قومی زبان

خود کی خاطر نہ زمانے کے لیے زندہ ہوں

خود کی خاطر نہ زمانے کے لیے زندہ ہوں قرض مٹی کا چکانے کے لیے زندہ ہوں کس کو فرصت جو مری بات سنے زخم گنے خاک ہوں خاک اڑانے کے لیے زندہ ہوں لوگ جینے کے غرض مند بہت ہیں لیکن میں مسیحا کو بچانے کے لیے زندہ ہوں روح آوارہ نہ بھٹکے یہ کسی کی خاطر سارے رشتوں کو بھلانے کے لیے زندہ ...

مزید پڑھیے

ایک دیوار اگر ہو تو یہاں سر ماریں

ایک دیوار اگر ہو تو یہاں سر ماریں ایک دیوار کے پیچھے ہیں کئی دیواریں ہم کو لوٹا دے ہمارا وہ پرانا چہرہ زندگی تیرے لیے روپ کہاں تک دھاریں پاس کچھ اپنے بچا ہے تو یہی اک لمحہ آخری داؤ ہے جیتیں کہ یہ بازی ہاریں تم کبھی آگ میں پل بھر تو اتر کے دیکھو کون کہتا ہے کہ شعلوں میں نہیں ...

مزید پڑھیے

یاد موسم وہ پرانے آئے

یاد موسم وہ پرانے آئے زخم ہنسنے کے زمانے آئے دل کی دہلیز پہ یادوں کے سوا کون آواز لگانے آئے اب کہاں تاب لہو رونے کی اب نہ وہ خواب دکھانے آئے لوگ جیتے ہیں لہو پی کے یہاں ہم کہاں پیاس بجھانے آئے کہہ گئے بات جو سچ تھی ورنہ یاد کتنے ہی بہانے آئے ہر غزل میں ہے چھپا وہ چہرہ کوئی ...

مزید پڑھیے

ہنستی ہوئی تنہا وہ دریچے میں کھڑی ہے

ہنستی ہوئی تنہا وہ دریچے میں کھڑی ہے لڑکی ہے کہ ترشے ہوئے ہیروں کی لڑی ہے سونے کا یہ انداز ہے خفگی کی علامت چہرہ کئے دیوار کی جانب وہ پڑی ہے کہرے میں گھری شام کی ڈولی سے اتر کر تنہائی کی چوکھٹ پہ تری یار کھڑی ہے دل عمر کے قانون کا قائل نہیں ورنہ احساس اسے بھی ہے کہ وہ مجھ سے بڑی ...

مزید پڑھیے

ہر خوشی مقبروں پہ لکھ دی ہے

ہر خوشی مقبروں پہ لکھ دی ہے اور اداسی گھروں پہ لکھ دی ہے ایک آیت سی دست قدرت نے تتلیوں کے پروں پہ لکھ دی ہے جالیوں کو تراش کر کس نے ہر دعا پتھروں پہ لکھ دی ہے لوگ یوں سر چھپائے پھرتے ہیں جیسے قیمت سروں پہ لکھ دی ہے ہر ورق پر ہیں کتنے رنگ قمرؔ ہر غزل منظروں پہ لکھ دی ہے

مزید پڑھیے

کہیں یہ درد کا دھاگا بھی یوں سلجھتا ہے

کہیں یہ درد کا دھاگا بھی یوں سلجھتا ہے گرہ جو کھولیں تو دل اور بھی الجھتا ہے وہ ایک بات جو دل میں ہے میرے اس کے لیے زباں سے کہتا نہیں وہ مگر سمجھتا ہے میں تیری آنکھوں کی یہ پیاس کس طرح دیکھوں مرے وجود میں بادل کوئی گرجتا ہے عجیب چیز ہے یہ خوبی خطوط بدن کوئی لباس ہو اس کے بدن پہ ...

مزید پڑھیے

تیرے لہجے کا تری بات کا آئینہ ہے

تیرے لہجے کا تری بات کا آئینہ ہے میرا ہر شعر تری ذات کا آئینہ ہے تیری زلفوں کے مچلتے ہوئے ساون کا سماں میرے مہکے ہوئے جذبات کا آئینہ ہے میرے چہرے کو ذرا غور سے دیکھو تو سہی میرا چہرہ مرے حالات کا آئینہ ہے لہلہاتی ہوئی بھرپور جوانی تیری گنگناتی ہوئی برسات کا آئینہ ہے اے مری ...

مزید پڑھیے

نہ طرز خاص نہ انداز گل فشاں لے کر

نہ طرز خاص نہ انداز گل فشاں لے کر پکارتا ہوں میں تجھ کو تری زباں لے کر تمام حسن تمنا دھواں دھواں لے کر نگاہ بجھ ہی گئی رات کا سماں لے کر مری بہار تمنا کو جاوداں کر دے میں کیا کروں گا بھلا عمر رائیگاں لے کر تمہارے بزم کا دستور چاہے جو بھی ہو تمہاری بزم میں آیا ہوں میں زباں لے ...

مزید پڑھیے

عالم بے چہرگی میں کون کس کا آشنا

عالم بے چہرگی میں کون کس کا آشنا آج کا ہر لفظ ہے مفہوم سے نا آشنا کون ہوتا ہے زمانے میں کسی کا آشنا لوگ ہونا چاہتے ہیں خود زمانہ آشنا سوچتا ہوں کون سی منزل ہے یہ ادراک کی ذرہ ذرہ آشنا ہے پتا پتا آشنا چاٹ جاتی ہے جنہیں سورج کی پیاسی روشنی کاش ہو جائیں کسی دن وہ بھی دریا ...

مزید پڑھیے

تم خواب میں آؤ گے یہ معلوم نہیں تھا

تم خواب میں آؤ گے یہ معلوم نہیں تھا پھر خواب دکھاؤ گے یہ معلوم نہیں تھا تم کعبے کو ڈھاؤ گے یہ معلوم نہیں تھا دل توڑ کے جاؤ گے یہ معلوم نہیں تھا جس خط میں ٹنکے تھے مرے اشکوں کے ستارے وہ خط بھی جلاؤ گے یہ معلوم نہیں تھا کچھ عکس مرے آئینہ خانے سے چرا کر مجھ کو ہی دکھاؤ گے یہ معلوم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1904 سے 6203