قومی زبان

جو پڑ گئی تھی گرہ دل میں کھولتے ہم بھی

جو پڑ گئی تھی گرہ دل میں کھولتے ہم بھی وہ بات کرتا تو کچھ اس سے بولتے ہم بھی ہوا کو کس نے چھوا ہے جو تجھ کو چھو پاتے خلا میں پھرتے ہیں رستہ ٹٹولتے ہم بھی کہاں پہ ٹھہریں کہ مانند برگ آوارہ ہوا کے دوش پہ پھرتے ہیں ڈولتے ہم بھی اندھیرا شہر کی گلیوں کا گھر میں در آتا ذرا جو رات کو ...

مزید پڑھیے

دوریاں ساری سمٹ کر رہ گئیں ایسا لگا

دوریاں ساری سمٹ کر رہ گئیں ایسا لگا موند لی جب آنکھ تو سینے سے کوئی آ لگا کس قدر اپنائیت اس اجنبی بستی میں تھی گو کہ ہر چہرہ تھا بیگانہ مگر اپنا لگا پاس سے ہو کر جو وہ جاتا تو خوش ہوتے مگر اس کا کترا کر گزرنا بھی ہمیں اچھا لگا اس گھڑی کیا کیفیت دل کی تھی کچھ ہم بھی سنیں تو نے پہلی ...

مزید پڑھیے

جینا ہے سب کے ساتھ کہ انسان میں بھی ہوں

جینا ہے سب کے ساتھ کہ انسان میں بھی ہوں چہرے بدل بدل کے پریشان میں بھی ہوں جھونکا ہوا کا چپکے سے کانوں میں کہہ گیا اک کانپتے دیے کا نگہبان میں بھی ہوں انکار اب تجھے بھی ہے میری شناخت سے لیکن نہ بھول یہ تری پہچان میں بھی ہوں آنکھوں میں منظروں کو جب آباد کر لیا دل نے کیا یہ طنز کہ ...

مزید پڑھیے

بچھڑ گیا ہے کہاں کون کچھ پتہ ہی نہیں

بچھڑ گیا ہے کہاں کون کچھ پتہ ہی نہیں سفر میں جیسے کوئی اپنے ساتھ تھا ہی نہیں کسی سے ربط بڑھائیں تو مت خفا ہونا کہ دل میں اب تری یادوں کا سلسلہ ہی نہیں سب اپنے اپنے مسیحا کے انتظار میں ہیں کسی کا جیسے زمانے میں اب خدا ہی نہیں اک عمر کٹ گئی کاغذ سیاہ کرتے ہوئے قلم کو اپنے جو لکھنا ...

مزید پڑھیے

یوں قید ہم ہوئے کہ ہوا کو ترس گئے

یوں قید ہم ہوئے کہ ہوا کو ترس گئے اپنے ہی کان اپنی صدا کو ترس گئے تھے کیا عجیب لوگ کہ جینے کے شوق میں آب حیات پی کے ہوا کو ترس گئے کچھ روز کے لیے جو کیا ہم نے ترک شہر باشندگان شہر جفا کو ترس گئے مردہ ادب کو دی ہے نئی زندگی مگر بیمار خود پڑے تو دوا کو ترس گئے خالی جو اپنا جسم لہو ...

مزید پڑھیے

سب پگھل جائے تماشہ وہ ادھر کب ہوگا

سب پگھل جائے تماشہ وہ ادھر کب ہوگا موم کے شہر سے سورج کا گزر کب ہوگا خواب کاغذ کے سفینے ہیں بچائیں کیسے ختم اس آگ کے دریا کا سفر کب ہوگا جس کا نقشہ ہے مرے ذہن میں اک مدت سے گھر وہ تعمیر سے پہلے ہی کھنڈر کب ہوگا میرے کھوئے ہوئے محور پہ جو پہنچائے مجھے اب لہو میں مرے پیدا وہ بھنور ...

مزید پڑھیے

سفر صحرا

کیا کہوں زخم کتنا گہرا ہے دور تک صرف محض صحرا ہے ہر قدم پر بگولے رقصاں ہیں راہ میں ہر سو شعلے رقصاں ہیں نہ شجر ہے نہ کوئی سایہ ہے کوئی چشمہ نہ کوئی دریا ہے دھوپ سر پر برستی رہتی ہے پیاس لب پر لرزتی رہتی ہے تیرگی چشم تر پہ طاری ہے اور سفر ہے کہ پھر بھی جاری ہے

مزید پڑھیے

عذاب ہجر

یہ تیرے ہجر کی آندھی کہاں لے آئی ہے مجھ کو یہاں ہر سمت اک سورج سوا نیزے پہ جلتا ہے نہ سر سے دھوپ اترتی ہے نہ سایہ کوئی ڈھلتا ہے ہوائے شام چلتی ہے نہ کوئی شمع جلتی ہے فلک پر نجم آتے ہیں نہ تو مہتاب آتا ہے کسی کی آنکھ سوتی ہے نہ کوئی خواب آتا ہے

مزید پڑھیے

فضاؤں سے گزرتا جا رہا ہوں

فضاؤں سے گزرتا جا رہا ہوں خلاؤں میں بکھرتا جا رہا ہوں میں ریگستان میں بیٹھا ہوں لیکن سمندر میں اترتا جا رہا ہوں زمانہ لمحہ لمحہ جی رہا ہے میں لمحہ لمحہ مرتا جا رہا ہوں وہ جتنے دور ہوتے جا رہے ہیں میں اتنا ہی سنورتا جا رہا ہوں چلا ہوں اپنے سے دو ہات کرنے مگر خود سے بھی ڈرتا جا ...

مزید پڑھیے

فریاد (فریادی آشنا ہے)

کہاں ہو غالبوؔ، میروؔ نظیروؔ کہاں ہو میری زلفوں کے اسیرو میری صہبا کے پیمانو، کہاں ہو کہاں ہو میرے دیوانو کہاں ہو کہاں ہو عالمو مسند نشینو مرے خوان عطا کے ریزہ چینو! صلہ کچھ تو وفا کا دو کہاں ہو کہاں ہو میرے شہزادو کہاں ہو کہاں ہو اے مرے در کے گداؤ کم از کم اپنی صورت تو دکھاؤ کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1903 سے 6203