قومی زبان

آپ جس سے کلام کرتے ہیں

آپ جس سے کلام کرتے ہیں نیند اس کی حرام کرتے ہیں آستیں میں چھپائے ہیں خنجر منہ سے وہ رام رام کرتے ہیں عشق کا روگ ان کے بس کا نہیں دور سے وہ سلام کرتے ہیں دل سے مجبور تیرے دیوانے اک جگہ کب قیام کرتے ہیں دست و بازو کے دور میں تو رئیسؔ کام سے لوگ نام کرتے ہیں

مزید پڑھیے

ہم زباں ہو گئے ہم لوگ شناسائی ہوئی

ہم زباں ہو گئے ہم لوگ شناسائی ہوئی شب کے سناٹوں میں جب روبرو تنہائی ہوئی آپ کا بزم سے اٹھ جانا مرے حق میں رہا آپ کے بعد مری خوب پذیرائی ہوئی پیاس زخمی رہی زندان کے دروازوں تک بہتے دریاؤ کہاں تم سے مسیحائی ہوئی پہلے کچھ ابر کے ٹکڑوں سا تھا لرزاں اس پر بعد میں کیا ہوا کیوں شکل ...

مزید پڑھیے

محبت یہ بتا کیا سلسلہ ہے

محبت یہ بتا کیا سلسلہ ہے یہ منزل ہے کہ میرا راستہ ہے اب اس کا نام دل سے کیا مٹانا جو ہم نے لکھ دیا ہے لکھ دیا ہے در دل پر صدائیں دینے والے چلا بھی آ کہ دروازہ کھلا ہے میں اپنے آپ میں گم ہو گیا ہوں تری آواز کا جادو بھی کیا ہے یہ کہتی ہے ترے ہونٹوں کی جنبش کہ ان سے اور کوئی بولتا ...

مزید پڑھیے

سینے میں اک شور مچا ہے

سینے میں اک شور مچا ہے سناٹا کتنا گہرا ہے آج بہت کم پھول کھلے ہیں شاید موسم بدل رہا ہے صحرا سے باہر نکلوں تو ہر رستہ گھر کا رستہ ہے وہ کیا بچھڑا میں نے سب سے ملنا جلنا چھوڑ دیا ہے گھر کے اندر حبس ہے کتنا باہر کتنی تیز ہوا ہے سڑکوں پر اک بھیڑ ہے خاورؔ سارا شہر مگر تنہا ہے

مزید پڑھیے

وہ اپنے عشق میں کیسا کمال رکھتا ہے

وہ اپنے عشق میں کیسا کمال رکھتا ہے کہ بے رخی میں بھی میرا خیال رکھتا ہے جو آج میرا نہیں ہے وہ کل مرا ہوگا کہ ہر زمانہ عروج و زوال رکھتا ہے عجب نہیں وہ جہاں بھر کو بے وفا سمجھے نظر میں میری وفا کی مثال رکھتا ہے کہاں تلک کوئی دست کرم کو زحمت دے تمام شہر ہی دست سوال رکھتا ہے مری ...

مزید پڑھیے

رہین حسرت و حرمان و یاس بیٹھے ہیں

رہین حسرت و حرمان و یاس بیٹھے ہیں وہ شادماں ہیں مگر ہم اداس بیٹھے ہیں کریں تو کیسے یقیں ہم کریں وفا پہ تری رقیب اب بھی ترے آس پاس بیٹھے ہیں وہ ایک تو کہ خود اپنی خطا پہ روٹھ گیا پر ایک ہم کہ سراپا سپاس بیٹھے ہیں کسی کا جام رہے ہیں کسی کا مے خانہ ہم ایک عمر سے خود بن کے پیاس بیٹھے ...

مزید پڑھیے

وہ رنجشیں وہ مراسم کا سلسلہ ہی نہیں

وہ رنجشیں وہ مراسم کا سلسلہ ہی نہیں یہاں کسی میں وہ پہلا سا رابطہ ہی نہیں میں خوشبوؤں کے تعاقب میں آ گیا ہوں وہاں جہاں سے لوٹ کے جانے کا راستا ہی نہیں یہ خود سری یا شرارت اسی کا حصہ ہے وہ کوئی کھیل محبت میں ہارتا ہی نہیں یہ اعتراف بھی گھبرا کے کر لیا میں نے میں چاہتا ہوں تجھے ...

مزید پڑھیے

بیتے ہوئے لمحوں کو سوچا تو بہت رویا

بیتے ہوئے لمحوں کو سوچا تو بہت رویا جب میں تری بستی سے گزرا تو بہت رویا پتھر جسے کہتے تھے سب لوگ زمانے میں کل رات نہ جانے کیوں رویا تو بہت رویا بچپن کا زمانہ بھی کیا خوب زمانہ تھا مٹی کا کھلونا بھی کھویا تو بہت رویا جو جنگ کے میداں کو اک کھیل سمجھتا تھا ہارے ہوئے لشکر کو دیکھا ...

مزید پڑھیے

کوئی درخت کوئی سائباں رہے نہ رہے

کوئی درخت کوئی سائباں رہے نہ رہے بزرگ زندہ رہیں آسماں رہے نہ رہے کوئی تو دے گا صدا حرف حق کی دنیا میں ہمارے منہ میں ہماری زباں رہے نہ رہے ہمیں تو پڑھنا ہے میدان جنگ میں بھی نماز مؤذنوں کے لبوں پر اذاں رہے نہ رہے ہمیں تو لڑنا ہے دنیا میں ظالموں کے خلاف قلم رہے کوئی تیر و کماں رہے ...

مزید پڑھیے

ایک مدت سے تجھے دل میں بسا رکھا ہے (ردیف .. ن)

ایک مدت سے تجھے دل میں بسا رکھا ہے میں تجھے یاد دہانی سے الگ رکھتا ہوں وہ سنے گا تو چھلک اٹھیں گی آنکھیں اس کی اس لیے خود کو کہانی سے الگ رکھتا ہوں وہ جو بچپن میں ترے ساتھ پڑھا کرتا تھا ان کتابوں کو نشانی سے الگ رکھتا ہوں تذکرہ اس کا غزل میں نہیں کرتا ہوں رئیسؔ میں اسے لفظ و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1782 سے 6203