قومی زبان

اک دھواں اٹھ رہا ہے آنگن سے

اک دھواں اٹھ رہا ہے آنگن سے ہیں ابھی کچھ چراغ روشن سے اس میں شامل ہے بوئے افلاکی یہ ہوا آ رہی ہے کس بن سے دینے آیا ہوں فتح کا مژدہ بھاگ آیا نہیں ہوں میں رن سے منزلوں کی بھی آرزو ہے بہت ڈر بھی لگتا ہے مجھ کو رن بن سے اب بھی کیا رات کے اندھیرے میں شعلہ اٹھتا ہے گلشن تن سے سرخ رو ...

مزید پڑھیے

کرۂ ارض کو تاریک بنا دینا تھا

کرۂ ارض کو تاریک بنا دینا تھا ہجر کی شب میں ستاروں کو بجھا دینا تھا کتنی دہشت ہے مرے شہر میں سناٹے کی نخل آواز یہاں بھی تو لگا دینا تھا تو کہ موجود اگر مثل ہوا صحن میں تھا شجر جامد و ساکت کو ہلا دینا تھا پر سکوں کب سے مرے دل کا ہے صحرائے سکوت آ کے اس میں بھی کبھی حشر اٹھا دینا ...

مزید پڑھیے

سیاہ دشت کی جانب سفر دوبارہ کیا

سیاہ دشت کی جانب سفر دوبارہ کیا نہ جانے قاف کی پریوں نے کیا اشارہ کیا نہ تیز و تند ہوا سے ملی نجات مجھے نہ میں نے سلطنت خاک سے کنارہ کیا فلک کی سمت نگاہیں اٹھانے سے پہلے زمیں کے سارے مناظر کو پارہ پارہ کیا سیاہ بن میں چمکتا ہوں مثل دیدۂ شیر یہ کس نے ذرۂ آوارہ کو ستارہ کیا خمار ...

مزید پڑھیے

اک فلک اور ہی سر پر تو بنا سکتے ہیں

اک فلک اور ہی سر پر تو بنا سکتے ہیں کرۂ ارض کو بہتر تو بنا سکتے ہیں روح میں جس نے یہ دہشت سی مچا رکھی ہے اس کی تصویر گماں بھر تو بنا سکتے ہیں اشک سے خاک ہوئی تر یہی بس کافی ہے ایک بے جان سا پیکر تو بنا سکتے ہیں ہم اگر اہل نہیں پیڑ کے پھل کھانے کے شاخ سر سبز کو خنجر تو بنا سکتے ...

مزید پڑھیے

سانپ سا لیٹا ہوا سنسان رستہ سامنے تھا

سانپ سا لیٹا ہوا سنسان رستہ سامنے تھا خطرہ آغاز سفر میں ایک ایسا سامنے تھا دشت میں گھمسان کا وہ رن پڑا تھا کچھ نہ پوچھو دھوپ میری پشت پر تھی اور سایا سامنے تھا اب تو ان آنکھوں کے آگے آئینہ ہے اور میں ہوں ہائے مژگاں کھولنے سے پہلے کیا کیا سامنے تھا بزدل ایسے تھے بھگو پائے نہ ...

مزید پڑھیے

تمام روئے زمیں پر سکوت چھایا تھا

تمام روئے زمیں پر سکوت چھایا تھا نزول کیسی قیامت کا ہونے والا تھا یہاں تو آگ اگلتی ہے یہ زمیں ہر سو وہ ایک ابر کا پارہ کہاں پہ برسا تھا بس ایک بار ہوا تھا وجود کا احساس بس ایک بار دریچے سے اس نے جھانکا تھا ابھی ڈسا نہ گیا تھا یہ جسم تپتا ہوا ابھی خزینۂ مخفی پہ سانپ سویا تھا سفر ...

مزید پڑھیے

فانی کہاں ہے ہستئ فانی کا شور بھی

فانی کہاں ہے ہستئ فانی کا شور بھی شامل ہے اس میں نقل مکانی کا شور بھی حساس ہوں اور اس پہ وہ شدت کی پیاس ہے سنتا ہوں اب سراب میں پانی کا شور بھی ایسا سکوت تھا کہ سنائی دیا مجھے حرف تہی میں موج معانی کا شور بھی بے برگ و بار پیڑ سے رہتے ہیں دور دور رہگیر بھی ہوائے خزانی کا شور ...

مزید پڑھیے

پیدا کیا ہے اڑتی ہوئی خاک سے مجھے

پیدا کیا ہے اڑتی ہوئی خاک سے مجھے نسبت یہی ہے صرصر سفاک سے مجھے اب تو اسیر گردش لیل و نہار ہوں مدت ہوئی ہے اترے ہوئے چاک سے مجھے آئے گا کوئی کھولے گا بند قبائے حرف دے گا نجات کاغذی پوشاک سے مجھے دنیا ہے عشوہ ساز تو میں ہوں مکین ذات خطرہ نہیں ہے اس زن بے باک سے مجھے پر پھڑپھڑا ...

مزید پڑھیے

دیار جسم سے صحرائے جاں تک

دیار جسم سے صحرائے جاں تک اڑوں میں خاک سا آخر کہاں تک کچھ ایسا ہم کو کرنا چاہیئے اب اتر آئے زمیں پر آسماں تک بہت کم فاصلہ اب رہ گیا ہے بپھرتی آندھیوں سے بادباں تک میسر آگ ہے گل کی نہ بجلی اندھیرے میں پڑے ہیں آشیاں تک یہ جنگل ہے نہایت ہی پر اسرار قدم رکھتی نہیں اس میں خزاں ...

مزید پڑھیے

رنگوں سے ٹھنڈے پانی کے چشمے بنا دئے

رنگوں سے ٹھنڈے پانی کے چشمے بنا دئے کاغذ پہ سایہ دار شجر بھی لگا دئے لاؤں گا اب کہاں سے نظارے کی تاب میں اس نے تو میری آنکھ سے پردے ہٹا دئے باغ حروف و گلشن معنی میں دیکھنا کس نے یہ خامشی کے نئے گل کھلا دئے چھوٹے سے ابر پارے نے آ کے سر فلک اہل نظر کو دن ڈھلے پیغام کیا دئے بس ہم تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1812 سے 6203