قومی زبان

نیند آنکھوں میں جو آتی تو جگانے لگتے

نیند آنکھوں میں جو آتی تو جگانے لگتے خواب بچوں کی طرح شور مچانے لگتے رات کو گھر نہیں آتا تو مرے گھر والے صبح کے وقت مری خیر منانے لگتے تیرے آ جانے سے پھر آ گئی زخموں پہ بہار تو نہیں آتا تو سب زخم پرانے لگتے وہ ہمیں ڈھونڈھ کے اک رات میں گھر لے آیا ہم اسے ڈھونڈنے جاتے تو زمانے ...

مزید پڑھیے

جو دیکھے تھے وہ سارے خواب رخصت ہو گئے ہیں

جو دیکھے تھے وہ سارے خواب رخصت ہو گئے ہیں ہمارے سب ادب آداب رخصت ہو گئے ہیں یہ دنیا جس گھرانے کے سبب تو نے بنائی تری دنیا سے وہ بے آب رخصت ہو گئے ہیں نگہباں تھے جو ساحل پر ہماری کشتیوں کے وہ سب کے سب سر گرداب رخصت ہو گئے ہیں پڑا ہے جب قبیلے پر ہمارے وقت کوئی ہمارے معتبر احباب ...

مزید پڑھیے

ببلو کا گیت اسکول جانے سے پہلے

اپنے بڑھتے ہوئے بالوں کو کٹا لوں تو چلوں غسل خانے میں ذرا دھوم مچا لوں تو چلوں اور ایک کیک مزے دار سا کھا لوں تو چلوں ابھی چلتا ہوں ذرا پیاس بجھا لوں تو چلوں رات میں اک بڑا دلچسپ تماشا دیکھا مجھ سے مت پوچھ مرے یار کہ کیا کیا دیکھا ٹھیک کہتے ہو مدھر سا کوئی سپنا دیکھا آنکھ تو مل لوں ...

مزید پڑھیے

موم کی طرح پگھل کر دیکھو

موم کی طرح پگھل کر دیکھو پھر کڑی دھوپ کا منظر دیکھو کرب ہی کرب ہے سناٹے کا جھانک کر تم مرے اندر دیکھو نیند ان پلکوں سے کترائے گی آگ ہے وقت کا بستر دیکھو آ گئے ہو تو مرے شہر میں بھی آدمی نام کا خنجر دیکھو کوئی شیشوں کا مسیحا ہی نہیں دور تک دیکھو تو پتھر دیکھو سلسلہ موجوں کا ...

مزید پڑھیے

میرے سر کے واسطے ایسی سزا رکھتا ہے کون

میرے سر کے واسطے ایسی سزا رکھتا ہے کون آستینوں میں کہیں خنجر چھپا رکھتا ہے کون سبز شاخوں پر سنہرے پھول سے کھلنے لگے لب بہ لب موسم اثر ایسی دعا رکھتا ہے کون یہ جو میری ذات میں بیٹھا ہوا ہے میں نہیں مجھ کو میرے روبرو مجھ سے جدا رکھتا ہے کون جو بھی ہے میرا عمل وہ بھی عمل میرا ...

مزید پڑھیے

کتنا پوشیدہ ہواؤں کا سفر رکھا گیا

کتنا پوشیدہ ہواؤں کا سفر رکھا گیا آنے والے موسموں سے بے خبر رکھا گیا آج بھی پھرتا ہوں اس کی جستجو میں ہر طرف کون سی بستی میں آخر میرا گھر رکھا گیا چند مبہم خواب آنکھوں میں لیے پھرتا ہوں میں اور کیا میرے لیے زاد سفر رکھا گیا دوستوں میں کچھ مری پہچان تو باقی رہے اس لیے مجھ میں ...

مزید پڑھیے

مناظر میں نیا اک حسن عیاں ہوتا

مناظر میں نیا اک حسن عیاں ہوتا فسردہ پا سے لمحوں کا بیاں ہوتا مگر ہوتے نہ جو اک یاد کے جگنو اثاثہ ہست شب کا کیا یہاں ہوتا لہو ٹھہرے متاع ہست صد اطوار لہو سے یوں بھی روشن تر جہاں ہوتا کسے بتلائیں ایسی تازہ سی خواہش تسلسل سے دکھوں ہی کا سماں ہوتا ادھر اکتاہٹیں ہیں نو بہ نو ...

مزید پڑھیے

اک بے کراں سکوت ہے اب شامل حیات

اک بے کراں سکوت ہے اب شامل حیات اف کس جگہ پہ ٹھہر گئی نبض کائنات دکھ ہے نہ مستیاں ہیں نہ آوارگی کوئی اللہ رے قیامت پژمردگیٔ ذات نشہ تھا زندگی تھی طبیعت جوان تھی اب غم نہیں جو تیرا تو بے رنگ ہے حیات میرے جنوں کو آپ سخن گستری کہیں پنہاں ہیں ایک لفظ میں کتنے ہی تجربات آؤ رفیقؔ ...

مزید پڑھیے

کوئی رستے ہوئے زخموں کی دوا بن جائے

کوئی رستے ہوئے زخموں کی دوا بن جائے کوئی بیمار محبت کا خدا بن جائے کوئی بے سود امیدوں کا سہارا ہووے کوئی بہتے ہوئے اشکوں کی ردا بن جائے کوئی پہنچے مری تسکین کا ساماں بن کر کوئی تڑپی ہوئی آہوں کی صدا بن جائے کوئی ہمدرد اٹھے مونس و غم خوار بنے میرے حق میں کوئی پھر دست دعا بن ...

مزید پڑھیے

لمحے بے چینی کے تو نے بھی گزارے ہوں گے

لمحے بے چینی کے تو نے بھی گزارے ہوں گے تیری آنکھوں میں مرے بھی تو نظارے ہوں گے میری نادار محبت کی شکایت تو نہ کر تیری نخوت نے کبھی ہاتھ پسارے ہوں گے بے خودی جانے کہاں مجھ کو لئے پھرتی ہے کسی بے نام سی منزل کے اشارے ہوں گے کبھی غرقاب ہوا تھا جو سفینہ میرا جانتا تھا کہ بہت دور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1783 سے 6203