قومی زبان

ایک گیت کئی کھیل

آئے بادل چلی ہوا جاگے پھول سجیں بیلیں آج ہماری چھٹی ہے چھٹی کے دن کیا کھیلیں ہرا سمندر گوپی چندر بول میری مچھلی کتنا پانی اپنے دل میں اتنی ہمت بیچ سمندر جتنا پانی کوڑا جمال شاہی پیچھے دیکھا مار کھائی ہنستے بستے ہنسی خوشی کھیلیں بہنیں کھیلیں بھائی کھیل بھی ہے یہ ورزش بھی کھیلے ...

مزید پڑھیے

قاتل

آج بھی اس کے دونوں ہاتھ لرز رہے تھے اور ہر انگلی کے سرے پر ایک ستارہ چمک رہا تھا

مزید پڑھیے

نئے شہروں کی بنیاد

ان کی بارگاہ میں جنگل کے شیر جاروب کشی کرتے ہیں موت نے ان سے وعدہ کیا تھا آگ نہیں جلائے گی ساتویں نسل تک لیکن میں ہوں آٹھویں نسل میں میں نے ان کی سفید خوشبو کو محسوس کیا ہے ان کی دستار کا ایک سرا مشرق میں گم ہے ایک سرا ایک اور مشرق میں گم ہے وہ سورج کے آگے آگے قبا پہن کر چلتے ...

مزید پڑھیے

شہر نے کہا گاؤں نے کہا

شہر ہنسا اور ہنستے ہنستے گاؤں سے بولا سنو سنو اونچے ہیں مینار مرے بڑے بڑے بازار مرے کاریں سب چمکیلی ہیں بسیں بھی نیلی پیلی ہیں مل بھی ہیں مشہور بہت محنت کش مزدور بہت گاؤں ہنسا اور ہنستے ہنستے شہر سے بولا سنو سنو فصلیں میری ہری ہری گیہوں کی بالیں بھری بھری لوگ جو سیدھے سادے ...

مزید پڑھیے

کلفٹن کی سیر-۱

کھیلوں کی دنیا کھیلوں کی بستی اپنا کلفٹن میلوں کی بستی شیر پہ بیٹھو ڈرو نہیں بلی کی پروا کرو نہیں بطخ بھی ہے تیرے گی لہروں لہروں پیرے گی راکٹ ہے پرواز کرو کشتی بھی ہے تیز بہو اور ادھر تو آؤ ذرا اپنا ہنر دکھلاؤ ذرا کس کا نشانہ سچا ہے کون شکاری اچھا ہے دیکھو منظر کھیلوں کا یہ سمندر ...

مزید پڑھیے

ہم سورج چاند ستارے

ہم سورج چاند ستارے ہیں یہ دن رات ہمارے سورج نے کہا ہے ہم سے ہم سب کو بچائیں غم سے دنیا میں ہمارے دم سے بہیں روشنیوں کے دھارے کوئی چاند کہے کوئی چندا یہ دل ہے پیار کا بندہ ہے پیار ہی اپنا دھندا ہمیں سب لگتے ہیں پیارے کریں ہم جو پڑھائی جم کے یوں نام ہمارا چمکے جس طرح ستارا دمکے یہی ...

مزید پڑھیے

کالی ریت

مٹیالی راتوں کا پانی کالے بستروں پر بہتا ہے تم نے سمندر کے کنارے بستروں کا خواب دیکھا اور اپنے فیصلے میں ظاہر ہو گئیں پھر وہ بندر گاہ خالی ہو گئی جس پر دو شاخیں لہراتی ہیں اور ایک پتھر چمکتا ہے میں ان بارشوں کو تھمتا ہوا دیکھتا ہوں جن کی برہنگی میں ہم سمندروں تک جاتے تھے اور ...

مزید پڑھیے

سانپ والی

بانہوں میں سانپ لپیٹے جب تو مجھ سے ملتی ہے تیری سانس میں ایک نہ ایک زہر کی لہر کم ہوتی ہے سن ری سجنی جنم جنم سے ایک شریر آدھا تیرا آدھا میرا تو مر جائے تو سارا میرا

مزید پڑھیے

چپکے سے

کل رات کہانی پریوں کی باجی نے سنائی چپکے سے پھر دھیرے دھیرے ہوا چلی اور نندیا آئی چپکے سے ہلکے تھے کہیں گہرے تھے کہیں رنگوں کی وہ بارش دیکھی تھی تھیں جس میں بہت سی تصویریں ہم نے وہ نمائش دیکھی تھی پھر سب سے چھپا کے ہم نے بھی تصویر بنائی چپکے سے فرصت جو ملی تو ہم یوں ہی کچھ وقت ...

مزید پڑھیے

چڑیا گھر

چڑیا گھر میں بسنے والی کیسا مزاج عالی ہے منو بھیا پوچھ رہے ہیں کیا کوئی پنجرہ خالی ہے دوڑ میں سب سے اول چیتا جنگل کی ہر ریس میں جیتا جلدی جلدی بول رے ساتھی کچا پپیتا پکا پپیتا جنگل کے سلطان کو دیکھو شیر ببر کی شان کو دیکھو ایسا بہادر کوئی نہیں ہے دل والے مہمان کو دیکھو بھاگ رہا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1772 سے 6203