قومی زبان

مدہوشیوں سے کام لیا ہے کبھی کبھی

مدہوشیوں سے کام لیا ہے کبھی کبھی ہاتھ ان کا ہم نے تھام لیا ہے کبھی کبھی مے کش بھلا سکیں گے نہ ساقی کا یہ کرم گرتوں کو اس نے تھام لیا ہے کبھی کبھی ساقی نے جو پلائی ہماری ہی تھی خرید ہم سے بھی اس نے دام لیا ہے کبھی کبھی کیا بات ہے کہ ترک تعلق کے باوجود ہم نے تمہارا نام لیا ہے کبھی ...

مزید پڑھیے

ایک صحرا ہے مری آنکھ میں حیرانی کا

ایک صحرا ہے مری آنکھ میں حیرانی کا میرے اندر تو مگر شور ہے طغیانی کا کوئی درویش خدا پرمست ابھی شہر میں ہے نقش باقی ہے ابھی دشت کی ویرانی کا سانس روکے ہے کھڑی در سے ترے دور ہوا خاک دل یہ ہے سبب تیری پریشانی کا ہم فقیروں کا توکل ہی تو سرمایہ ہے شکوہ کس منہ سے کریں بے سر و سامانی ...

مزید پڑھیے

چند حرفوں نے بہت شور مچا رکھا ہے

چند حرفوں نے بہت شور مچا رکھا ہے یعنی کاغذ پہ کوئی حشر اٹھا رکھا ہے مجھ کو تو اپنے سوا کچھ نظر آتا ہی نہیں میں نے دیواروں کو آئینہ بنا رکھا ہے آپ کے پاؤں تلے سے بھی کھسکتی ہے زمیں آپ نے کیوں یہ فلک سر پہ اٹھا رکھا ہے مصحف ذات کی تفسیر ہے یہ گہری چپ چپ ہی معنی ہے میاں حرف میں کیا ...

مزید پڑھیے

اے ہوائے دیار درد و ملال

اے ہوائے دیار درد و ملال مرحبا مرحبا تعال تعال لفظ گم سم ہیں اور ان میں ہے غم میری خاموشیوں کا جاہ و جلال عقل سے کسب روشنی کر کے ملک دل ہو گیا ہے رو بہ زوال تو بھی اس میں ہے تیری دنیا بھی کتنا گہرا ہے سوچ کا پاتال پکی سڑکوں پہ یاد آتا ہے کچے رستوں کا سبزۂ‌ پامال کس پہ اب ہے ...

مزید پڑھیے

بجھا چراغ ہواؤں کا سامنا کر کے

بجھا چراغ ہواؤں کا سامنا کر کے بہت اداس ہوا ہوں دریچہ وا کر کے سکوت ٹوٹ گیا اور روشنی سی ہوئی شرار سنگ سے نکلا خدا خدا کر کے کھلا نہ دن کو کسی اسم سے وہ آہنی در اب آؤ دیکھتے ہیں رات کو صدا کر کے اڑوں گا خاک سا پہلے پہل اور آخر کار ہوائے تند کو رکھ دوں گا میں صبا کر کے وہ جس کے ...

مزید پڑھیے

ہم کو اتنا ہی بس غنیمت ہے

ہم کو اتنا ہی بس غنیمت ہے نا سہی عشق پر عنایت ہے دل کو انکار ہے محبت سے اور اس کا سبب محبت ہے ہم بھلے جان ہار بیٹھے ہوں اس کو اک دوست کی ضرورت ہے کچھ نہیں ہے گلہ ہمیں اس سے زندگی سے بہت شکایت ہے اپنی خاطر ذرا نہیں فرصت اس کی خاطر بڑی فراغت ہے اس غزل میں فقط ہے ہجر و وصال اس میں ...

مزید پڑھیے

کھینچ لائی تھی مجھے خوشبو ہی تیرے پیرہن کی

کھینچ لائی تھی مجھے خوشبو ہی تیرے پیرہن کی پر تری آنکھوں میں ہے وحشت بھی آہوئے ختن کی عشق کی آتش کہاں بارود کے شعلے ہیں رقصاں اب کہاں وہ زلف اور وہ داستاں دار و رسن کی کیا ہوئے وہ دن کہ جب اکثر میسر تھی مجھے بھی دن کو ظلمت زلف کی اور دھوپ شب کو سیم تن کی آتش فرقت سے میں شب کو ...

مزید پڑھیے

میں ابھی اک بوند ہوں پہلے کرو دریا مجھے

میں ابھی اک بوند ہوں پہلے کرو دریا مجھے پھر اگر چاہو کرو وابستۂ صحرا مجھے پھیلتا ہی جا رہا تھا میں خموشی کی طرح قلزم آواز نے ہر سمت سے گھیرا مجھے میرے ہونے یا نہ ہونے سے اسے مطلب نہ تھا تیرے ہونے کا تماشا ہی لگی دنیا مجھے لوگ کہتے ہیں کسی منظر کا میں بھی رنگ تھا تو نے اے چشم فلک ...

مزید پڑھیے

عجیب خامشی ہے غل مچاتی رہتی ہے

عجیب خامشی ہے غل مچاتی رہتی ہے یہ آسمان ہی سر پر اٹھاتی رہتی ہے کیا ہے عشق تو ثابت قدم بھی رہنا سیکھ میاں یہ ہجر کی آفت تو آتی رہتی ہے یہ جو ہے آج خرابہ کبھی چمن تھا کیا یہاں تو ایک مگس بھنبھناتی رہتی ہے ڈرو نہیں یہ کوئی سانپ زیر کاہ نہیں ہوا ہے اور وہی سرسراتی رہتی ہے مرے ہی ...

مزید پڑھیے

سحر کیسا یہ نئی رت نے کیا دھرتی پر

سحر کیسا یہ نئی رت نے کیا دھرتی پر مدتوں بعد کوئی پھول کھلا دھرتی پر جانے اس کرۂ تاریک میں ہے نور کہاں جانے کس آنکھ میں ہے خواب ترا دھرتی پر آسمانوں سے خموشی بھی کبھی نازل کر روز کرتے ہو نیا حشر بپا دھرتی پر آسمانوں میں الجھتے ہو سیہ ابر سے کیوں آ فقیروں کی طرح خاک اڑا دھرتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1811 سے 6203