قومی زبان

مسکراؤں گا گنگناؤں گا

مسکراؤں گا گنگناؤں گا میں ترا حوصلہ بڑھاؤں گا روٹھنے کی ادا نرالی ہے جب تو روٹھے گا، میں مناؤں گا قربتوں کے چراغ گل کر کے فاصلوں کے دیے جلاؤں گا جگنوؤں سا لباس پہنوں گا تیری آنکھوں میں جھلملاؤں گا مہرباں ہوگا جب وہ جان کنولؔ اس کی گستاخیاں گناؤں گا

مزید پڑھیے

لو شروع نفرت ہوئی

لو شروع نفرت ہوئی خیریت رخصت ہوئی بند دروازے ہوئے برہنہ وحشت ہوئی ایک لمحے کی خطا صدیوں کی شامت ہوئی ذہن کی دیوار پر مفلسی کی چھت ہوئی عطر کے بازار میں پھولوں کی شہرت ہوئی تم نصیبوں سے ملے زندگی جنت ہوئی چلنا ٹریفک جام میں اب کنولؔ عادت ہوئی

مزید پڑھیے

تجھ سے میں مجھ سے آشنا تم ہو

تجھ سے میں مجھ سے آشنا تم ہو میں ہوں خوشبو مگر ہوا تم ہو میں لکھاوٹ تمہارے ہاتھوں کی میری تقدیر کا لکھا تم ہو تم اگر سچ ہو، میں بھی جھوٹ نہیں عکس میں، میرا آئنہ تم ہو بے خودی نے مرا بھرم توڑا میں سمجھتا رہا خدا تم ہو میں ہوں مجرم، مرے ہو منصف تم میں خطا ہوں، مری سزا تم ہو سیپ ...

مزید پڑھیے

زندگی ان دنوں اداس کہاں

زندگی ان دنوں اداس کہاں تجھ سے ملنے کی دل میں آس کہاں موسموں میں گلوں کی باس کہاں مفلسی میری خوش لباس کہاں لان سے پھول پتیاں اوجھل تیری یادوں کی نرم گھاس کہاں رتجگا پھول تارے چاند ہوا نیند بستر کے آس پاس کہاں

مزید پڑھیے

کبھی بلاؤ، کبھی میرے گھر بھی آیا کرو

کبھی بلاؤ، کبھی میرے گھر بھی آیا کرو یہی ہے رسم محبت، اسے نبھایا کرو تمہارے جسم کے اشعار مجھ کو بھاتے ہیں مری وفا کی غزل تم بھی گنگنایا کرو تمہارے وصل کی راتوں کی لذتوں کی قسم مجھے جدائی کے منظر نہ اب دکھایا کرو قریب آؤ، ان آنکھوں کی جستجو دیکھو حیات بن کے مرے ساتھ جگمگایا ...

مزید پڑھیے

کسی کی آنکھوں میں بے حد حسین منظر تھا

کسی کی آنکھوں میں بے حد حسین منظر تھا مرا بدن تھا جزیرہ وہ اک سمندر تھا وہ جلتے پنکھ لیے بڑھ رہا تھا میری طرف مری رگوں میں ٹھہرتا ہوا دسمبر تھا جو ایک جگنو سا بجھتا رہا دمکتا رہا وہ اجنبی تو شناساؤں سے بھی بہتر تھا برائے نام تو پانی تھا اس کے چاروں طرف مگر جو ٹھہرا تو صحرا میں ...

مزید پڑھیے

غم چھپانے میں وقت لگتا ہے

غم چھپانے میں وقت لگتا ہے مسکرانے میں وقت لگتا ہے روٹھ جانے کا کوئی وقت نہیں پر منانے میں وقت لگتا ہے ضد کا بستر سمیٹیے دلبر گھر بسانے میں وقت لگتا ہے جا کے آنے کی بات مت کیجے جانے آنے میں وقت لگتا ہے آزما مت، بھروسہ کر مجھ پر آزمانے میں وقت لگتا ہے یک بیک بھولنا ہے نا ...

مزید پڑھیے

ذرا ذرا سی بات پر وہ مجھ سے بد گماں رہے

ذرا ذرا سی بات پر وہ مجھ سے بد گماں رہے جو رات دن تھے مہرباں وہ اب نہ مہرباں رہے جدائیوں کی لذتوں کی وسعتیں نہیں رہیں وہ خوش خیال وصل بن کے میرے درمیاں رہے پہیلیاں بجھاؤ مت بہانے اب بناؤ مت یہیں کہیں نہیں تھے تم بتاؤ پھر کہاں رہے وہ میرے ساتھ کب نہ تھے گلہ کروں جو میں بھلا ذرا ...

مزید پڑھیے

پھر بھیگ چلیں آنکھیں چلنے لگی پروائی

پھر بھیگ چلیں آنکھیں چلنے لگی پروائی ہر زخم ہوا تازہ ہر چوٹ ابھر آئی پھر یاد کوئی آیا پھر اشک امڈ آئے پھر عشق نے سینے میں اک آگ سی بھڑکائی برباد محبت کا عالم ہی عجب دیکھا سو بار لہو رویا سو بار ہنسی آئی رہتا ہے خیالوں میں پھرتا ہے نگاہوں میں اک شاہد رنگیں کا وہ عالم رعنائی کس ...

مزید پڑھیے

یہ ٹوٹی کشتیاں اور بحر غم کے تیز دھارے ہیں

یہ ٹوٹی کشتیاں اور بحر غم کے تیز دھارے ہیں کناروں سے ہیں امیدیں نہ موجوں کے سہارے ہیں نہیں معلوم کیا کیا رنگ بدلے گی ابھی دنیا نگاہ وقت کے اے دل بہت نازک اشارے ہیں مرے آنسو تو جذب خاک ہو کر رہ گئے کب کے درخشاں ان کی پلکوں پر ابھی تک کچھ ستارے ہیں ہماری اور تمہاری زندگی میں فرق ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1716 سے 6203