ہمارے ذہن میں محشر بپا ہے کیا کیا جائے
ہمارے ذہن میں محشر بپا ہے کیا کیا جائے
یہ دل آمادۂ ترک وفا ہے کیا کیا جائے
مسلسل بارش سنگ صدا ہے کیا کیا جائے
یہی میری وفاؤں کا صلہ ہے کیا کیا جائے
لبوں تک آ کے سب حرف شکایت ٹوٹ جاتے ہیں
عجب انداز سے وہ دیکھتا ہے کیا کیا جائے
بچھڑ کر آپ سے جینے کی خواہش کفر ہے لیکن
ہماری زندگی ہی بے حیا ہے کیا کیا جائے
یہ مانا خواب ہے اے زخم نو تیری خلش لیکن
یہاں پہلے ہی اک میلہ لگا ہے کیا کیا جائے
ہمیشہ سوچتے رہنا بھی کچھ اچھا نہیں ہوتا
مگر شاعر ہمیشہ سوچتا ہے کیا کیا جائے
وہ انساں جو مرا ہم راز ہے ہم زاد ہے قیصرؔ
وہ مجھ سے آج تک نا آشنا ہے کیا کیا جائے