خودکشی
رحیم اللہ ہوا اچھا تو اس نے یہ دیکھا ہو چکی ہے ''پارٹیشن'' گئے کچھ بھاگ اور کچھ مر چکے ہیں نہ نیتا سنگھ باقی ہے نہ بھیشن سنے اس داستاں کے جب فسانے تو غصے نے بنایا اس کو مجنوں تڑپ اٹھا کہ لے کیسے وہ بدلہ پیے ان کافروں کا کس طرح خوں نہ کیوں کہلا سکا وہ مرد غازی نہ جب یہ مل سکا وہ خوب ...