قومی زبان

گاؤں میں اب گاؤں جیسی بات بھی باقی نہیں

گاؤں میں اب گاؤں جیسی بات بھی باقی نہیں یعنی گزرے وقت کی سوغات بھی باقی نہیں تتلیوں سے ہلکے پھلکے دن نہ جانے کیا ہوئے جگنوؤں سی ٹمٹماتی رات بھی باقی نہیں مسکراہٹ جیب میں رکھی تھی کیسے کھو گئی حیف اب اشکوں کی وہ برسات بھی باقی نہیں بت پرستی شیوہ دل ہو تو کوئی کیا کرے اب تو کعبہ ...

مزید پڑھیے

یہ کرب یہ تسلسل بے خواب شب تو ہے

یہ کرب یہ تسلسل بے خواب شب تو ہے گویا تمہاری یاد کا کوئی سبب تو ہے انجام جو بھی ہو مرا اس رزم گاہ میں منسوب تیرے نام سے جشن طرب تو ہے سرمایۂ حیات مرے پاس کم نہیں زخم جگر فریب نظر درد سب تو ہے ملنے میں عذر طرز تکلم بجھا بجھا پہلے نہ تھی یہ بات مگر خیر اب تو ہے اے بحر انبساط کہ تو ...

مزید پڑھیے

زندگی

زندگی اس بار تیری ہار طے ہے میں تجھے اس کانپتے سینے کے اندر گھونٹ دوں گا اس طرح کہ تو کہیں معدوم ہو جائے گی یکسر زندگی تجھ سے ترا رخت تنفس چھین لوں گا اور تیرے تھرتھراتے جسم کو میں بھی حقارت سے تکوں گا اے مجھے معلوم ہیں سب مکر تیرے یہ تگاپوئے رہ عدم یہ فریب ہاؤ ہو لے تری رعنائیوں ...

مزید پڑھیے

اپنی آنکھیں ہیں اور تمہارے خواب

اپنی آنکھیں ہیں اور تمہارے خواب کتنے پر کیف ہیں ہمارے خواب ان کے حق میں بڑا سہارا ہیں دیکھتے ہیں جو بے سہارے خواب حاصل زندگی جنہیں کہئے کچھ ہمارے ہیں کچھ تمہارے خواب یوں ہی بنتے بگڑتے رہتے ہیں گردش وقت کے سہارے خواب ہاں نہ ٹوٹے طلسم خوش فہمی یوں ہی دیکھو رئیسؔ پیارے خواب

مزید پڑھیے

کیا کہیں یہ جبر کیسا زندگی کے ساتھ ہے

کیا کہیں یہ جبر کیسا زندگی کے ساتھ ہے ہم کسی کے ساتھ ہیں اور دل کسی کے ساتھ ہے زندہ رکھنے کی روایت آستیں کے سانپ کی اک نہ اک ہمدرد بھی ہر آدمی کے ساتھ ہے اپنی اپنی مصلحت ہے اپنا اپنا ہے مفاد ورنہ اس دنیا میں کب کوئی کسی کے ساتھ ہے ہو چکی ہیں مشکلات راہ سب پر آشکار اب جو میرے ساتھ ...

مزید پڑھیے

طرح طرح کے سوالات کرتے رہتے ہیں

طرح طرح کے سوالات کرتے رہتے ہیں اب اپنے آپ سے ہم بات کرتے رہتے ہیں عطا ہوئی ہے ہمیں جب سے دولت احساس غموں سے سب کے ملاقات کرتے رہتے ہیں خوشی میں خوش ہوں میں جن کی انہیں یہ کیا معلوم کہ خودکشی مرے جذبات کرتے رہتے ہیں نصیحتیں نہ کریں اب تو کیا کریں کہ رئیسؔ یوں ہی تلافئ مافات ...

مزید پڑھیے

جب سے دل میں ترے بخشے ہوئے غم ٹھہرے ہیں

جب سے دل میں ترے بخشے ہوئے غم ٹھہرے ہیں محرم اور بھی اپنے لئے ہم ٹھہرے ہیں غم کہ ہر دور میں ٹھہرائے گئے حاصل زیست اور اس دور میں ہم صاحب غم ٹھہرے ہیں ہم تری راہ میں اٹھے ہیں بڑے عزم کے ساتھ گردش دہر بھی ٹھہری ہے جو ہم ٹھہرے ہیں شوق آوارگی و ذوق طلب کے قرباں اٹھ گئے ہیں تو کہاں ...

مزید پڑھیے

دل پہ آفت آئی اب اک آن میں

دل پہ آفت آئی اب اک آن میں زلف کچھ کہتی ہے اس کے کان میں ساتھ اس کے غیر بھی آ جائے گا کیوں کہ اس کافر کو لاؤں دھیان میں قیمت دل چاہیے بوسے کئی آگے جو آئے ترے ایمان میں ہے یہ نفرت غیر سے لائے نہیں رشک کا مضموں بھی ہم دیوان میں پوچھتا کیا ہے ہماری زندگی جیتے ہیں پر موت کے ارمان ...

مزید پڑھیے

جو بھر لیں ایک چٹکی صاحب تاثیر مٹی کی

جو بھر لیں ایک چٹکی صاحب تاثیر مٹی کی ابھی شرمندۂ تاثیر ہو اکسیر مٹی کی بنا کر آدمی کیوں آب و گل میں عشق کو ڈالا نکالی ہے خدا نے یہ نئی تعزیر مٹی کی ہماری قبر پر بھی اک ہجوم بے کسی ہوگا دکھا دیں گے پس مردن تجھے توقیر مٹی کی زمین کوچۂ دلدار نے کیا پاؤں پکڑے ہیں ملی دیوانگان عشق ...

مزید پڑھیے

رکھو وہ شیوہ نہ مد نظر نظر میں رہے

رکھو وہ شیوہ نہ مد نظر نظر میں رہے کہ جس سے راز محبت بشر بشر میں رہے چمن جو بن کے ترا رہ گزر گزر میں رہے تو نخل طور کا جلوہ شجر شجر میں رہے عزیز تر ہے اگر ہو سرشک میں تاثیر لطیف تر ہے جو آب گہر گہر میں رہے ادھر تمام کیا آسماں نے اپنا کام ادھر پھنسے ہوئے اہل ہنر ہنر میں رہے وفور غم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1823 سے 6203