قومی زبان

آپ کیوں چھیڑتے ہیں دیپک راگ

آپ کیوں چھیڑتے ہیں دیپک راگ شہر میں لگ رہی ہے خود ہی آگ اٹھ رہا ہے حریم دل سے دھواں لٹ رہا ہے سہاگنوں کا سہاگ شعلہ ساماں ہوئی ہے تاریکی کیسے جاگے ہیں روشنی کے بھاگ جانے کس کس ہوس کو دیں گے جنم بوتلوں کے اڑا چکے جو کاگ لاگ میں تھی کبھی لگاؤ کی شان اب لبوں میں لگاؤ کی ہے لاگ کف ...

مزید پڑھیے

خواہشوں کی موت کا یارو بھلا چاہا کرو

خواہشوں کی موت کا یارو بھلا چاہا کرو پھیلتی تاریکیوں میں چاند کا چرچا کرو بے محابا جم ہی جائیں درد کی جب محفلیں اپنے غم کو شہر بخت نارسا سمجھا کرو لہلہاتی وادیوں سے خوب تر ہیں ریگ زار دل کے صحرا میں گلستاں کی فضا پیدا کرو رنج کی گہرائیوں کی تہہ کو پانے کے لیے دوستوں کی دشمنی ...

مزید پڑھیے

ان کی جب نکتہ وری یاد آئی

ان کی جب نکتہ وری یاد آئی اپنی ہی بے خبری یاد آئی یاد آئی بھی تو یوں عہد وفا آہ کی بے اثری یاد آئی آج کیوں ان کو بہ آغوش رقیب میری ہی ہم عصری یاد آئی دل نے پھر وقت سے لڑنا چاہا پھر وہی درد بھری یاد آئی اپنا سینہ ہوا روشن تو انہیں حسن کی کم نظری یاد آئی جب بھی دھیان آیا کہیں منزل ...

مزید پڑھیے

ہر موج حوادث رکھتی ہے سینے میں بھنور کچھ پنہاں بھی

ہر موج حوادث رکھتی ہے سینے میں بھنور کچھ پنہاں بھی رہتے ہیں مقابل ہی اکثر اشکال بھی دل میں ایماں بھی شہروں کی چمک نے آنکھوں کو دکھلائے وہ منظر جن کے لئے قدروں کا تغیر کیا کہیے چھوڑ آئے زمینیں دہقاں بھی ہر سمت لرزتی چیخیں ہیں جلتے ہوئے غنچوں، کلیوں کی پوچھے ہے زمین گل ہم سے کیا ...

مزید پڑھیے

آئنہ ہوں کہ میں پتھر ہوں یہ کب پوچھے ہے

آئنہ ہوں کہ میں پتھر ہوں یہ کب پوچھے ہے زیست مجھ سے میرے جینے کا سبب پوچھے ہے منکشف ہونے لگے جب سے رموز و اسرار کچھ سوال اب دل معصوم عجب پوچھے ہے مقصد زیست، کوئی خواب یا خواہش کوئی؟ ہم نے جب سی لئے لب اپنے وہ تب پوچھے ہے ہر کوئی اپنی تگ و دو میں ہے مصروف یہاں کون اب کس کی اداسی کا ...

مزید پڑھیے

ماتھے پر ٹیکا صندل کا اب دل کے کارن رہتا ہے

ماتھے پر ٹیکا صندل کا اب دل کے کارن رہتا ہے مندر میں مسجد بنتی ہے مسجد میں برہمن رہتا ہے ذرہ میں سورج اور سورج میں ذرہ روشن رہتا ہے اب من میں ساجن رہتے ہیں اور ساجن میں من رہتا ہے رت بیت چکی ہے برکھا کی اور پریت کے مارے رہتے ہیں روتے ہیں رونے والوں کی آنکھوں میں ساون رہتا ہے اک ...

مزید پڑھیے

کیوں بیٹھ گئے غبار سے ہم

کیوں بیٹھ گئے غبار سے ہم کچھ کہہ نہ سکے بہار سے ہم یہ زندگی عمر بھر کا رونا گھبرا گئے انتظار سے ہم وہ جبر کی لذتوں کا عالم باز آئے اس اختیار سے ہم ہنستے ہیں کہ ہنس سکے زمانہ خوش ہیں تو اس اعتبار سے ہم یوں بھی تو سکوں ملا ہے برسوں پھرتے رہے بے قرار سے ہم وہ لمحہ ہے آج تک ...

مزید پڑھیے

چمن بندی پہ ہے محشر بپا کیا

چمن بندی پہ ہے محشر بپا کیا کھلے ہیں گل اڑی ہے خاک کیا کیا شہیدان وفا بھی جی اٹھیں گے کوئی جادو جگا اب پوچھنا کیا خرام ناز موزوں ہے تجھی کو اٹھی اٹھکھیلیاں کرتی صبا کیا فساد ایں و آں ہے کس کے دم سے کہیں گے اور تجھ سے برملا کیا قیامت ہے کہ وہ یوں بھی ہیں ناخوش دعا میں بھی تھا حرف ...

مزید پڑھیے

سورج کی کرن کا شعبدہ ہے

سورج کی کرن کا شعبدہ ہے رنگ رخ زرد اڑ گیا ہے نقش کف پا نے گل کھلائے ویراں کہاں اب یہ راستہ ہے جاگ اٹھی ہیں زندگی کی راہیں شاید کوئی چاند کو گیا ہے شعلوں سے ہوا تھا باغ خالی پھر سینۂ گل بھڑک اٹھا ہے پتے پتے کا رنگ بدلا بدلی بدلی ہوئی فضا ہے پہلے تو نہ یوں کبھی ہوا تھا تو بھی ...

مزید پڑھیے

سیر شکمی کا بھوک سے ہے ملاپ

سیر شکمی کا بھوک سے ہے ملاپ روح کی تشنگی سنبھالیے آپ رقص فرما ہوئی وہ سیم تنی بے زری کی بہار نے دی تھاپ شہر والے ہیں کھولتا لاوا گلی کوچوں سے اٹھ رہی ہے بھاپ نا مرادی کے بڑھتے سلسلے کو نئے پیمانہ ستم سے ناپ اس کو نمرود کا تقاضا جان آتش حسن کو نہ بیٹھ کے تاپ خامشی تو علاج درد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1832 سے 6203