نہ طرز خاص نہ انداز گل فشاں لے کر

نہ طرز خاص نہ انداز گل فشاں لے کر
پکارتا ہوں میں تجھ کو تری زباں لے کر


تمام حسن تمنا دھواں دھواں لے کر
نگاہ بجھ ہی گئی رات کا سماں لے کر


مری بہار تمنا کو جاوداں کر دے
میں کیا کروں گا بھلا عمر رائیگاں لے کر


تمہارے بزم کا دستور چاہے جو بھی ہو
تمہاری بزم میں آیا ہوں میں زباں لے کر


اب اور کتنا تماشہ بنائے گی قسمت
پھروں میں اپنا جنازہ کہاں کہاں لے کر


مجھے ہی راس نہ آئی یہ بد نصیب زباں
تو کیا کرو گے میاں تم مری زباں لے کر


یہ پستیوں کی لکیریں نہ چھو سکیں گی مجھے
میں گھر سے نکلا ہوں آنکھوں میں آسماں لے کر


سہاگ جس کی جدائی میں اجڑا اجڑا ہے
کبھی تو لوٹے گا سونے کی چوڑیاں لے کر


تمہارا آئنہ کیسے نہ احترام کرے
مری غزل بھی تو آئی ہے کہکشاں لے کر


خرد کی ریشم و اطلس نواز محفل میں
جنوں چلا ہے گریباں کی دھجیاں لے کر


مزاج بچوں کے جیسا ہے اب بھی قیصرؔ کا
بہت ہی خوش ہے وہ کاغذ کی تتلیاں لے کر