جو پڑ گئی تھی گرہ دل میں کھولتے ہم بھی
جو پڑ گئی تھی گرہ دل میں کھولتے ہم بھی وہ بات کرتا تو کچھ اس سے بولتے ہم بھی ہوا کو کس نے چھوا ہے جو تجھ کو چھو پاتے خلا میں پھرتے ہیں رستہ ٹٹولتے ہم بھی کہاں پہ ٹھہریں کہ مانند برگ آوارہ ہوا کے دوش پہ پھرتے ہیں ڈولتے ہم بھی اندھیرا شہر کی گلیوں کا گھر میں در آتا ذرا جو رات کو ...