جاں یوں لباس جسم کو نکلی اتار کر
جاں یوں لباس جسم کو نکلی اتار کر جیسے کوئی سرائے میں اک شب گزار کر حالات نے لباس تو میلا کیا مگر کردار پھر بھی رکھا ہے ہم نے سنوار کر معیار آج کل تو بڑائی کا ہے یہی اپنی ہر ایک بات کو تو اشتہار کر گر ہو سکے تو دے انہیں امید کی کرن بیٹھے ہوں زندگانی سے اپنی جو ہار کر دنیا بہت بڑی ...