قومی زبان

سچائی

میرے ایک ہاتھ پر مہتاب اور ایک ہاتھ پر خورشید رکھ دو پھر بھی میں وہ بات دہراؤں گا جو سچ ہے یہ سچائی جو نازک بیل کی مانند حسن و خیر کی خوشبو لئے لمحے سے لمحے کی طرف چلتی رہی اور مرے باغ تک پہنچی سو جب میں مامتا کی کانپتی باہوں میں خوابیدہ تھا میرے باپ نے مجھ کو جگایا اور کہا لا الہٰ ...

مزید پڑھیے

اسفنج کی اندھی سیڑھیوں پر

مجھے اس جنریٹر کی تلاش ہے جو سیاروں کو بجلی سپلائی کرتا ہے اور جس کے کرنٹ سے میرے سیل روشن ہوتے ہیں میں نے ایک آدمی کے ماتھے پر غرور سجادگی کے گلاب دیکھے وہاں چھوٹی اینٹوں کی دیوار پر اسم سیادت چمکتا ہے پھر ہوا نے ٹین کی چادریں گردنوں پر پھینکیں مائیں نیند سے لڑنے لگیں باپ آنگن ...

مزید پڑھیے

کلفٹن کی سیر

ذرا ہٹ کے چلو ذرا بچ کے چلو ہم ڈاجنگ کار میں آتے ہیں آتے جاتے ٹکراتے ہیں کوئی پاس آیا تو سنبھل گئے اک ڈاج دیا اور نکل گئے کبھی آگے آ کے ڈاج دیا کبھی پیچھے جا کے ڈاج دیا کوئی دائیں مڑ کے ٹھہر گیا گھبرائے تو پھر بھی خوشی ہوئی ٹکرائے تو پھر بھی خوشی ہوئی

مزید پڑھیے

آپ کیسے ہنستے ہیں

کوئی ایسے ہنسے ہنسنے والے کی مرضی ہے جیسے ہنسے کوئی ہنسے تو گھنگھرو باجیں کوئی ہنسے تو ڈھول ایک ہنسی ہے سیدھی سادھی ایک ہنسی میں جھول ہنسنے والے ایسے بھی ہیں جو بے بات ہنسیں ایسے لوگ بھی دیکھے سب ہی جن کے ساتھ ہنسیں وہ بھی ہیں جو ہنستے ہنستے ہاتھوں کو لہرائیں وہ بھی ہیں جو ہنستے ...

مزید پڑھیے

سگ ہم سفر اور میں

سگ ہم سفر اور میں وہاں آ گئے ہیں جہاں ختم ہے کائنات یہاں سے نشیب زمان و مکاں کا اگر جائزہ لیں تو لگتا ہے جیسے دھندلکوں کے اس پار جو کچھ بھی ہے ٹھیک ہے حسب معمول ہے مرا نام شینانڈورا ہے میں کتنی صدیوں سے اس بحر ذخار میں خیمہ زن تھا جو مواج سمت دگر میں رہا ایک دن دفع آسیب و رفع بلا ...

مزید پڑھیے

دل کے زخموں کو ہرا کرتے ہیں

دل کے زخموں کو ہرا کرتے ہیں کیوں تجھے یاد کیا کرتے ہیں ان اندھیروں کو حقارت سے نہ دیکھ یہ چراغوں کا بھلا کرتے ہیں ساری باتیں نہیں مانی جاتیں بچے تو ضد ہی کیا کرتے ہیں اتنا سوچا ہے ترے بارے میں اب ترے حق میں دعا کرتے ہیں پارسا دنیا میں کوئی بھی نہیں آدمی سارے خطا کرتے ہیں اب ...

مزید پڑھیے

کھونے کی بات اور نہ پانے کی بات ہے

کھونے کی بات اور نہ پانے کی بات ہے بس زندگی کا ساتھ نبھانے کی بات ہے نفرت کی آندھیوں سے نہ حل ہوگا مسئلہ جو آگ لگ چکی ہے بجھانے کی بات ہے اس کا حقیقتوں سے نہیں کوئی واسطہ سچ بات اب تو صرف فسانے کی بات تم مسکرا بھی سکتے نہیں کیا مرے لیے یہ تو کسی کے کام نہ آنے کی بات ہے ہم نے خیال ...

مزید پڑھیے

شاید گلاب شاید کبوتر

پھر کیا ہوا پھر یوں ہوا کہ اس کی ایک آنکھ سے چمگادڑ نے چھلانگ لگائی اور ایک آنکھ سے پھڑپھڑاتا ہوا خار پشت نکلا پھر جو وہ ایک دوسرے پر جھپٹے ہیں تو ایسے جھپٹے کہ منڈیریں کبوتروں سے اور کیاریاں گلابوں سے بھر گئیں اس دن کے بعد ہم نے مداری کو کبھی نہیں دیکھا اچھا اب تم میرے لیے پان ...

مزید پڑھیے

امپوسٹر

کمرے میں بلب آنگن میں اندھیرا آنگن میں بلب کمرے میں اندھیرا تو پھر اس نقطۂ نہفتہ کا تعین کہ جس نقطۂ نہفتہ سے اندرون بھی روشن بیرون بھی روشن ایسی کوئی جگہ ہوگی تو سہی پر مجھے اس کا علم نہیں علم نہیں تو جستجو جستجوئے نقطۂ نہفتہ

مزید پڑھیے

ڈاکٹر فانچو

کسی روز میں شہر کے پاگلوں کو ڈنر پر بلاؤں گا ان سے کہوں گا کہ اے دوستو، دشمنوں، مہربانو، کمینو یہ مانا کہ تم کہکشاں کے جراثیم ہو اور سب راستے روم ہی کو گئے ہیں مگر اب اٹالی سے آتی ہوئی اک سڑک کے سپاہی کی سیٹی سنو جو کہتی ہے تم مر چکے ہو نہیں تو میں چلتی ہوئی کار سے کود کر اپنے بتیس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1771 سے 6203