یاد موسم وہ پرانے آئے

یاد موسم وہ پرانے آئے
زخم ہنسنے کے زمانے آئے


دل کی دہلیز پہ یادوں کے سوا
کون آواز لگانے آئے


اب کہاں تاب لہو رونے کی
اب نہ وہ خواب دکھانے آئے


لوگ جیتے ہیں لہو پی کے یہاں
ہم کہاں پیاس بجھانے آئے


کہہ گئے بات جو سچ تھی ورنہ
یاد کتنے ہی بہانے آئے


ہر غزل میں ہے چھپا وہ چہرہ
کوئی گھونگھٹ تو اٹھانے آئے


شاخ پھولوں سے جھکی جاتی ہے
کوئی تو ہاتھ بڑھانے آئے


صبح جب ہو تو قمرؔ مثل صبا
پھول رکھنے وہ سرہانے آئے