹھہرے شوق سے آ کے وہاں فصل بہاراں ٹھہرے اس کے دامن کی طرف ہاتھ بڑھاؤں کیسے جس کے دامن کی مہک شعلگیٔ جاں ٹھہرے منزلیں آتی ہیں اور آ کے گزر جاتی ہیں دیکھیے جا کے کہاں قافلۂ جاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1905 سے 6203