قومی زبان

زلفوں کے سائے میں آ کر چین ملا ہے پہلی بار

زلفوں کے سائے میں آ کر چین ملا ہے پہلی بار میری پیاسی آنکھوں نے دریا دیکھا ہے پہلی بار پیار کسے کہتے ہیں یہ احساس ہوا ہے پہلی بار میرے دل میں میٹھا میٹھا درد اٹھا ہے پہلی بار مہندی والی چاہت کا پیغام ملا ہے پہلی بار اس نے اپنے ہاتھ پہ میرا نام لکھا ہے پہلی بار پہلی بار سنائی دی ...

مزید پڑھیے

قصور سب ہے یہ نا معتبر علامت کا

قصور سب ہے یہ نا معتبر علامت کا الجھ کے رہ گیا مفہوم ہی عبارت کا تمہارے سامنے منظر کہاں قیامت کا عذاب سہتے کبھی کاش تم بھی ہجرت کا قلم کے ساتھ زباں بھی تراش لو میری یہ امتحان بھی لے لو مری صداقت کا کوئی سنائے تو آ کر حدیث شب زدگاں ابھی بجھا نہیں شعلہ مری سماعت کا مری حیات کی ...

مزید پڑھیے

مبہم تخیلات کے پیکر تراشنا

مبہم تخیلات کے پیکر تراشنا ہے مشغلہ خلاؤں میں منظر تراشنا لڑنا ہر ایک لمحہ سمندر سے رات کے اور خواب کے جزیرے میں اک گھر تراشنا آنکھوں کو میری آپ نے سونپا ہے خوب کام جگنو اچھالنا کبھی گوہر تراشنا پیشانیوں پہ لکھنا خود اپنا ہمیں نصیب ہاتھوں سے اپنے اپنا مقدر تراشنا پیہم ...

مزید پڑھیے

وہ حیرتوں کی مکمل کتاب لکھ دینا

وہ حیرتوں کی مکمل کتاب لکھ دینا سوال کرنے سے پہلے جواب لکھ دینا شکست و ریخت کا پیہم عذاب لکھ دینا وہ اس کا جاگتی آنکھوں میں خواب لکھ دینا عجیب طرح بتانا حیات کا مفہوم وہ انگلیوں سے ہوا پر حباب لکھ دینا ہمارے گھر کے چراغوں کا امتحاں ہی سہی تم آندھیوں کے مسلسل عذاب لکھ ...

مزید پڑھیے

ستارے جب کسی مہتاب کا قصہ سناتے ہیں

ستارے جب کسی مہتاب کا قصہ سناتے ہیں مرے خوابوں کے آنگن میں اجالے مسکراتے ہیں حقیقت سامنے لانے سے جب دامن بچاتے ہیں تو گر کر آئنہ ہاتھوں سے خود ہی ٹوٹ جاتے ہیں ہمیں تو مسکرانے کے سوا کچھ بھی نہیں آتا ہجوم غم میں بھی ہم لوگ یوں ہی مسکراتے ہیں چلو اے بادہ خوارو چل کے ان کی خیریت ...

مزید پڑھیے

رشتہ کیسے ٹوٹتا ہے خواب سے تعبیر کا

رشتہ کیسے ٹوٹتا ہے خواب سے تعبیر کا آؤ دکھلاؤں تمہیں یہ کھیل بھی تقدیر کا اے مصور ہے یہی حاصل تری تحریر کا حسن خود ہی پیرہن ہے حسن کی تصویر کا بن گیا ہے استعارہ حسن عالم گیر کا آئنہ در آئنہ چہرہ مری تحریر کا جیسے جیسے قید کی میعاد گھٹتی جائے گی تنگ ہوتا جائے گا حلقہ مری زنجیر ...

مزید پڑھیے

اک بھیڑ ہے جلووں کی اور میری نظر تنہا

اک بھیڑ ہے جلووں کی اور میری نظر تنہا ہے آئنہ خانے میں خود آئینہ گر تنہا ان پاؤں کے چھالوں سے پوچھو یہ بتائیں گے طے کیسے کیا ہم نے شعلوں کا سفر تنہا جلتے ہوئے موسم میں اس طرح وہ ہنستا ہے صحرا میں ہنسے جیسے کوئی گل تر تنہا کیا جانئے کیوں مجھ پر یہ خاص عنایت ہے کیا جانئے جلتا ہے ...

مزید پڑھیے

انا کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر جاتا

انا کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر جاتا اگر میں ٹوٹ نہ جاتا بکھر بکھر جاتا مری تلاش میں نکلی تھی آفتاب کی فوج جو میں گپھا سے نکلتا تو آج مر جاتا میں جان کر نظر انداز کر گیا ورنہ ترا لباس سر انجمن اتر جاتا کہیں سے کوئی کرن ہی نہ آ سکی ورنہ یہ تیرگی کا کھنڈر روشنی سے بھر جاتا زمین ہی ...

مزید پڑھیے

گھر سے میں جب بھی اکیلا نکلا

گھر سے میں جب بھی اکیلا نکلا مجھ سے پہلے مرا سایہ نکلا پھاڑ کر دامن صحرا نکلا میرے اندر سے جو دریا نکلا اک تبسم جو ملا تھا مجھ کو وہ بھی اک زخم تمنا نکلا جس پہ کل سنگ ملامت برسے آج وہ دار پہ عیسیٰ نکلا آئنہ دیکھا جو عریاں ہو کر جسم ہی جسم کا پردا نکلا جس نے یہ بھیڑ لگا رکھی ...

مزید پڑھیے

سورج سے آگے اک جنگل ہے

سورج سے آگے اک جنگل ہے میں اس جنگل کا دیا ہوں چاند سے آگے میرا گھر ہے میں اس گھر کا دیا ہوں سورج سے آگے اک جنگل ہے میں اس جنگل کا دیا ہوں میں کیا جانوں کس جنگل میں میرا گھر ہے سوئی ہوئی چڑیا سے پوچھو رات کی کتنی گھڑیاں باقی ہیں میں کیا جانوں کس جنگل میں میرا گھر ہے سورج سے آگے اک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1907 سے 6203