قومی زبان

شہر غزل میں بکنے کو تیار کون ہے

شہر غزل میں بکنے کو تیار کون ہے یوسف نہیں تو زینت بازار کون ہے سب کے لبوں پہ نعرۂ منصور ہے مگر یہ دیکھنا ہے آج سر دار کون ہے اپنا ضمیر جھوٹ کبھی بولتا نہیں تم ہی کہو کہ صاحب کردار کون ہے ترک تعلقات کو اک عمر ہو گئی تنہائیوں میں مائل گفتار کون ہے تصویریں روز بنتی ہیں شعروں کی ...

مزید پڑھیے

ایک دھوکہ ہے دل کشی کیا ہے

ایک دھوکہ ہے دل کشی کیا ہے ہم سمجھتے ہیں دوستی کیا ہے آنسوؤں کی ہو اور عمر دراز چاند تاروں کی روشنی کیا ہے حسن کی اک نگاہ جاں پرور عشق کی اور زندگی کیا ہے ہم نے دیکھا ہے بھیگی پلکوں کو آپ کیا جانیں تشنگی کیا ہے روٹھنا اک ادا تو ہے لیکن یہ ہمیشہ کی برہمی کیا ہے دل کو نسبت ہے ان ...

مزید پڑھیے

تنہائیاں جو راس نہ آئیں تو کیا کریں

تنہائیاں جو راس نہ آئیں تو کیا کریں زخموں کی انجمن نہ سجائیں تو کیا کریں اس دور کشمکش میں محبت کا نام بھی دانستہ لوگ بھول نہ جائیں تو کیا کریں اک آسرا تو چاہئے جینے کے واسطے حالات کا فریب نہ کھائیں تو کیا کریں دل بھی یہاں بہت ہیں سوالات بھی بہت لیکن کوئی جواب نہ پائیں تو کیا ...

مزید پڑھیے

ہمیں تو ایک ہی چہرہ دکھائی دیتا ہے

ہمیں تو ایک ہی چہرہ دکھائی دیتا ہے جسے بھی دیکھیے اپنا دکھائی دیتا ہے یہ کس نے ایسے اجالوں کی آرزو کی تھی ہر ایک گھر یہاں جلتا دکھائی دیتا ہے نئی سحر نے اجالے جنم دئے ہیں مگر یہ خواب پھر بھی ادھورا دکھائی دیتا ہے یہاں جو بانٹتا پھرتا ہے تشنگی کا بھرم مجھے تو خود بھی وہ پیاسا ...

مزید پڑھیے

حصار ذات سے باہر نہ اپنے گھر میں ہیں

حصار ذات سے باہر نہ اپنے گھر میں ہیں ہم اس زمیں کی طرح مستقل سفر میں ہیں بھٹک رہے ہیں اندھیرے مسافروں کی طرح اجالے محو‌ سکوں دامن سحر میں ہیں جنہیں خبر ہی نہیں شرح زندگی کیا ہے وہ مجرموں کی طرح قید اپنے گھر میں ہیں تو اعتبار شب انتظار ہے جاناں ترے فراق کے موسم مری نظر میں ...

مزید پڑھیے

اداس شام کی تنہائیوں میں جلتا ہوا

اداس شام کی تنہائیوں میں جلتا ہوا وہ کاش آئے کبھی میرے پاس چلتا ہوا شب فراق نے مسمار سارے خواب کیے کوئی تو مژدہ سنائے یہ دن نکلتا ہوا ہے کیا عجب کہ کبھی چاند بھی اندھیروں میں سکوں تلاش کرے زاویے بدلتا ہوا مرے مسیحا خدا آج تیرا رکھے بھرم نظر مجھے نہیں آتا یہ جی بہلتا ہوا میں ...

مزید پڑھیے

یہ بات منکشف ہوئی چراغ کے بغیر بھی

یہ بات منکشف ہوئی چراغ کے بغیر بھی میں ڈھونڈ لوں گا ہر خوشی چراغ کے بغیر بھی ہوا تھا جس جگہ کبھی وصال یار دوستو ہے اس جگہ پہ روشنی چراغ کے بغیر بھی لکھی گئی ہیں جس کے ساتھ زندگی کی منزلیں وہ آ ملے گا آدمی چراغ کے بغیر بھی مسرتوں کے قافلے لٹا رہی ہے پھر مجھے تری یہ خود سپردگی ...

مزید پڑھیے

دستک

حالات کے کالے بادل نے مرے چھت کے چاند کو گھیر لیا تدبیر ہو ممکن خاک کوئی کہ باہر رقصاں تاریکی اور اندر پھیلی تنہائی دروازے پر دستک دے کر آلام کی وحشت ہنستی ہے اور سرگوشی میں کہتی ہے کہ اب کیسے بچ پاؤ گے میری تشنہ بے باکی سے کس سے باتیں کر کے مجھ کو اب تم دھوکے میں رکھوگے

مزید پڑھیے

وصالیہ

دھرتی سلگ رہی تھی آکاش جل رہا تھا بے رنگ تھیں فضائیں موسم بدل رہا تھا خوشبو مرے بدن کو گلزار کر رہی تھی وہ کیف بے خودی میں کلیاں مسل رہا تھا کروٹ بدل رہے تھے ارمان میرے دل کے جب چاندنی کا منظر دریا میں ڈھل رہا تھا جلووں کا رقص میں نے مستانہ وار دیکھا بنت عنب کا جانے دل کیوں مچل رہا ...

مزید پڑھیے

ہم کہاں اور دل خراب کہاں

ہم کہاں اور دل خراب کہاں اے شب غم ترا جواب کہاں زندگی کے شعور سے بڑھ کر زندگی میں کوئی عذاب کہاں کوئی چہرہ ہو غور سے پڑھیے اس سے جامع کوئی کتاب کہاں درد و غم کی اداس آنکھوں میں آرزو کے حسین خواب کہاں آؤ اپنی سحر سے پوچھ تو لیں چھوڑ آئی ہے آفتاب کہاں روح جب ہو گئی ہے خود ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1796 سے 6203