اک دھواں اٹھ رہا ہے آنگن سے
اک دھواں اٹھ رہا ہے آنگن سے ہیں ابھی کچھ چراغ روشن سے اس میں شامل ہے بوئے افلاکی یہ ہوا آ رہی ہے کس بن سے دینے آیا ہوں فتح کا مژدہ بھاگ آیا نہیں ہوں میں رن سے منزلوں کی بھی آرزو ہے بہت ڈر بھی لگتا ہے مجھ کو رن بن سے اب بھی کیا رات کے اندھیرے میں شعلہ اٹھتا ہے گلشن تن سے سرخ رو ...