قومی زبان

تھکن کو جام کریں آرزو کو بادہ کریں

تھکن کو جام کریں آرزو کو بادہ کریں سکون دل کے لیے درد کا اعادہ کریں ابھرتی ڈوبتی سانسوں پہ منکشف ہو جائیں سلگتی گرم نگاہوں کو پھر لبادہ کریں بچھائیں دشت نوردی جنوں کی راہوں میں فراق شہر رفاقت میں ایستادہ کریں تمہارے شہر کے آداب بھی عجیب سے ہیں کہ درد کم ہو مگر آہ کچھ زیادہ ...

مزید پڑھیے

بہت دشوار ہے اب آئینے سے گفتگو کرنا

بہت دشوار ہے اب آئینے سے گفتگو کرنا سزا سے کم نہیں ہے خود کو اپنے رو بہ رو کرنا عجب سیمابیت ہے ان دنوں اپنی طبیعت میں کہ جس نے بات کی ہنس کر اسی کی آرزو کرنا عبادت کے لیے تطہیر دل کی بھی ضرورت ہے وضو کے بعد پھر اشک ندامت سے وضو کرنا یہ وصف خاص ہے کچھ آپ سے باوصف لوگوں کا ہمیں آتا ...

مزید پڑھیے

کچھ بادل کچھ چاند سے پیارے پیارے لوگ

کچھ بادل کچھ چاند سے پیارے پیارے لوگ ڈوب گئے جتنے تھے آنکھ کے تارے لوگ کچھ پانے کچھ کھو دینے کا دھوکہ ہے شہر میں جو پھرتے ہیں مارے مارے لوگ شہر بدن بس رین بسیرا جیسا ہے منزل پر کب رکتے ہیں بنجارے لوگ روز تماشا میرے ڈوبتے رہنے کا دیکھ رہے ہیں بیٹھے خواب کنارے لوگ

مزید پڑھیے

ہنر زخم نمائی بھی نہیں

ہنر زخم نمائی بھی نہیں صلۂ آبلہ پائی بھی نہیں درد سر اب ترے ہونے کا سبب اب تو وہ دست حنائی بھی نہیں میں نے ہر رنگ سمیٹا اس کا اور تصویر بنائی بھی نہیں بندگی بھی نہ مجھے راس آئی اور پندار خدائی بھی نہیں جل گیا جس میں مرا سارا وجود تو نے وہ آگ لگائی بھی نہیں اے خدا بخت سکندر مت ...

مزید پڑھیے

کاتب تقدیر میرے حق میں کچھ تحریر ہو

کاتب تقدیر میرے حق میں کچھ تحریر ہو رنج ہو یا شادمانی کچھ تو دامن گیر ہو آب رود زیست کے کچھ گھونٹ زہریلے بھی ہوں میں نے کب چاہا تھا ہر قطرہ مجھے اکسیر ہو عہد آزادی سے بہتر قید زنداں ہو تو پھر توڑ دینے کی قفس کو کیوں کوئی تدبیر ہو تیز لہریں آ ہی جاتی ہیں مٹانے کے لیے جب لب ساحل ...

مزید پڑھیے

انسان ہوس پیشہ سے کیا ہو نہیں سکتا

انسان ہوس پیشہ سے کیا ہو نہیں سکتا مجبور ہے اس سے کہ خدا ہو نہیں سکتا وہ عقدہ مرے کام میں تقدیر نے ڈالا جو ناخن تدبیر سے وا ہو نہیں سکتا دہشت سے کوئی نام بھی لیتا نہیں ورنہ اس بزم میں کیا ذکر مرا ہو نہیں سکتا کیوں کر ہو حریص ستم عشق کی سیری غم رزق مقدر ہے سوا ہو نہیں سکتا دل ...

مزید پڑھیے

کچھ مجھے کہہ کے نہ کہوائیے آپ

کچھ مجھے کہہ کے نہ کہوائیے آپ بس زباں میری نہ کھلوایئے آپ دوش پر اور نہ بھاری ہو جائے میرے سر کی نہ قسم کھائیے آپ بزم ناز اس کی ہے اے حضرت دل پاؤں اپنے بھی نہ پھیلائیے آپ غیر کے شکوے نہ پوچھو شب وصل پچھلے مردے نہ اکھڑوائیے آپ لوگ جانیں گے تمہارا عاشق میں اگر آؤں تو شرمائیے ...

مزید پڑھیے

لطف میں واں ڈھنگ ہے بیداد کا

لطف میں واں ڈھنگ ہے بیداد کا کام دے اے خامشی فریاد کا کیوں کہ لے تصویر اس کی دیکھیے ہاتھ قابو میں نہیں بہزاد کا عمر بھر رکھتا ہے پابند کمیں صید خود اک دام ہے صیاد کا دعویٔ باطل کی پرسش رہ گئی کون پرساں حسرت شداد کا دور تک اپنی نگاہیں ہیں رسا پردہ حائل گر نہ ہو ایجاد کا کون یاں ...

مزید پڑھیے

دل محبت مکان ہے گویا

دل محبت مکان ہے گویا آرزو کا جہان ہے گویا خاک میں مل چکے ہم اور اس کو آج تک بھی گمان ہے گویا میرے آزار دینے کو وہ شوخ دوسرا آسمان ہے گویا کھول دے منہ خموں کے پیر مغاں آج ہی امتحان ہے گویا پاؤں آگے نہ اٹھ سکے واں سے اس گلی کا نشان ہے گویا تیری تصویر کیوں نہ بول اٹھے اس میں عاشق ...

مزید پڑھیے

کب ہے منظور کہ یوں جنس دل زار بکے

کب ہے منظور کہ یوں جنس دل زار بکے پر یہ وہ شے ہے نہ بیچوں بھی تو سو بار بکے لوح مرتد پہ یہ محمود کے لکھ دینا تھا حسن وہ شے ہے کہ لیتے ہی خریدار بکے سو ہی جاوے مرے طالع کے برابر آ کر کیا ہو گر بخت عدو بھی سر بازار بکے ہوں خلش دوست دعا ہے کہ دوا کے بدلے یا رب اس عہد میں درد دل بیمار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1824 سے 6203