قومی زبان

عشق کرنے کا ارادہ ہو تو ہم سے ملنا

عشق کرنے کا ارادہ ہو تو ہم سے ملنا تم کو خود سے کبھی ملنا ہو تو ہم سے ملنا قابل دید ہیں سب زخم ہمارے دل کے آپ کو شوق تماشا ہو تو ہم سے ملنا سایۂ گل میں ملاقات رہے گی تم سے موسم گل میں جو تنہا ہو تو ہم سے ملنا بے سبب ہم بھی کسی سے نہیں ملتے صاحب تم بھی ملنے کی تمنا ہو تو ہم سے ...

مزید پڑھیے

شکایتیں نہ زمیں سے نہ آسمان سے ہیں

شکایتیں نہ زمیں سے نہ آسمان سے ہیں کہ ایک عمر سے ہم لوگ بے زبان سے ہیں نہ ہو جو شہر کی مانند بود و باش نہیں یہی بہت ہے کہ صحرا میں ہم امان سے ہیں مری طرح ہدف عہد بے یقینی ہیں خود اپنے آپ سے جو لوگ بد گمان سے ہیں عجیب ہیں ترے کوچے میں بسنے والے بھی زمیں پہ رہتے ہیں وابستہ آسمان سے ...

مزید پڑھیے

غموں سے ہجر کے کچھ ایسے بد حواس رہے

غموں سے ہجر کے کچھ ایسے بد حواس رہے وہ مل گئے بھی تو ہم دیر تک اداس رہے یہ انجمن تو ستم کو ستم ہی سمجھے گی ترا کرم کہ ہمیں ہم ادا شناس رہے وہ چاک دامنئ گل کا راز کیا جانیں بھری بہار میں جو خار بے لباس رہے جنوں ہے ایک جسارت جنوں ہے ایک ترنگ خرد نہیں کہ اسیر امید و یاس رہے نہ ٹوٹنا ...

مزید پڑھیے

وہ لمحہ میرے لیے کس قدر عذاب کا تھا

وہ لمحہ میرے لیے کس قدر عذاب کا تھا حقیقتوں پہ گماں جب خیال و خواب کا تھا تمام عمر ہم اپنی انا میں مست رہے وہ نشہ سب سے الگ تھا جو اس شراب میں تھا کہاں گئے مرے موسم وہ آرزوؤں کے کہاں گیا جو زمانہ مرے شباب کا تھا مٹا دئے تھے سبھی حرف غم کی بارش نے عجیب حال مری زیست کی کتاب کا ...

مزید پڑھیے

کیا کیا گماں نہ تھے مجھے اپنی اڑان پر

کیا کیا گماں نہ تھے مجھے اپنی اڑان پر بازو جو شل ہوئے تو گرا ہوں چٹان پر خودداریوں سے کون یہ پوچھے کہ آج تک کتنے عذاب ہم نے لئے اپنی جان پر اب کے نہ جانے رت کو نظر کس کی کھا گئی اک بار بھی پڑی نہ دھنک آسمان پر کشتی میں سو گئے جو انہیں یہ خبر کہاں کتنا ہے آج زور ہوا بادبان پر خوش ...

مزید پڑھیے

شام گزری ہے ابھی غم کی سحر باقی ہے

شام گزری ہے ابھی غم کی سحر باقی ہے اک سفر ختم ہوا ایک سفر باقی ہے کس طرح گھر میں کہوں اپنے شکستہ گھر کو کوئی دیوار سلامت ہے نہ در باقی ہے زرد آتا ہے نظر خوف خزاں سے وہ بھی ایک پتا جو سر شاخ شجر باقی ہے اب جلائیں بھی دوبارہ تو وہ شاید نہ جلیں جن چراغوں پہ ہواؤں کا اثر باقی ہے کیوں ...

مزید پڑھیے

پاس سے یوں آنچل لہراتے لوگ گزرتے رہتے ہیں

پاس سے یوں آنچل لہراتے لوگ گزرتے رہتے ہیں میرے بدن میں قوس قزح کے رنگ اترتے رہتے ہیں اپنے اندر چھپے ہوئے دشمن کا ہے احساس جنہیں میری طرح وہ لوگ بھی اپنے آپ سے ڈرتے رہتے ہیں ہم نے دیکھنا چھوڑ دئے ہیں اک مدت سے ایسے خواب تعبیروں کی چاہت میں جو خواب کہ مرتے رہتے ہیں راہ میں چاہے ...

مزید پڑھیے

تمام پھول سے چہروں کی سرخیاں اڑ جائیں

تمام پھول سے چہروں کی سرخیاں اڑ جائیں اگر چمن سے یہ خوش رنگ تتلیاں اڑ جائیں وہ بے وفا بھی ہے مغرور بھی ہے پتھر بھی اسے تراشنے بیٹھوں تو چھینیاں اڑ جائیں یہ حوصلہ ہے ہمارا کہ اب بھی روشن ہیں ہوا کی زد پہ رہو تم تو ٹوپیاں اڑ جائیں بھرا ہوا ہے وہ بارود میرے سینے میں اگر کوئی مجھے ...

مزید پڑھیے

اس بت سے جو ملنے کی تدبیر نظر آئی

اس بت سے جو ملنے کی تدبیر نظر آئی بنتی ہوئی کچھ اپنی تقدیر نظر آئی چھپ چھپ کے زمانے سے کیوں اشک روانی ہے شاید کہ محبت میں تاثیر نظر آئی جینے کا مزہ کیا ہے جب موت ہی روٹھی ہو جس سمت قدم اٹھے زنجیر نظر آئی جب عالم وحشت میں اپنے کو بھلا بیٹھا انجام محبت کی تقصیر نظر آئی پیمانہ و ...

مزید پڑھیے

یوں بھی گزری ہیں مری شام و سحر پانی میں

یوں بھی گزری ہیں مری شام و سحر پانی میں اشک بن بن کے بہا خون جگر پانی میں کیا ڈرائیں گے یہ آفات زمانہ ہم کو ہم بنا لیتے ہیں جب راہ سفر پانی میں سخت سے سخت بھی پتھر نہ رہا پھر پتھر اکثر آیا ہے نظر ایسا اثر پانی میں تم اسی طور مرے دل میں رہا کرتے ہو جس طرح رہتا ہے پوشیدہ گہر پانی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1781 سے 6203