قومی زبان

سنو تو عارضۂ اختلاج رہنے دو

سنو تو عارضۂ اختلاج رہنے دو سکوں کے ٹھیک نہیں ہیں مزاج رہنے دو بحکم شاہ تقاریب امن کل ہوں گے شرر گزیدہ ہے ماحول آج رہنے دو تم اپنی نبض کی رفتار پر نظر رکھو خلاف گردش نو احتجاج رہنے دو کسی کو سایہ کسی کو گل و ثمر دے گا ہرا بھرا ہے درخت رواج رہنے دو زمین فکر و ہنر بانجھ ہے ابھی ...

مزید پڑھیے

ہم نہ ہوتے کاخ مشت خاک ہوتا غالباً

ہم نہ ہوتے کاخ مشت خاک ہوتا غالباً بے سماعت نغمۂ لولاک ہوتا غالباً آپ نے اچھا کیا تطہیر خواہش ہی نہ کی ورنہ زمزم چشمۂ ناپاک ہوتا غالباً آتش کرب و بلا نے ہوش کے ناخن لیے جوش میں سیل خس و خاشاک ہوتا غالباً خود ہی باطل ساز نے ہنگامہ آرائی نہ کی خوش لباس حق بھی دامن چاک ہوتا ...

مزید پڑھیے

کوئی نشہ نہ کوئی خواب خرید

کوئی نشہ نہ کوئی خواب خرید تیرہ بختی ہے ماہتاب خرید ہے مزین دکان لا ادری سو سوالوں کا اک جواب خرید کیسۂ طمع میں چھپا دینار پھر بلا خوف احتساب خرید بڑی مبسوط ہے کتاب خلق کوئی اچھا سا انتخاب خرید تجھ میں ہے بحر بیکراں کا وجود تجھ سے کس نے کہا حباب خرید طوطا چشمی کے عیب سے ہے ...

مزید پڑھیے

مطالعہ کی ہوس ہے کتاب دے جاؤ

مطالعہ کی ہوس ہے کتاب دے جاؤ ہمارے عہد کو صالح نصاب دے جاؤ شہیر علم کی جھولی کمال سے خالی خدا کے واسطے کوئی خطاب دے جاؤ کبھی تو حرمت سیرابئ نظر کھل جائے سمندروں کو طلسم سراب دے جاؤ حقیقتوں کو تماشا نہیں بناؤں گا منافقت کی ہوا ہے نقاب دے جاؤ تمہاری آخری امید بن کے لوٹوں ...

مزید پڑھیے

ہر اک فن میں یقیناً طاق ہے وہ

ہر اک فن میں یقیناً طاق ہے وہ ازل ہی سے بڑا خلاق ہے وہ جسے تم نے کہا تھا سم قاتل عزیزم اصل میں تریاق ہے وہ اسے سنگ تنفر سے نہ رگڑو سلگ اٹھے گا دل چقماق ہے وہ غروب صدق کا خدشہ ہے باطل کہاں منت کش اشراق ہے وہ جری ابن شرافت نیک لڑکا قبیلے بھر میں لیکن عاق ہے وہ بباطن آئنہ ہے قلب اس ...

مزید پڑھیے

صرف باتوں سے بہل جانے کا قائل تو نہیں

صرف باتوں سے بہل جانے کا قائل تو نہیں دل مرا سادہ ہے احساس سے غافل تو نہیں وار کرتا ہے نظر سے یہی قاتل تو نہیں چوٹ کھا کر جو تڑپتا ہے مرا دل تو نہیں شور و غل بڑھتا ہی جاتا ہے مرے کانوں میں دل میں جو ہے وہی طوفاں لب ساحل تو نہیں قافلے والوں نے بستر جہاں اپنے کھولے سچ تو یہ ہے وہ ...

مزید پڑھیے

آگہی جس مقام پر ٹھہری

آگہی جس مقام پر ٹھہری وہ فقط میری رہ گزر ٹھہری جس گھڑی سامنا ہوا تیرا وہ گھڑی جیسے عمر بھر ٹھہری چل پڑا وقت جب ترے ہم راہ شام ٹھہری نہ پھر سحر ٹھہری ہر ملاقات پر ہوا محسوس یہ ملاقات مختصر ٹھہری میرے گھر آئی تھی خوشی لیکن جا کے مہمان تیرے گھر ٹھہری ہر حسیں سے گزر گئی ...

مزید پڑھیے

دل ہے اپنا نہ اب جگر در پیش

دل ہے اپنا نہ اب جگر در پیش ہے تری چشم معتبر در پیش لوگ بیمار کیوں نہ پڑ جاتے جب کہ تھا حسن چارہ گر در پیش میں ہوا چاہتا تھا بے قابو زندگی ہو گئی مگر در پیش بات کہنی ہے اور اس میں بھی لفظ و معنی کا ہے سفر در پیش اہل نقد و نظر پریشاں ہیں جب سے جامیؔ کا ہے ہنر در پیش

مزید پڑھیے

آدم ہے نہ حوا ہے زماں ہے نہ زمیں ہے

آدم ہے نہ حوا ہے زماں ہے نہ زمیں ہے وہ کون ہے جو کن میں مگر پردہ نشیں ہے مانا کہ نہیں ہوں ترے الطاف کے قابل تو پھر بھی مرے حال سے غافل تو نہیں ہے بندہ ہوں ترا غیب پہ ایمان ہے میرا اوروں کو نہ ہو مجھ کو مگر تیرا یقیں ہے شاہوں کے بھی تاجوں کو لگا دیتا ہے ٹھوکر یہ بندۂ نا چیز جو اک ...

مزید پڑھیے

خود کو ممتاز بنانے کی دلی خواہش میں

خود کو ممتاز بنانے کی دلی خواہش میں دشمن جاں سے ملی میری انا سازش میں روح روشن نہ ہوئی اور نہ دل ہی بہلا وقت برباد کیا جسم کی آرائش میں آج معکوس ہے آئینۂ ایام جہاں نیم میں رنگ حنا زور تپش بارش میں خود کو منت کش قسمت نہ کرو دیدہ ورو گلشن شوق اگانا ہے تمہیں آتش میں دست بستہ ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1761 سے 6203