قومی زبان

ثمر سے پوچھ لو ذوق تراش کیسا ہے

ثمر سے پوچھ لو ذوق تراش کیسا ہے وہ دل جو تم نے کیا قاش قاش کیسا ہے کوئی تو ثقل گرا ہوگا بحر ساکت میں وگرنہ پھر یہ دلی ارتعاش کیسا ہے نہ تعزیت کی ضرورت نہ فکر غمزدگاں حنوط جس نے بھی کی اپنی لاش کیسا ہے نقوش مسلک و منہاج ہی بتائیں گے وہ خوش مزاج ہے یا بد قماش کیسا ہے حواس باختہ جس ...

مزید پڑھیے

متاع و مال ہوس حب آل سامنے ہے

متاع و مال ہوس حب آل سامنے ہے شکار خود کو بچا دیکھ جال سامنے ہے خیال کہنہ مقید ہے تیری سوچوں میں رہائی دے کہ سزا یرغمال سامنے ہے مجھے ملال ہے اپنی فلک نشینی پر یہی عروج کی حد پھر زوال سامنے ہے رگوں میں خون کے بدلے مچل رہی ہے آگ زیاں بدن کا نہ جاں کا وبال سامنے ہے یہی ہے کعبۂ ...

مزید پڑھیے

یاس و ہراس و جور و جفا سے الگ تھلگ

یاس و ہراس و جور و جفا سے الگ تھلگ اک سائباں ہے قہر خدا سے الگ تھلگ دیکھو اٹھا ہے وہ بھی علامت کے طور پر دست دراز دست دعا سے الگ تھلگ پروانۂ ہوا و ہوس ہاں برائے شوق کوئی مقام شمع وفا سے الگ تھلگ کب تک رہے گا وحشیٔ احساس و آگہی نا سازگار آب و ہوا سے الگ تھلگ مل جائے گا حصار عزیمت ...

مزید پڑھیے

میاں کے دوست

آئے میاں کے دوست تو آتے چلے گئے چھوٹے سے ایک گھر میں سماتے چلے گئے وہ قہقہے لگے کہ چھتیں گھر کی اڑ گئیں بنیاد سارے گھر کی ہلاتے چلے گئے بکواس ان کی سن کے شیاطین رو پڑے رویا جو ایک سب کو رلاتے چلے گئے نوکر نے آج چائے کے دریا بہا دئیے دریا سمندروں میں سماتے چلے گئے الماریوں میں سہم ...

مزید پڑھیے

پھول اور کانٹا

جھٹپٹے کے وقت شیشم کے درختوں کے تلے مل رہی تھی جب ہوا مسرور شاخوں سے گلے جب زمین خلد منظر کیف سے معمور تھی شام کی دیوی محبت کے نشے میں چور تھی شہر کی ویراں سڑک پر مجھ کو اک لڑکی ملی نیلگوں ملبوس میں مورت چھپی تھی نور کی ساتھ اپنے دھول اڑائے جس طرح موج ہوا جس طرح سے پھول کے ساتھ ایک ...

مزید پڑھیے

مرکز دہر ذات میری ہے

مرکز دہر ذات میری ہے رشک دنیا حیات میری ہے یہ زمیں یہ فلک یہ بحر و بر یہ حسیں کائنات میری ہے میری خاطر نکلتا ہے سورج دن ہے میرا یہ رات میری ہے ورق گل پہ شعر ہیں میرے بات بھی پات پات میری ہے سچ کی صورت کہی ہے جس نے بھی سچ تو یہ ہے وہ بات میری ہے کیا ہوا اگر نہیں مرا قبضہ پھر بھی ...

مزید پڑھیے

صبر کرتا ہوں تو احساس زیاں بولتا ہے

صبر کرتا ہوں تو احساس زیاں بولتا ہے چپ جو رہتا ہوں تو پھر سارا جہاں بولتا ہے خاک ہونے کو ہے اب دل کی خبر بھی لے لو دل سے اٹھتا ہوا آہوں کا دھواں بولتا ہے سن کے ہوتا ہوں سبک سیر کہ وہ شوخ کبھی لفظ ارزاں ہیں تو چن چن کے گراں بولتا ہے تیرے بارے میں سب انجان ہوئے جاتے ہیں پوچھتا ہوں ...

مزید پڑھیے

اجڑ کر بھی نشان‌ گلستاں خود کو سمجھتا ہوں

اجڑ کر بھی نشان‌ گلستاں خود کو سمجھتا ہوں لہو دیتا ہوں اس کو باغباں خود کو سمجھتا ہوں کمال شعر رکھتا ہوں جواں خود کو سمجھتا ہوں ہمیشہ سے جنوں کا رازداں خود کو سمجھتا ہوں سدا میں دل کی سنتا ہوں تو کرتا بھی ہوں من مانی وہ ناداں ہوں کہ پھر وجہ زیاں خود کو سمجھتا ہوں نکالا مجھ کو ...

مزید پڑھیے

آپ سے ہے مقابلہ در پیش

آپ سے ہے مقابلہ در پیش ہے عجب دل کو مرحلہ در پیش کتنی عیار ہے تری دنیا ہے اسی سے معاملہ در پیش حل تمہارے بغیر کیسے ہو زندگی کا ہے مسئلہ در پیش عشق والے ہیں مبتلائے غم حسن والوں کا ہے بھلا در پیش روبرو ہے وہ خوب رو جامیؔ ہے قیامت کا مرحلہ در پیش

مزید پڑھیے

غموں سے استفادہ کر رہا ہوں

غموں سے استفادہ کر رہا ہوں محبت کا اعادہ کر رہا ہوں ترے نقش قدم سے دور ہٹ کر الگ تعمیر جادہ کر رہا ہوں ترے ہر کام کو نیکی سمجھ کر زمانے سے زیادہ کر رہا ہوں ڈھکے تن بھی ملے عزت بھی جس سے وہ تہذیب لبادہ کر رہا ہوں کسی سے داد بھی لینی ہے مجھ کو بیان شعر سادہ کر رہا ہوں ہمیشہ سچ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1762 سے 6203